- الإعلانات -

سیاسی حکمران ۔ ہمارے بھی ہےں مہربان کیسے کیسے

کراچی میں اپوزیشن کے جلسے کے موقع پر بعض حلقوں کی جانب سے قومی سلامتی کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا اسے محتاط ترین الفاظ میں بھی قابل مذمت طرزعمل ہی قرار دیا جا سکتا ہے ;180; ۔ علاوہ ازیں مزار قائد پر بھی جو روش اپنائی گئی اس کو بھی مستحسن طرز عمل قرار دیا جا نا مشکل ہی نہےں بلکہ نا ممکن ہے ۔ اسی تناظر میں یہ امر قدرے حوصلہ افزا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے حکم پر نواز شریف کے داماد کی گرفتاری بھی عمل آئی ۔ بہر کیف اس صورتحاک کے کیا اثرات ہوں گے ;238;یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ مبصرین کے مطابق عوام کو کرپشن فری سوساءٹی سے زیادہ اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل سے سروکار ہے اس لئے عوام کو ریلیف دینا ہی حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں میاں صاحب نے غضب کے عالم میں وہ سب کچھ کر ڈالا جو نہ ہوتا تو بہتر تھا ۔ اقتدار کی سیاست میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین بلیم گیم تو اگرچہ ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ ہے مگر ایک دوسرے کی مخالفت میں محترم ریاستی اداروں کو گھسیٹنا انتہائی افسوسناک ہے اور بدقسمتی سے موجودہ اپوزیشن حکومت مخالف تحریک کی آڑ میں بالخصوص افواج پاکستان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ملکی سلامتی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھیں اور اس طرح ہمارے اس ازلی مکار دشمن بھارت کو ہماری اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کریں جو شروع دن سے ہماری سلامتی کے درپے ہے ۔ جناب نوا ز شریف صاحب نے اپنی کھربوں کی کرپشن ہڑپ کرنے کے لئے توپوں کا رخ پاک فوج کی طرف کر لیا ہے مگر موصوف کی یہ کوشش اس وجہ سے کامیاب ہوتی نظر نہےں آرہی کیوں کہ سبھی جانتے ہےں کہ پاکستان میں صرف ایک ہی ادارہ ایسا ہے جس کی ساکھ پر بالعموم کوئی انگلی نہےں اٹھا سکتا ۔ ایسے میں آفرین ہے ان حلقوں اور لوگوں پر جو پاک فوج کو ہر وقت تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہےں ۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ پی پی اور ن لیگ نے پاکستان کو اپنی خاندانی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور پچھلی کئی دہائیوں نے ان دو پارٹیوں نے اقتدار پر قبضہ قائم رکھنے کےلئے باریاں باندھ رکھی ہےں ۔ گویا عوام کے وسائل پرصرف ان کا ہی حق ہے ایسے میں غریب آدمی جائے تو کہاں ۔ جناب ان دونوں پارٹیوں نے اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کی فلاح و بہود کےلئے رتی بھر بھی کام نہےں کیا اور جب پچھلے دو سال سے ایک شخص کچھ اچھا کرنے کےلئے سنجیدہ نظر آتا ہے تو عوام کی فلاح کے نعرے لگانے والی یہ نام نہاد پارٹیاں اس کی راہ پر ہر ممکن طریقے سے روڑے اٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ غیر جانبدار ماہرین کے مطابق اس بابت یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستانی معاشرے میں بھی سب کچھ اچھا نہےں ہے اور بہتری کی بہت سی گنجائش موجود ہے ۔ حالیہ مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے غریب آدمی دو وقت کی روٹی کو بھی تر س گیا ہے ۔ یہ امر اور بھی توجہ کا حامل ہے کہ عالمی دہشت گردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں تقریباً 8 ہزار ان افراد نے بھی اپنی جان جانِ آفرین کے سپردکی جن کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں سے ہے ۔ اسی سلسلے میں غیر جانبدار مبصرین کے مطابق اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہےں کہ وزیراعظم عمران خان کی مخلصانہ اور دیانت دار قیادت میں ملک کے ہر شعبے میں بہتری آ رہی ہے پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے اہم کردار ادا کیا اور آج تمام دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے ۔ لیکن دوسری بات یہ ہے کہ عوام کے روٹی روزگار کے گھمبیر مسائل کے حل کی طرف توجہ نہ دیکر حکومت نے اپوزیشن کے تن مردہ میں خود جان ڈالی ہے جبکہ انتہاء پسندانہ سوچ رکھنے والے اپوزیشن قائدین نے عوام کی جانب سے پذیرائی ملنے پر اپنے مخصوص ایجنڈا کے مطابق ان ریاستی اداروں کو اپنے ہدف پر رکھ لیا ہے جو ملک کی سلامتی اور عوام کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور خود دکھ برداشت کرکے عوام کے سکھ اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا سوچتے ہیں ۔ ایسے میں حکومت کو اب بہرصورت عوامی مسائل کے حل کی جانب فوری توجہ دینا ہوگی اور انہیں بالخصوص مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل میں ریلیف فراہم کرنا ہوگا ۔ اس سے عوام کا حکومتی گورننس پر اعتماد قائم ہوگا تو اپوزیشن انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی خاطر سڑکوں پر نہیں لا سکے گی ۔ موجودہ تناظر میں یہ توقع ہی ظاہر کی جا سکتی ہے کہ سبھی فریق اپنے قومی اور ملی فراءض مزید احسن ڈھنگ سے ادا کرتے ہوئے ملکی ترقی اور قومی ہم آہنگی میں اہم کر دار ادا کریں گے ۔