- الإعلانات -

پاکستان کا امن دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے

شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں فوجی قافلہ پر دہشتگردوں کے حملہ کے نتیجے میں 6 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے ۔ دوسری طرف گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں اوجی ڈی سی ایل کے قافلے پر حملے میں 7 بہادراہلکار اور 7 گارڈزنے جام شہادت نوش کیا ۔ او جی ڈی سی ایل کا قافلہ گوادر سے کراچی جا رہا تھا ۔ جوابی کارروائی میں دہشتگردوں کا بھاری نقصان ہوا ۔ سیکیوڑتی فورسز نے موثر کارروائی کے بعد قافلے کو بحفاظت کراچی پہنچا دیا ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں فوجی قافلے پر بارودی سرنگ کے ذریعے کیے گئے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے قافلے پر بارودی سرنگ کے ذریعے حملہ دشمن کی بزدلانہ حرکت ہے ۔ پاکستان کا امن اور استحکام ملک دشمن عناصر کی آنکھ میں کھٹکتا ہے ۔ آج پوری قوم، دہشت گردی کے اس عفریت کو کچلنے کیلئے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ دہشتگردی کا یہ واقعہ ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے ۔ کوسٹل ہائی وے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع اس بات کی علامت ہے کہ دشمن بلوچستان اور اس کے عوام کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتا ۔ دہشتگردی کے واقعہ میں ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان کے علاقہ میر علی میں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد وسیم زکریا کو اپنے 5 ساتھیوں سمیت ہلاک جبکہ 10 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا تھا ۔ آریانہ گروپ کے سربراہ کمانڈر وسیم کا تعلق میر علی کے علاقہ حیدر خیل سے تھا جو دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں مطلوب تھا ۔ اس سے قبل بھی سرحدی علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن کی سالمیت اور عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا ۔ 27 ستمبر کو پیٹرولنگ کے دوران دہشت گردوں اور پیٹرولنگ پارٹی کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ کیپٹن عبداللہ ظفر نے جام شہادت نوش کیا ۔ 20 ستمبر کو شمالی وزیرستان کے اسپیل جا گاؤں کے قریب خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے آپریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ 13 ستمبر کو سیکیورٹی فورسز نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کی ضلعی سرحد کے قریب کارروائی کے دوران دہشت گرد کمانڈر احسان اللہ سنڑے اور دیگر 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا ۔ 12 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل میرانشاہ میں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کا 33 سالہ سپاہی ساجد شہید ہوگیا تھا ۔ 7 ستمبر کو شمالی وزیر ستان کے علاقہ میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے خفیہ آپریشن میں مطلوب دہشت گرد وسیم زکریا سمیت 5 دہشت گرد ہلاک اور 10 کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ 4 ستمبر کو شمالی وزیرستان میں شگانشپا روڈ پر گھیریوم سیکٹر میں سڑک کی مرمت کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور پاک فوج کے دستے کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے ریموٹ کنٹرول دھماکا کیا گیا ۔ دھماکے میں 23 سالہ لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد، 33 سالہ نائیک محمد عمران اور 30 سالہ سپاہی عثمان اختر نے جام شہادت نوش کیا ۔ پاکستان کے خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں اور خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی، بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے پیچھے بھارتی ایجنسیوں کا پتہ لگایا ہے اور اس کے ٹھوس ثبوت بھی حاصل کر لئے ہیں ۔ بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر غیر ملکی میڈیا نے وطن سلامتی کے اداروں کے خلاف کردار کشی شروع کر دی جس کانوٹس لیتے ہوئے اداروں نے چھان بین شروع کی اور یہ پتہ چلا کہ بعض افراد تو کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں ۔ نجانے وہ کہاں ہیں ۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی ایجنسی را نے بلوچستان کے حالات خراب کرنے اور عوام کو حکومت کے خلاف ابھارنے کےلئے اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلکنگ شروع کر رکھی ہے اس کا الزام حکومتی اداروں پر لگایا جاتا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی جا رہی ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی را کے نیٹ ورک کے توڑ میں مصروف ہیں ۔ بعض اداروں کا خیال ہے کہ بھارتی کیمپ میں جانے والے اور اغوا ہونے والے بلوچ لیڈروں اور دیگر افراد کو جو افغانستان کے کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ را کے زیر ہدایت ہو رہا ہے ان کی تفصیلات پاکستانی میڈیا پر جاری کی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ہمارے اندر رہنے والے ہم ہی سے کچھ لوگ بھارت اور اس کی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ اس امر کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ براہمداغ بگٹی اور اس کے ساتھی ریاض گل بگٹی اور حمزہ مری اکثر بھارت آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ لوگ بھارت کا سفر افغانستان سے افغان دستاویزات پر دوسرے ناموں سے کرتے ہیں ۔ قوم مسلح افواج اور پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی مقروض ہے جنہوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں شہادت پائی ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ ریاست کا ہر ادارہ اور قوم دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کےلئے متحد ہے اور آپریشن ضرب عضب اس کے منطقی انجام تک جاری رہے گا ۔ دہشت گردی کے خاتمہ کےلئے اس قومی جدوجہد میں پوری قوم ‘پولیس‘ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔