- الإعلانات -

سپہ سالار کا امےد افزاء ،جاندار اور متوازن خطاب

رےاستی استحکام کا انحصار اداروں کے استحکام ،توانائی اور ہم آہنگی پر مبنی ہوتا ہے ۔ جتنے توانا ادارے ہوں گے اتنی ہی توانا اور صحت مند رےاست ےا مملکت ہو گی ۔ جتنی ہم آہنگی سے ےہ اپنا اپنا کردار ادا کرےں گے اتنی ہی خوش اسلوبی سے مملکت کے امور شروع ہو جائےں گے ۔ جہاں اےک دوسرے کے کام مےں مداخلت ےا مناقشے کی فضاء قائم ہوئی امور مملکت متاثر ہونا شروع ہو جائےں گے ۔ معاشرے اداروں کے بل پر قانون کی بالا دستی سے سرفراز ہوتے ہےں ۔ محکم ادارے اخلاق کو پختہ کرتے ، ماحول کو استوار کرتے اور اےسے مردان کار کو جنم دےتے ہےں جو صداقت کے علمبردار ہوں اور اس کےلئے اےثار کر سکےں ۔ ےہ ادارے جو کسی قوم کا بادبان ،نشان اور سرماےہ ہوتے ہےں ۔ وہ سمت کا تعےن کرتے ،سماج کو متتشر ہونے اور بھٹکنے سے بچاتے ہےں ۔ ےہ خرابےوں کو دور کرتے ،امراض کا علاج کرتے اور بحرانوں مےں سلامتی کی راہ تلاش کرتے ہےں ۔ گوجرانوالہ کے پبلک جلسے مےں پی ڈی اےم کی عوامی پذےرائی مےں رےاستی اداروں کو رگےدنے کی افسوس ناک روش اپنائی گئی ۔ دراصل عوام کے روٹی ،روزگار کے گھمبےر مسائل کی طرف توجہ نہ دے کر حکومت نے اپوزےشن کے تن مردہ مےں خود جان ڈالی ہے ۔ انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے اپوزےشن قائدےن نے عوام کی جانب سے پذےرائی ملنے پر اپنے مخصوص اےجنڈا کے مطابق ان رےاستی اداروں کو اپنے ہدف پر رکھ لےا ہے جو ملکی سلامتی اور عوام کی زندگےوں کے تحفظ کےلئے اپنی جانےں نچھاور کرنے سے بھی گرےز نہےں کرتے ۔ اپوزےشن جماعتوں کی بلےم گےم تو ہمارے سےاسی کلچر کا حصہ ہے مگر اےک دوسرے کی مخالفت مےں مقدس رےاستی اداروں کو گھسےٹنا انتہائی افسوس ناک اور بد قسمتی ہے ۔ موجودہ اپوزےشن حکومت مخالف تحرےک کی آڑ مےں عساکر پاکستان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ملکی سلامتی کے معاملات اور قومی مفادات پر زد پڑ سکتی ہے ۔ ان جلسوں مےں فوج کا پوسٹ مارٹم اےسے کےا جا رہا ہے جےسے وہ دشمن کی فوج ہو ۔ جب اپنی ہی دفاعی قوت پر سنگ باری کو مردانگی اور جراَت اظہار کا اعلیٰ ترےن درجہ دےا جائے تو حالت جنگ مےں سانس لےتی قوم اےک ناگہانی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے ۔ تےن مرتبہ وزےر اعظم کا حلف اٹھانے والا شخص اقتدار سے علےحدگی کے دکھ مےں اپنی تقارےر مےں پاکستان دشمن طاقتوں کے بےانیے کو آگے بڑھا رہا ہے ۔ نواز شرےف کا جو تےن بار ملک خداداد پاکستان کا وزےر اعظم رہا فوج کو ہر گناہ کا مورد الزام ٹھہرانا ہر گز درست عمل نہےں ہے ۔ ان کا ےہ عمل ملک مےں انارکی پھےلانے ےا پھر مارشل لاء کی حماےت کرنے کے مترادف ہے ۔ ان کا ےہ عمل جب ہم نہےں تو کوئی بھی نہ ہو کا غماز ہے ۔ خدارا آج اگر آپ وزےر اعظم نہےں رہے تو ملک کو ڈیسٹبلائز کرنے کی روش تو اختےار نہ کرےں ۔ کوئی دن اےسا نہےں گزرتا کہ پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی دہشت گردی کے خلاف مزاہمت پر شہادتےں نہ ہو رہی ہوں ۔ نواز شرےف اپنی تقارےر مےں ےہ تاثر دےنے کی کوشش کر رہے ہےں کہ پاکستان مےں جمہورےت خطرے مےں ہے اور رےاستی ادارے عالمی رواےات اور اصولوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہےں ۔ اےسے پاکستان مخالف اقدامات سے تو بھارت جو ہماری سلامتی کے درپے ہے اسے ہی فائدہ پہنچے گا ۔ اےک اےسے وقت جب فوجی قےادت ماضی کی غلطےوں کی تلافی اور اصلاح کےلئے بڑی سنجےدگی سے کوشاں ہے اس کی نہ جانے کن ذاتی مفادات کے زےر اثر کردار کشی کو بطور مشن اپنا لےا گےا ہے ۔ بلاشبہ فوج کی سےاست مےں بار بار مداخلت نے سول ادارے بہت کمزور کر دیے اور جمہورےت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاےا ہے مگر موجودہ عسکری قےادت پر تےر اندازی کا اب کےا جواز ہے جو پورے شعور کے ساتھ سےاسی آلائشوں سے کنارہ کش دکھائی دےتی ہے ۔ مےڈےا مےں بھی کچھ افراد چھپے لفظوں مےں اپنے ٹاک شوز مےں فوج کو بدنام کرنے کی سعی کرتے ہےں جس کی قانون اور آئےن اجازت نہےں دےتا لےکن مسئلہ صرف مےڈےا کا نہےں بلکہ ان حکومتی اداروں کا قصور ہے جن پر آئےن اور قانون ےہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ مےڈےا کو حدود سے متجاوز نہ ہونے دےں ۔ ہمارے آئےن کے مطابق دو رےاستی اداروں جن مےں عدلےہ اور افوج پاکستان شامل ہےں کو بدنام نہےں کےا جا سکتاجب آئےن واضح ہے ،قانون موجود ہے ، متعلقہ ادارے قانون کی عملداری کےلئے موجود ہےں تو پھر گلہ کس سے کےا جائے ۔ بلاشبہ الےکٹرانک مےڈےا مےں کثےر تعداد اےسے اےنکرز کی ہے جو صحےح تناظر مےں بات کرتے اور توازن رکھنے مےں اہم کردار ادا کرتے ہےں ۔ ارادہ تو تھا کہ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوےد باجوہ کا پاکستان ملٹری اکےڈمی مےں کئے گئے خطاب پر ہی بات کی جاتی لےکن موجودہ حالات کے تناظر مےں قلم اپنی روانی مےں بہہ گےا ۔ پاکستان کی فوج کو مسلسل تنقےد کا نشانہ بنانا ہی مقصد ٹھہرا لےا گےا ہے ۔ اےک سوچی سمجھی سکےم کے تحت ےہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاک فوج اور عوام کے درمےان بد اعتمادی اور ماےوسی پےدا کی جائے ۔ ہندوستان کی خفےہ اےجنسی را نے پاکستان کے خلاف ہائےبرڈ وار شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا ہے ۔ پاکستان کے سپہ سالار نے اپنے خطاب مےں ان تمام مسائل کو اپنا موضوع بناےا جن کے بارے مےں الےکٹرانک اور سوشل مےڈےا مےں بے بنےاد پروپےگنڈہ کےا جا رہا ہے ۔ جنرل قمر جاوےد باجوہ نے کہا کہ ہائےبرڈ وار کا مقصد پاکستان کے عوام کے ذہنوں سے امےد ختم کر کے پاکستان کے مستقبل کے بارے مےں ماےوس کر دےا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان آئےن کے مطابق منتخب حکومت کی مدد جاری رکھے ہوئے ہےں جو آئےن اور قانون کا تقاضا ہے ۔ پاک فوج بطور ادارہ قوم کے سامنے جوابدہ ہے اور ےہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ ہم اپنی کامےابےوں اور ناکامےوں کے باوجود بہترےن کارکردگی پےش کرتے ہےں ۔ پاکستان کے عوام نے رےاستی اداروں سے ملکر کرونا، سےلاب اور ٹڈی دل جےسی آزمائشوں کا مقابلہ کےا ۔ ہمارے اقدامات آئےن اور قومی مفادات کی روشنی مےں ہوتے ہےں ۔ ا;203; کے فضل سے آج پاکستان کا دفاع مضبوط ہے ۔ جب بھی ہمےں کہا جاتا ہے ہم آئےن اور قانون کے مطابق حکومت سے تعاون کرتے ہےں ۔ ہم نے ہمےشہ قومی مفادات کو انفرادی ،گروہی اور ادارہ جاتی مفادات کے تابع رکھا ہے ۔ سپہ سالار قمر جاوےد باجوہ نے کہا کہ پاکستان مےں بہت سی آوازےں بلند ہوتی رہتی ہےں مگر ان مےں بھی محبت اور حب الوطنی کے جذبات موجود ہوتے ہےں ،پاک فوج کے جوانوں کو ان آوازوں پر توجہ دےنی چاہیے ۔ ہمےں عوام کی آواز اور رائے کو سننا چاہیے اور ضرورت کے مطابق ان پر توجہ دےنی چاہیے ۔ اختلاف رائے سے ےہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم بحےثےت قوم زندہ ہےں اور آگے بڑھ رہے ہےں ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو کئی مواقع پر شکست دے کر اسے حےران کر دےا ۔ پاکستان کے سپہ سالار نے اپنے خطاب مےں آئےن ،قانون اور جمہورےت سے اپنی لازوال وابستگی کا اظہار کےا ۔ آرمی چےف کی تقرےر سے کسی طور اختلاف نہےں کےا جا سکتا ۔ ان کا ےہ بےان اےک انقلابی دستاوےز کی حےثےت رکھتا ہے ۔ ان کا ےہ اعلان کہ فوج نے آئےن و قانون سے ہٹ کر کچھ نہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے ان کے جمہورےت پر کامل اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔ آرمی چےف کے بےان اور پےغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پاک فوج کا ادارہ ہر لحاظ سے اےک معےاری ادارہ بن چکا ہے جبکہ سوےلےن ادارے ابھی تک اس مقام تک نہےں پہنچ سکے ےہی وجہ ہے سول اور عسکری اداروں کے درمےان توازن نظر نہےں آتا جو کہ آنا چاہیے ۔ ہمارے ہاں سول اداروں کا توازن اس حد تک بگاڑ دےا گےا ہے کہ ہر ادارہ اپنا کام صحےح طرےقے سے انجام نہےں دے سکتا اس کے بگاڑ مےں ہماری سےاسی اشرافےہ کا زےادہ عمل دخل ہے ۔ خدا کرے کہ پاکستان کے سےاستدان اپنی کارکردگی پر توجہ دےتے ہوئے سول اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے مےں اپنا فعال کردار ادا کر سکےں ۔