- الإعلانات -

کوءٹہ جلسہ میں دہشت گردی کا خطرہ

آج کل حکومت ا پوزیشن کی چپقلش عروج پر ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں ملک بھر میں جلسے کر رہی ہیں ۔ گوجرانوالہ اور کراچی میں جلسہ کے بعد 25 تاریخ کو کوءٹہ جلسہ کا پروگرام ہے ۔ سابقہ جلسوں کی طرح کوءٹہ جلسے میں بھی اپوزیشن کی قیادت شرکت کرے گی ۔ لیکن کوءٹہ جلسے میں سیکورٹی کے متعلق پریشانی ظاہر کی جا رہی ہے کہ کہیں کوئی حادثہ نہ ہو جائے ۔ نیکٹا کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے پشاور اور کوءٹہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ نیکٹا کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے بم اور خودکش دھماکوں سے سیاسی اور مذہبی قیادت کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ دہشتگردوں کی کوشش ہے کہ کسی ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کو بم دھماکے یا خود کش حملے کے ذریعے قتل کردیا جائے ۔ تاکہ ملک میں افراتفری کی صورتحال پیدا کی جا سکے ۔ ان ہی اطلاعات پر 21 اکتوبر کو بلوچستان میں کارروائی کرکے دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنایا گیا ۔ بلوچستان کے علاقے قمردین کاریز میں کارروائی کے دوران 8 آئی آئی ڈیز برآمد کی گئیں ۔ یہ بارودی مواد کوءٹہ اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں استعمال کیا جانا تھا ۔ لہذا نیکٹا نے تجویز دی ہے کہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر سیاسی و مذہبی اجتماعات کی سکیورٹی بڑھانے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ سخت قسم کی نگرانی بھی لازمی ہے ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اورجماعت الاحرار پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں رہ کرپاکستان میں دہشتگردکارروائیاں کراتی ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرچکے ہیں ۔ افغانستان میں دہشتگرد تنظیم داعش کی موجودگی خطے کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ افغانستان سے دہشتگرد گروہ القاعدہ بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ہے، جو کہ پڑوسی ممالک کوخطرہ ہے ۔ اسی سبب جولائی میں اقوام متحدہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نورولی محسود پرپابندیاں عائد کردی تھیں ۔ نورولی محسود پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ ان کے اثاثے بھی منجمند کر دیے گئے تھے ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ پر پابندیاں القاعدہ سے تعلق پر کی بنیاد پر لگائی گئی تھیں ۔ نورولی محسود کی سربراہی میں کالعدم ٹی ٹی پی نے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے کیے ۔ اس سے قبل امریکہ نے 11 ستمبر 2001 کی اٹھارویں برسی کے موقع پر گزشتہ سال نور ولی کو عالمی سطح پر دہشتگرد قرار دیا تھا ۔ نور ولی محسود کو جون 2018 میں تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ تعینات کیا گیا تھا ۔ مفتی نور ولی سابق امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی ہیں اور ماضی میں تحریک کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں ۔ انہوں نے طالبان کی تاریخ پر ایک کتاب بھی تحریرکی تھی جس میں کئی اہم انکشافات کیے ۔ 2014 میں امریکی ڈرون نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں نور ولی محسود کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے ۔ نور ولی محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں پیدا ہوئے اور وہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کراچی کے مختلف مدارس میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں ۔ دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا ۔ ٹی ٹی پی کے علاوہ پاکستان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی جانب سے داعش اور القاعدہ کو پابندیوں کی فہرست پر شامل کرنے کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ پاکستان، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی تعمیل کر رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرے ممالک بھی اس پر عمل کریں گے ۔ پاکستان نے ملک میں جامع سیکیورٹی آپریشنز کے ذریعے ٹی ٹی پی کو شکست دی تاہم گروپ ملک میں موجود سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان کی سرحدوں سے باہر سے کام کرتا رہتا ہے ۔ پاکستان دہشت گردی میں حصہ لینے، مالی اعانت، منصوبہ بندی، سہولت کاری اور اس کے خاتمے میں ملوث افراد کے خلاف لڑنے کی اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا ۔ امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق لبنان کی حزب اللہ، ایران کی پاسداران انقلاب، القاعدہ، فلسطین کی حماس، فلسطین اسلامک جہاد اور داعش سیمت دیگر تنظیموں سے وابستہ کئی افراد کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا ۔ جن دہشت گردوں کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے پابندی عائد کی گئی تھی ان میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر نور ولی محسود، اسلامک جہاد کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل محمد الہندی، حزب اللہ جہاد کونسل کے سینئر رہنما علی کاراکی، محمد حیدر، فعاد شکر اور ابراہیم عاقل، داعش (مغربی افریقہ) کے امیر ابو عبداللہ ابن عمر البرناوی، داعش (فلپائن) کے امیر حاتب حاجان سوادجان اور حراس الدین کے امیر فاروق السوری شامل تھے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان دہشت گردوں کو افغان حکومت نے اپنے ہاں پناہ دی ۔ پاکستان میں ان دہشت گردوں کی ہلاکتوں سے ایک بات واضح ہوگئی کہ القاعدہ کی قیادت افغانستان ہی میں مقیم ہے کیونکہ یہ تمام افراد افغانستان یا پھر پاک افغان سرحد پر مارے گئے ہیں ۔ مغربی ذراءع ابلاغ بلاوجہ پاکستان پر جھوٹا الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس نے القاعدہ کی قیادت کو چھپا کر رکھا ہے ۔ پاکستان پر القاعدہ کی موجودہ قیادت کے ساتھ تعلقات کی کہانیاں جھوٹی ہیں ۔ خلائی سیاروں سے حاصل کردہ ان کے ٹھکانوں کی تصاویر اور معلومات سب کی سب افغانستان کی ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو پاکستان تحفظ فراہم کر رہا ہوتا تو کیا ان کے خلاف آپریشن ہوتا اور ان کو ہلاک کیاجاتا;238; ۔