- الإعلانات -

کیا تحریک انصاف حکومت گرنے والی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 5 سال پورے کرے گی یا نہیں ،یہ وہ موضوع ہے کہ جس پر آج کل ملک عزیز میں ہرطرف ایک عجیب بحث چھڑی ہوئی ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر لے گی اور کوئی کہتاہے کہ نہیں ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے اس بات پربحث ومباحثہ کا ایک بازار گرم ہے جس میں ہر کوئی اپنی اپنی دانست میں جو ذہن میں آتا کہہ اور بتا رہاہے ۔ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا میں بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے اور اس پر تجزیہ کار اور قارئین اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔ اکثر سیاستدان بھی میزائل کے گولے کی طرح اس حوالے سے اپنے اپنے بیانات داغ رہے ہیں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادبھی اپنی عقل ودانست میں ہاں یا ناں میں اپنی اپنی توجیحات پیش کررہے ہیں ۔ کوئی سمجھتا کہ حکومت اب گئی اورکوئی کہتا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ۔ کوئی خیال کرتا کہ یہ حکومت نکمی اوربے کار ہے اپنی مدت پوری نہیں کرپائے گی ۔ کوئی محسوس کرتاہے کہ حکومت اچھی اور بہتر چل رہی ہے اپنی مدت ضرور پوری کرے گی ۔ ہر پارٹی ،جماعت اور افرادکی جانب سے’’ ہ میں سے ہے یہ ملک اور ہ میں ہیں اس کے حقیقی پاسبان ‘‘کے نعرے بلند کیے جارہے ہیں ۔ ہر پارٹی ، جماعت اوراس کے افراد خود کو ٹھیک اور دوسرے کو غلط بتارہے ہیں ۔ سیاست کے اس پتلی تماشابازار میں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا اور کیا ہونے والا ۔ کون صحیح کون غلط ۔ کون رہنما کون رہزن ۔ کون سچا کون جھوٹا ۔ کون حمایتی کون مخالف ۔ کون کیا رُول ادا کرنے والا ۔ کس کی گرپ مضبوط، کس کی کمزور ۔ حکومتی و اپوزیشن دنگل میں کون جیت پائے گا اور کس کو ہوگا شکست و ریخت کا سامنا ۔ کون بازی سمیٹے گا ،کون گیم ہارے گا ۔ ایک میچ پڑا ہوا ہے حکومتی و اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ۔ بیان بازی کا بازار گرم ہے اور ایک دوسرے پر سنگ باری کی جارہی ہے ۔ ایک دوسرے کےلئے اخلاقیات سے عاری الفاظ بڑے دھڑلے سے بولے جا رہے ہیں ۔ ہر کوئی دوسرے پر الزامات کی بارش کیے اُسے گنہگار ثابت کرنے پر تلا ہوا اور خود معصوم ہونے کا ناٹک رچا رہا ہے ۔ ہر کوئی خود کو ایماندار گردانے دوسرے کو کرپٹ،بے ایمان اور چور کہہ رہا ہے ۔ چور سپاہی کا کھیل اس خوبصورتی کے ساتھ کھیلا جارہا ہے کہ سب سمجھتے،جانتے ہوئے بھی اس کھیل میں پتا نہیں چل رہا کہ کون چور کون سپاہی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حکومتی افراد ہویا اپوزیشن کے لوگ ،سبھی الاماشا اللہ چند ایک کو چھوڑ کر سب ہی کرپشن ،چور بازاری ،لوٹ مار کے حمام میں بُری طرح ننگے ہیں اور کسی طرح بھی سراہے جانے کے قابل نہیں ہیں ۔ سب کے ہاتھ کسی نہ کسی طرح سے کرپشن ،بے ایمانی، لوٹ مار ،حق تلفی اور فراڈ سے لتھڑے ہوئے ہیں جس کا اظہار گاہے بگاہے گھر کا بھیدی لنکاڈھائے یہ خود ہی کرتے رہتے ہیں کسی کواس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس ملک کی یہ بڑی بدقسمتی رہی ہے کہ اسے جو بھی ملا ،لٹیرا ہی ملا ۔ افسوس کے ساتھ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں کے احتساب کرنے والے ان سے بھی بڑے ڈاکو اور چور نکلتے اور چور بھی کہے چور چور والی بات ہوتی ہے ۔ اس ملک میں احتساب کے نام پر کبھی بھی کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی اس حوالے سے اچھی خبر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ پہلی بات تو احتساب ہوتا ہی نہیں ہے ۔ اگر ہوتا بھی ہے تو احتساب کے نام پر کھلواڑ ہی کیا جاتا ہے ۔ یہاں احتساب ہوتا بھی ہے تو محض ایک ڈھکوسلا اور فریب ہوتاہے ۔ ملزم چھوٹ جاتے اور احتساب کا عمل مشکوک اور مبنی بر انتقام ٹھہرتاہے ۔ ایک ہی واقعے پر کوئی نا اہل قرار پاکر گھر چلا جاتاہے اور کوئی ایسے ہی واقعے میں نا اہل ہوکر جیل کی کال کوٹھریوں کا حصہ بنتاہے ۔ مخالفین پر ستم ڈھائے جاتے ہیں اور منظور نظر افراد خصوصی شفقت کے حقدار ٹھہرتے ہیں ۔ کیا کیا بتاءوں ،کچھ بھی تو ڈھکا چھپا نہیں ،سب کچھ تو سب پر عیاں ،کیا ہورہا،کیا ہونے والا،کیا ہوگا،کیا نہیں ہوگا،سبھی تو جانتے،بس سبھی نے جانتے ہوئے بھی نا جاننے کا ڈرامہ اور سوانک رچا رکھاہے ۔ ان کرتا دھرتا افراد نے جوعوام کو بے وقوف اوراحمق بنانے کے فن سے بخوبی واقف ہیں ۔ سب اچھا کی اُمید دلاکر، جھوٹی طفل تسلیاں ، دلاسوں ، لاروں کی آڑ میں اچھا وقت بھی آئے گا ، کی اُمید پرعوام کو ٹرک کی بتی پیچھے لگا رکھا ہے ۔ نہ کسی سمت کا تعین ،نہ کسی راستے کا پتا ۔ نجانے کس اُمید ، یقین دہانی، بات، نئے پاکستان کی ’’شمع اساں ایسے لئی جگائی ہوئی اے‘‘کا اراگ الاپ رہے ہیں ۔ اندھیرے بھی وہی ہیں اور جگمگا بھی کوئی نہیں رہاہے ۔ نجانے وہ کون سی صورتحال کا عوام کو سامنا ہے جس کی کرنیں بھولے سے بھی ابھی تک لوگوں تک پڑنے والی نہیں ۔ مہنگائی اوربے روزگاری پر کنٹرول نہیں ہوپارہا،عوام بدحال اور بھوک کے ستائے ہوئے کملائے اور مُرجھائے ہوئے چہرے کےساتھ ادھر ادھر در بدر پھر رہے ہیں ۔ وسائل کی بندربانٹ اور لوٹ مار کا سلسلہ اب بھی تھما یا رکا نہیں ہے ۔ اداروں میں کرپٹ عناصر کی موجودگی اب بھی ہے اورکرپشن و بے ایمانی پر کوئی روک تھام نہیں ہے ۔ عوام پہلے کی طرح اب بھی چوکیوں ، تھانوں ، کچہریوں ، دفاتر میں ذلیل ورسوا ہو رہے اورمسیحا کوئی نہیں ہے ۔ روپوں کی چمک دھمک ،پیسوں کی جھنکاراور چکاچوند میں سب اچھا اور اس کے بغیر کچھ بھی ٹھیک ہوا نہیں ہے ۔ پہلے سے بھی بری صورتحال ہے ۔ اگر کچھ ٹھیک ہوابھی ہے تو اس کے ثمرات بھی عوام تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچ رہے ہیں ۔ ایسے میں اگر کوئی کہتاہے کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا میں کون سی اچھنبے والی بات ہے ۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی ہے اور پھر یہ ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ اگرکوئی کہتا ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر کے ہی جائیگی اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے تواس میں بھی کوئی حیرت والی بات نہیں ہے اس لیے کہ جب سب ملکی ادارے ایک پیچ پرہوں اورملک وقوم کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار ادا کیے حکومت کیساتھ بھرپورتعاون کی فضاء قائم کرتے ہوئے اسے ہر طرح سے مکمل سہارادئیے ہوئے کھڑے ہوتوکیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم یا اس کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے ۔