- الإعلانات -

دہشتگردی کے تازہ واقعات ،بھارت اورفیٹف

اکستان ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکار چلا ;200; رہا ہے،جس میں اب تک ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے ۔ گزشتہ روز بھی شمالی وزیرستان میں افواج پاکستان کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک افسر سمیت چھ جوان شہید ہو گئے جبکہ بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں او جی ڈی سی ایل کے قافلے پر ہونے والے دوسرے حملے میں ایف سی کے ;200;ٹھ اہلکار شہید ہو گئے ۔ دہشت گردی کے یہ دونوں واقعات ایک ہی روز میں ایک ایسے وقت میں ہوئے جب اگلے ہفتے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کرنے کیلئے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا نہایت اہم اجلاس21اکتوبر سے شروع ہونے والا ہے ۔ پاکستان کے خلاف ایف اے ٹی ایف کا یہ جال بھارت کی مکروہ چالوں کا نتیجہ ہے،گزشتہ روز کے دہشت گردی کے واقعات انہی چالوں اور سازشوں کا نتیجہ ہیں جنکا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی پابندیوں کی زد میں لانا ہے ۔ جون 2018 میں بھارت کی مسلسل منفی لابنگ کے باعث فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کر لیا تھا ۔ ایف اے ٹی ایف ایک عالمی ادارہ ہے جس کا قیام1989 میں عمل میں ;200;یا تھا ۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو منی لانڈرنگ ، ٹیرر فنانسنگ اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے ۔ پاکستان کو اس سلسلے میں ضروری قانونی اقدامات اٹھانے کیلئے اکتوبر 2019 تک کا وقت دیا گیا تھا ۔ پاکستان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اس عرصہ کے دوران ضروری قانون سازی اور اس پر عملدر;200;مد کےلئے ایک موثر طریقہ کار مرتب کر لے گا ۔ پاکستان نے وعدے کے مطابق اس عرصہ میں کئی اقدامات اٹھائے جن کو دیکھتے ہوئے اکتوبر 2019 میں ہونےوالے اجلاس میں پاکستان کو مزید چارماہ کی مہلت دے دی گئی ۔ پھر فروری 2020 میں ہونےوالے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان نے دیے گئے27مطالبات میں سے 14 پر عملدر;200;مد کیا ہے، تاہم فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رکھا اور کہا کہ اس حوالے سے باقی ماندہ مطالبات پر بھی پیشرفت دکھائی جائے ۔ اب تین روز بعد 21 اکتوبر کو ہونےوالے اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ باقی ماندہ معاملات پر پاکستان نے کہاں تک پیش رفت کی ہے ۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان پر اس حوالے سے بہت دبا تھا ۔ تاہم پاکستان نے تقریباً تمام مطلوبہ شرائط کو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے قانون سازی کے ذریعے پورا کر لیا ہے،قانون سازی کا مرحلہ بھی کافی جانگسل تھا ۔ گزشتہ ماہ وسط ستمبر میں ہی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پورا کرنے کیلئے قانون سازی کا عمل مکمل کر لیاتھا ۔ فیٹف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے پاکستان نے انتظامی سطح پر 22 سے زیادہ شدت پسند تنظیموں پر پابندی ، ان کے رہنماءوں کی گرفتاریاں ، اثاثوں کی ضبطگی کے علاوہ قانون سازی کے شعبے میں سب سے اہم پیشرفت کی ہے ۔ حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے سے متعلق پہلے سے موجود قوانین میں ترمیم کیلئے8 بل بھی منظور کئے، اس اہم قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے حکومت اپوزیشن کے 24پارلیمنٹرینز پر مشتمل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی ۔ مزیدجو بل رہ گئے تھے وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لئے گئے ۔ مشترکہ اجلاس میں منظور ہونےوالے بلز دور رس اثرات کے حامل ہیں ۔ خاص طور پر انسداد منی لانڈرنگ کے بل کی منظوری سے منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے ایک موثر نظام قائم کیا جائیگا ۔ ابھی چند روز قبل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیا پیسفک گروپ نے فروری 2020 تک کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے اقدامات کوناکافی قرار دیدیا ہے لیکن یہ رائے 8ماہ پرانے حالات کی روشنی میں قائم کی گئی ہے جبکہ اس دوران فیٹف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے پاکستان نے بھرپور عملی اقدامات کے علاوہ قانون سازی بھی کی ہے،اس لئے ضروری تو یہ تھا کہ سات اٹھ ماہ قبل کی رپورٹ کو سامنے رکھ کر ایسی رائے دینے کی ضرورت نہیں تھی،یقینا یہ اگلے ہفتے ہونےوالے اجلاس کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے،اسی طرح حالیہ دہشت گردانہ حملے بھی انہی کوششوں کا تسلسل ہیں ۔ خدانخواستہ فیٹف اے پی جی کی رپورٹ سے متاثر ہو کر پاکستان کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتا ہے تو یہ اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو گی ۔ پاکستان نے اس معاملے میں اچھی پیش رفت کی اورقانون سازی بھی کر چکا ہے جو قابلِ تعریف ہے ۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل در;200;مد کیا ، بینکاری کے شعبے سے متعلق قوانین میں ترمیم کی گئی اور کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کردیئے گئے ۔ یہاں تک کہ ان تنظیموں کےخلاف بھی سخت کارروائی کی گئی جن کا امریکہ نے اعتراف کیا ۔ سابقہ اجلاسوں میں ایف اے ٹی ایف نے سٹیٹ بینک ;200;ف پاکستان اور ایس ای سی پی میں اصلاحات سمیت پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا ۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سب مشق پاکستان کو دباوَ میں رکھنے کےلئے ایک سیاسی ٹول کے طور پر تو نہیں استعمال کی جارہی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فیٹف کے ;200;ئندہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوانے کیلئے بہت سرگرم ہیں اور اس مقصد کیلئے پاکستان نے اپنے ایکشن پلان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے فیٹف کے رکن ممالک سے رابطے کئے ہیں لیکن ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارت بھی سرگرم ہے ۔ جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو کہ بھارت ریاستی سطح پر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہے ۔ اس کے 44بینکوں کے بارے جو تازہ رپورٹس سامنے آئی ہیں وہ بھی سوالیہ نشان ہیں ۔ ایک ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کا مشتبہ لین دین پر فیٹف نے ابھی تک کوئی نوٹس نہیں لیا ہے جبکہ پاکستان کی صرف ایک مبینہ ٹرانزیکشن کو بنیاد بنا کر اسے گرے لسٹ میں ڈالاگیا تھا ۔ یہ پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کا ثبوت ہے ۔ بھارت کئی سال سے داعش اور ٹی ٹی پی کو پاکستان کےخلاف استعمال کرنے کےلئے مالی معاونت کے علاوہ تربیت بھی دے رہا ہے ۔ بھارت کے قومی سلامتی کے بھارتی مشیر اجیت ڈوول داعش کے سربراہ سے ملنے کےلئے خود عراق گئے کیا یہ بات فیٹف کی ٹیم کو نہیں معلوم،کلبھوشن یادیو کی رنگے ہاتھوں گرفتاری سے کیا دنیا بے خبر ہے ۔ پاکستان نے فیٹف کی عائد کردہ شرائط پوری کرنے کےلئے جو اقدامات اٹھائے ہیں ، ان کے بارے میں عالمی برادری کو بھی ;200;گاہ کرنا چاہئے،ایسا نہ ہو کہ اس ادارے کی یکطرفہ کارروائی کے بعد مشکلات کے نئے در کھل جائیں ۔