- الإعلانات -

ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

گزشتہ سے پیوستہ

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کو دوسال قبل ختم کر دیا تھا ۔ قانون کے مطابق چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات ہونا تھے لیکن یہ انتخابات نہیں ہوئے لہٰذا راجہ فاروق حیدر کی سیاسی اہمیت یہ ہے کہ وہ پورے خطہ جموں و کشمیر کے واحد منتخب لیڈر ہیں اور بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی بساط سے بڑھ کر آواز اُٹھاتے رہتے ہیں ۔ بھارتی حکومت کی راجہ فاروق حیدر سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ ستمبر 2018 میں لائن آف کنٹرول کے قریب عباس پور کے علاقے میں بھارتی فوج نے اُن کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی اور گولے برسائے ۔ راجہ فاروق حیدر اِس قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ۔ وہ ملٹری ہیلی کاپٹر میں نہیں بلکہ سویلین ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے اور ایل او سی کے آس پاس یہ روایت ہے کہ سویلین ہیلی کاپٹروں پر حملہ نہیں کیا جاتا لیکن راجہ فاروق حیدر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ۔ بھارتی فوج اُن کے حسب نسب سے بھی واقف ہے ۔ اُن کے والد راجہ محمد حیدر خان اُن کشمیری رہنماءوں میں شامل تھے جنہوں نے 1958 میں سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کیا اور گرفتار کر لئے گئے ۔ اُن کی والدہ محترمہ سعیدہ خان کا تعلق سرینگر سے تھا اور وہ آزاد کشمیر اسمبلی کی پہلی خاتون رکن تھیں ۔ اِنہی کی وجہ سے راجہ فاروق حیدر کشمیری زبان بھی بولتے ہیں ۔ کیا اِس راجہ فاروق حیدر پر لاہور پولیس نے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے کشمیریوں کے دشمن نریندر مودی کو خوش کیا;238; یہ پہلو باعثِ اطمینان ہےکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے اکثر وزراء بغاوت کے اس مقدمے کو آگے چلانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو اس مقدمے کا بہت سیاسی فائدہ ہوا ہے جب اس ملک میں ہر طرف ’’غدار‘‘ ہی ’’غدار‘‘ ہیں اور کوئی پتا نہیں کہ جو چند ایک آج محب وطن ہیں ، کل ان کو بھی ’’غدار‘‘ ڈکلیئر کردیا جائے تو پھر کیوں نہ اس ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی کہانی میں پہلے کالم میں لکھ چکا ہوں کہ کس طرح عمران خان صاحب نے ان کو بلا کر حکم دیا تھا کہ وہ جج ارشد ملک کےخلاف پریس کانفرنس کرنے والی مریم نواز اور اُن کے ساتھ بیٹھے تمام مسلم لیگیوں پر آرٹیکل 6کا مقدمہ بنا دیں اور جب اُنہوں نے انکار کیا تو اُن کو فارغ کردیا گیا ۔ اس وقت پولیس، عدالتوں اور میڈیا کا سارا وقت غداری اور حب الوطنی کے فیصلوں کی مشق میں ضائع ہورہا ہے ۔ اس لئے میری تجویز ہے کہ عمران خان، فروغ نسیم کے ذریعے قانون بنا کر آرڈیننس جاری کردیں کہ عمران خان، فروغ نسیم اور زلفی بخاری وغیرہ کے سوا اس ملک کے باقی سب سویلین غدار ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ ایک قانون اور بنا دیا جائے کہ جس میں عمران خان کی طرف سے ہندوستان، برطانیہ اور پاکستان کے اندر فوج اور اس کی ایجنسیوں کے خلاف کی گئی تقاریر اور انٹرویوز کو دیکھنا یا دکھانا بھی غداری قرار دیا جائے ۔ اگر یہ دوسرا قانون نہ بنایا گیا تو سونامی دور کے معیارات اور پیمانوں کے مطابق جلد یا بدیر خود عمران خان بھی ’’غدار‘‘ قرار پائیں گے ۔ ویسے تاریخ کا سبق اور مکافات عمل کا قانون بھی یہی ہے کہ مہرہ بن کر جس بھی لیڈر نے دوسروں پر غداری کے الزامات لگائے، آنے والے وقت میں وہ ضرور خود اس کا شکار ہوئے اگرچہ سیاست میں اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں سیاست بازی میں ایک دوسرے کیخلاف پوائنٹ سکورنگ بھی کرتی ہیں تاہم ہماری سیاست کا یہ المیہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو ساری حدود پھلانگ کر عملاً ذاتی دشمنیوں میں بدل دیا جاتا ہے جبکہ حکمران جماعتوں کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے اور دیوار سے لگانے کے اقدامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی جس کیلئے بالعموم حکومتی انتظامی مشینری کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو غیرجمہوری اور آمرانہ جرنیلی ادوار میں قید‘ کوڑوں اور پھانسیوں کا سزاوار کرنا تو انکی مجبوری ہوتی ہے کہ کسی حکومت مخالف سیاست سے انہیں اپنے اقتدار کا سنگھاسن ڈولتا نظر آتا ہے مگر اپنے مخالفین کیخلاف ایسی ہی پالیسی کسی جمہوری دور حکومت میں اختیار کی جائے تو اس کا نقصان بالآخر پورے سسٹم کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ ماضی میں ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہونیوالی محاذآرائی کی ایسی سیاست ہی جمہوریت مخالف عناصر کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا موقع فراہم کرتی رہی ہے جس کے بعد باہم دست و گریباں سیاست دان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بحالی جمہوریت کی جدوجہد کرنے پر مجبور ہوتے رہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے قومی سیاسی قائدین نے ماضی کی ایسی غلطیوں سے اب تک سبق نہیں سیکھا اور جس شاخ پر ان کا آشیانہ ہے‘ وہ اسی کو کاٹنے کے درپے رہتے ہیں ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں کیخلاف بغاوت کے حالیہ مقدمے کا اندراج بھی سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کا شاہکار نظر آتا ہے جس سے جمہوریت کی عملداری پر بہرصورت کوئی خوشگوار اثرات مرتب نہیں ہونگے ۔ سابق حکمرانوں کیخلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کا جواز تو پیش کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی عملداری ہو تاہم حزب مخالف کے سیاست دانوں کو ملک سے غداری کے سرٹیفکیٹ دینا اور انہیں بغاوت کے مقدمات میں ملوث کرنا سیاسی اختلافات کو اس انتہاء تک لے جانے کی کوشش سے تعبیر ہوگا جہاں ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں شاید دانتوں سے کھولنا بھی مشکل ہو جائیگا ۔ وزیراعظم عمران خان نے متذکرہ مقدمے پر لاعلمی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے تو انہیں ان عناصر کا ضرور کھوج لگانا چاہیے جو محض اپنے مفادات کی خاطر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے راستے ہموار کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس نوعیت کے اقدامات کو یقیناً قوم کی جانب سے بھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے وزیراعظم پاکستان اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس ایف آئی آر کو فل الفور کالعدم قرار دے کر مخاصمانہ ریت کوملک کے وسیع تر مفادکے تناظر میں بہتر بنائیں ۔