- الإعلانات -

حقیقی جمہوری تقاضاوحسن

اپوزیشن نے حکومت ے خلاف تحریک شرو ع کرنے کا اعلان کر دیا ۔ ہم نے جمہوریت اور تحریک کو کیا سمجھا ہے ۔ کیا یہ ضروری ہے ۔ کوئی موقع کوئی دستور کچھ نہیں دیکھنا بس حکومت کو ڈھنگا ڈال رکھنا ہے ۔ پولیس اور دیگر اداروں کو کوئی اور کام نہیں کرنے دینا ملک میں امن عامہ کی صورت حال کو ٹھیک نہیں رہنے دینا ۔ سیاست حصول اقتدار کیلیے ہی کیوں زینہ بنا دی گئی ہے جبکہ سیاستدان کا اصل منصب تو خدمت ہے ۔ یہاں منتخب نہ ہوں تو عوام کو منہ نہیں لگاتے مجھے ووٹ دیا جو تمہاری نمائندگی کروں ۔ منتخب ہو گئے تو اب باڈی گارڈ رکھ لیے خطرہ ہے ۔ بندا کدھر جائے جمہوریت کے حسن کا دیدار کرنے کیلیے کتنی قربانی دینا ہو گی ۔ حقیقت میں یہ ہمارے قائدین کی ناکامی ہے جو وہ عسکری قیادت کے سر منڈھ کر اپنا سر بچانے کی تگ دو کرتے ہیں ۔ صوبے حقوق مانگتے ہیں دو نہیں دیتے تو پھر وہ مسلح جدوجہد کرتے ہیں اب روکنا صرف عساکر پاکستان کی زمہ داری ہے ۔ اب الزام عائد کر دیا کہ عساکر پاکستان عام عوام کو مار رہی ہیں ۔ بھائی اگر ;200;پ معاملات کو سیاسی بنیاد پر اور مزاکرات میں حل نہیں کرتے تو مسلح جدوجہد کو باتوں اور پھولوں کے ہار سے نہیں روکا جا سکتا ۔ فوج کاکام باتیں کرنا نہیں گولی چلانا مرنا اور مارنا ہے ۔ بلوچستان کے مسائل کو کون طول دیتا رہا سیاستدان اور الزام کون لگا رہا ہےسیاستدان ۔ یہی اب سیاست راہ گئی ہے کہ ھر بات کا حل تاویلات اور ایک دوسرے پر الزامات میں تلاش کیا جائے ۔ ملک اور معاشرے کیا ان کے سہارے ترقی کر سکتے ہیں ۔ اپوزیشن ہو یا حکومت دونوں کا رویہ یکساں ہے ۔ وہ اسلیے کہ ;200;ج کی حکومت گزشتہ کی اپوزیشن اور ;200;ج کی اپوزیشن گزشتہ کی حکومت تھی ۔ الزام تراشی سے وقت تو نکل رہا ہے لیکن قوم کو اس کے نقصانات بہت ہیں ۔ قومی یکجہتی اور قومی ترقی میں بہت فاصلہ پیدا ہو گیا ہے ۔ سیاستدان اقتدار کے کھیل میں ھر دا کھیل رہے ہیں کوئی مذہبی کارڈ کھیل رہا ہے تو کسی کے ہاتھ میں لسانیت اور صوبائی حقوق کے پٹے ہیں ۔ یقینا اصول اقدار کو حصول اقتدار کیلئے پامال کرنے کی ھر مثال قائم کی جا رہی ہے ۔ کوئی کیا سمجھے جب اقتدار کیلیے مولانا اور سیکولر اکھٹے جدوجہد کریں ۔ یہ مرشل لا یا کسی غیر جمہوری حکومت کے خلاف نہیں جمہوری حکومت کے خلاف ہے ۔ کل مسلم لیگ نے جن کو چور ڈاکو قرار دیکر پیٹ پھاڑ کر عوامی دولت نکا لنے اور سڑکوں پر گھسٹنے کا دعوی کیا تھا ;200;ج وہ ;200;پ کی گود میں اور ;200;پ ان کے کندھوں پر سوار جمہوریت کے علمبردار ہیں ۔ کیا اصول ہیں ;200;پ لوگوں کے کیا زبان ہے ۔ کل تک ایک جماعت کا چیرمین کو ;200;پ لونڈا بولتے رہے ;200;ج اسی کے ڈرائنگ روم میں مستقبل کو تلاش کر رہے ہیں ۔ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اصولوں کی مٹی پلید کی جا چکی ہے ۔ اس کی گھناونی مثال اپنے معاشرے سے دیتا ہوں ۔ کل کسی نے لنک پوسٹ کیا جس ملک کے ایک نامور فنکار کی بیٹی سٹیج پر ڈانس کر کے روزی کما رہی ہے ۔ میں پشیمان حیران ہوا کہ اپنے استاد اور سینئر کی عزت کو یوں رسوا ہوتا دیکھ کر کسی کی غیرت نہیں جاگی ۔ حالانکہ اسے ٹی وی میں کی مزاح کے پروگرام ہیں میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا ۔ عزیزی کی باتوں پر ہنسنے کی ڈیوٹی اس کی لگا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا جا سکتا تھا ۔ اگر وہ سٹیج پر رقص کر سکتی ہے تو ٹی وی کے ھر مزاحیہ پروگرام یا کہیں بھی پرفارم کر سکتی ہے لیکن نہیں کیا ۔ اس استاد کے شاگرد اور اسکی زندگی کے قریبی دوست اور اسے بھائی کہنے والے ;200;ج اپنی ہی بہن بیٹی اور عزت کو سٹیج پر ناچتا دیکھ کر ;200;نکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں ۔ یہی ہم نے سیاست اور اخلاقیات کی ترویج کی ہے ۔ ایسے ہی ہمارے ایک اور قومی شاعر کی بیٹی ٹیکسی گاڑی چلا کر زندگی کا وقت طے کر رہی ہے ۔ اسی طرح کا ایک نمونہ ہمارے صحافت کے ورثہ میں بھی ہے ۔ ایک کراچی کی خاتون جو اپنے وقت میں انگریزی کے اخبار کی مالک اور ;200;ڈیٹر تھیں بھیک مانگتے دیکھی گئیں تو ان پر شو کیا گیا اور اینکر ان کو گلے لگا کر ماں جی ماں جی کہ رہا ہے لیکن ساتھ میں اپیل کر رہا ہے کہ ;200;پ انھیں کوئی بندا اپنے گھر میں پناہ دے ۔ ;200;پ جس کو ماں بول رہے ہو کیا اسے اپنے گھر میں پناہ نہیں دے سکتے ۔ یہ معیار ہے اصول اخلاقیات کا ہمارے معاشرے میں جو قائد حضرات نے قائم کیا ہے ۔ ایک دوسرے کے خلاف بدزبانی اور بدتہذیبی کے جو مظاہرے قوم اپنے لیڈر حضرات سے دیکھتی ہے ویسا ہی کر کے اپنے ;200;پ کو کسی بڑے کا پیشرو جانتی ہے ۔ سیاستدانوں نے نہ اپنی عزت رہنے دی اور نہ کسی اور کو قابل عزت رہنے دیا ۔ حقیقت یا ہے کہ الیکشن کمیشن میں سیاسی تعیناتیاں اور میرٹ کے برخلاف بھرتیاں اس کا سبب ہیں ۔ ہمارا معاشرہ اب سیاست کے کے ساتھ سیاست کرنے کا اگر عزم کر لے تو ممکن ہے اس کے نتاءج معاشرتی زندگی کیلئے بہتر ہوں ۔ زندگی میں اصول اور میرٹ ;200; جانے سے معاشرتی ترقی کی رب کھلے گی ۔ جب معاشرہ ترقی کرے گا تو معیار زندگی بلند ہو کر غربت میں کمی کا سبب ہو گا ۔ عوام اور معاشرتی ترقی ہی جمہوریت کی ضرورت اور حسن جمہوریت ہے ۔