- الإعلانات -

نوازشریف کو وطن واپس لانے کے لئے حکومتی اقدامات تیز

اکستا ن کی سیاست اس وقت قطعی طورپر جارحانہ موڈ میں داخل ہوچکی ہے خصوصی طورپر گوجرانوالہ میں نوازشریف کی تقریر کے بعدجس میں انہوں نے کھلے عام ادارو ں کے خلاف ہرزہ سرائی کی جو کہ انہیں زیب نہیں دیتاتھا اس کے بعد بھی ان کی صاحبزادی مریم نواز اسی نقش قدم پرچل رہی ہیں یہ صورتحال کسی صورت بھی ملک وقوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے وزیراعظم نے بھی اپنے وزراء اورمشیروں کوہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ بھی اپوزیشن کے الزامات کے خلاف جارحانہ انداز اپنائیں ۔ ایسا نہیں ہوناچاہیے تھا لیکن اپوزیشن جمہوریت کی تمام حدودقیود کوکراس کرچکی ہے ذاتی مفادات اتنے عزیزترین ہوگئے ہیں کہ ملکی مفادات کو پس پشت ڈال دیاگیا ہے ۔ انہیں صرف حکومت چاہیے اپنی کرپشن کاتحفظ چاہیے جبکہ عمران خا ن نے دوٹوک انداز میں بتادیاہے کہ وہ کسی صورت بھی کرپشن پرسمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ حکومت کا یہ احسن اقدام ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ساتھ دیگرمسائل کی جانب توجہ دی جائے تو پتہ چلتاہے کہ اس وقت ملک بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہوا ہے جوکسی صورت بھی تھمنے میں نہیں آرہاہرچیز کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے غریب کاجینادوبھرہوگیاہے آنیوالاوقت یوں لگتاہے کہ ہمارے ملک میں سانس لینے کے لئے ہوا کی بھی قیمت چکاناپڑے گی ۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی اولین ترجیحات میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں رکھے ۔ اگر حکومت یہ اقدام آ ج سے قبل اٹھالیتی تو پھرآج عوام سڑکوں پرنہ آتی ۔ حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کیلئے اقدامات تیز کردیئے وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کو واپس لانے کےلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو کسی قسم کی رعایت ملے گی نہ بلیک میلنگ میں آئیں گے ۔ کرپشن کیسز کوہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے اپوزیشن کے اداروں کے خلاف بیانیے پر بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ عمران خان کی زیر صدارت وفاقی وزرا کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال پر غور، اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنانے اور نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیاجبکہ عمران خان نے پارٹی رہنماءوں کو گائیڈلائنز جاری کردیں ۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ریاست مخالف بیانیے پر بھی مشاورت کی گئی ۔ دوسری جانب آٹا سستا کرنے کیلئے صوبوں سے گندم جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، گندم کی امدادی قیمت کے جائزہ کیلئے کمیٹی قائم، کاشتکاروں کی لاگت میں کمی اورکھادوں پر سبسڈی کے حوالے سے تجاویز پیش کریگی ۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے برآمدی شعبوں کو رعایتی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی کیلئے رجسٹریشن کے طریقہ کار کی اصولی منظوری دیدی ہے ۔ ای سی سی نے آئندہ سیزن ( 2020-21کی فصل)کیلئے گندم کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی اور آٹے کی قیمت میں کمی کیلئے صوبوں کی جانب سے گندم کے اجرا کا بھی فیصلہ کیا گیاہے ۔ اجلاس میں پنجاب نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 1650روپے فی من اور اسلام آباد کی جانب سے 1745روپے فی من مقرر کرنیکی تجویز دی گئی تاہم کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ ای سی سی اجلاس میں پیش کریگی ۔ ادھربنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام تک نہ پہنچ سکے،ملک میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق کراچی میں بیس کلو آٹے کا تھیلا ڈیڑھ ہزار روپے اور حیدر آباد میں 1400 روپے کا ہوگیا ۔ دوسری جانب چینی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سلسلہ نہ رک سکا،اسلام آباد اور پشاور کے شہری ملک میں سب سے زیادہ ایک سو دس روپے فی کلو تک مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں ۔ راولپنڈی میں چینی کی قیمت 105 روپے فی کلو تک پہنچ گئی جبکہ کراچی،حیدر آباد اور ملتان میں چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو ہے،اسی طرح لاہور اور کوءٹہ میں بھی چینی ایک سو روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے ۔

گلبدین حکمت یارکادورہ پاکستان

گلبدین حکمت یارکادورہ پاکستان انتہائی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ پاکستان میں قیام امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے اس کے لئے پاکستان کی کاوشیں بھی کسی سی ڈھکی چھپی نہیں ہمیشہ پاکستان نے کہاہے کہ خطے میں امن وامان کے لئے مستحکم اورپرامن افغانستان انتہائی ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان نے اہم ترین کرداربھی اداکیاہے ۔ اب جبکہ طالبان اورامریکہ کے مابین مذاکرات ہورہے ہیں ایسے میں امن وامان کاقیام انتہائی اہمیت کاحامل ہے دونوں فریقین جن میں طالبان اورامریکہ شامل ہیں کو تحمل کامظاہر ہ کرناہوگا اورجس نے جو وعدے وعیدکئے ہیں ان کو بھی مقررہ وقت میں پورا کرنالازمی ہوگا ۔ پاکستان کے دورے کے موقع پرافغانستان کے تجربہ کار سیاست دان حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے وفد کے ہمراہ دفترخارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران پاک افغان دو طرفہ تعلقات، افغانستان میں قیام امن کےلئے جاری بین الافغان مذاکرات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیاجس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق بھی موجود تھے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار اور ان کے وفد کو دفتر خارجہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہو ئے کہا کہ خطے کا امن و استحکام، افغانستان میں مستقل امن سے مشروط ہے ۔ جبکہ گلبدین حکمت یارکا کہنا تھا کہ پاکستان آکر ایسے لگتا ہے جیسے اپنے گھر میں ہی ہوں ۔

کیپٹن ریٹائرڈصفدرکی گرفتاری ورہائی

کراچی میں مزارقائدکے ایکٹ کی جو خلاف ورزی کی گئی شایدماضی میں اس طرح کی مثال نہ ملتی ہواب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکی گرفتاری اورپھررہائی جو عمل میں آئی ہے اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے ۔ تاہم کہانی تو دورکی بات لیکن اس اقدام کو سراہانہیں جاسکتا ۔ سیاست کرنے کےلئے پوراملک موجودہے لیکن کچھ نہ کچھ حدودقیود اورایس اوپیزہوتے ہیں ان پرعمل کرناضروری ہوتا ہے کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جن کے حوالے سے حدادب لاگو ہوتا ہے لیکن مزارقائدپرنون لیگ نے تما م پابندیوں کی زنجیریں توڑ دیں بعد میں یہ لوگ وضاحتیں بھی پیش کرتے رہے مگرہمارا سوال یہ ہے کہ اس طرح نہیں ہوناچاہیے تھا اورنہ ہی مزارقائدکو سیاست کاحصہ بناناچاہیے تھا ۔ مزار قائد پر نعرے بازی کے بعد مزار قائدایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو گرفتارکیا گیا، جنہیں 11گھنٹے بعدضمانت پر رہاکردیاگیا ۔ پولیس نے علی الصباح کیپٹن (ر) صفدر کو کراچی کے نجی ہوٹل سے گرفتار کیا، انہیں مزار قائد پر نعرے لگانے پر مزار قائد ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ۔ پولیس نے بتایاکہ شہری وقاص کی مدعیت میں درج مقدمے میں 200 افراد شامل ہیں جبکہ مقدمے میں جان سے مارنے کی دھمکی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور مزار قائد ایکٹ کی خلاف ورزی کی دفعات شامل کی گئی ہیں ۔ بعدازاں جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع شرقی نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی سے متعلق کیس کی سماعت کی اور ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض انکی ضمانت منظور کرلی ۔ وقت ختم ہونے کے باعت عدالت نے کیپٹن صفدر کے وکلا کو مچلکوں کی جگہ ایک لاکھ روپے نقد جمع کرانے کا حکم دیا ۔ اس کے علاوہ عدالت نے مدعی وقاص کا موبائل قبضے میں لینے اور فرانزک کرانے کا بھی حکم دیا ۔