- الإعلانات -

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جلدی آخر کیوں

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سوڈان اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لا رہا ہے اور جلد سوڈان بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے والے مسلمان ملکوں کی صف میں شامل ہوجائے گا;46; صدر ٹرمپ نے سوڈان کو دہشت گردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال کر ملک میں معاشی امداد اور سرمایہ کاری کو بھی بحال کر دیا ہے امریکی صدر نے کہا کہ مزید پانچ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ پر آمادگی کا اظہار کرچکے ہیں اور جلد یہ پانچ عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ہیں ;46; چند ہفتے قبل ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں جس کے بعد یہ دونوں ملک 26 برس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والی پہلی خلیجی ریاستیں بن گئیں ہیں سوڈان اور اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایک سہ فریقی اعلامیے میں کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں وفود ملاقاتیں کریں گے;46; بیان کے مطابق راہنما;63;ں نے سوڈان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور دونوں اقوام کے درمیان حالت جنگ کو ختم کرنے پر اتفاق کیا‘ 1979 میں مصر جبکہ 1994 میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے تھے افریقی عرب لیگ کے رکن موریطانیہ نے 2009 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا لیکن 10 سال بعد اس نے تعلقات منقطع کر دیے تھے‘اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات بنانے والے عرب ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کی فلسطینیوں نے مذمت کی ہے;46; تاریخی طور پر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکارت کو 1967 کی جنگ میں مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے قیام سے مشروط کر رکھا تھا‘صدر ٹرمپ کے سوڈان کو دہشت گردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے نکالنے کے فوراً بعد واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو اوول آفس لے جایا گیا جہاں صدر ٹرمپ سوڈان اور اسرائیل کے راہنماوں کے ساتھ فون پر بات کر رہے تھے;46;اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معاہدہ امن کے لیے ڈرامائی پیشرفت اور ایک نئے دور کا آغاز ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور سوڈان کے وفود تجارتی اور زرعی تعاون پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کریں گے;46; سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے اپنے ملک کو دہشت گردی کی فہرست سے ہٹانے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سوڈان کی حکومت بین الاقوامی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہے جو ہمارے عوام کی بہترین خدمت کے لیے ہے‘سوڈان کے سرکاری ٹی وی نے کہا کہ جارحیت کی حالت ختم ہو جائے گی;46;اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں سعودیہ عرب بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لے آئے گا امریکی صدر کے معاون جوڈ ڈیری نے کہا کہ سوڈان کا معاہدہ ’مشرق وسطی میں امن کی راہ میں ایک اور اہم قدم ہے جس کے مطابق ایک اور ریاست نے ابراھیم معاہدوں میں شمولیت اختیار کی ہے، یہ اصطلاح اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدوں کے لیے استعمال ہوتی ہے تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فلسطینیوں کی جانب سے بولنے کا حق نہیں حماس جو غزہ کو کنٹرول کرتا ہے نے کہا کہ یہ ایک سیاسی گناہ ہے‘اسرائیل نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کو اعلی درجے کے فوجی ہارڈویئر کی امریکی فروخت کی مخالفت نہیں کرے گا امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بعد متحدہ عرب امارات کو ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے کی اجازت دینے پر غور کرنے پر اتفاق کیا تھا;46;تاہم اسرائیل نے کہا تھا کہ مشرق وسطی کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں فوجی فائدہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس ہفتے کے شروع میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے پر راضی ہو گیا ہے 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سے سوڈان اسرائیل کا دشمن رہا ہے سوڈان ہی وہ مقام ہے جہاں 1967 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خلاف اعلامیہ پیش کیا گیا تھا دارالحکومت خرطوم میں عرب لیگ نے اسرائیل کے ساتھ امن نہیں ‘ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا اور اس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کا حلف لیا تھا;46;سوڈان نے 1948 اور 1967 میں اسرائیل کے خلاف جنگیں بھی لڑی ‘طویل عرصے تک سوڈان کے حکمران رہنے والے عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے اور اس کی جگہ عبوری سویلین ملٹری کونسل کے باعث ملک کے سیاسی محرکات میں تبدیلی آئی ہے جسے شامی اپوزیشن کی طرزپر امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی ممالک کے ہر طرح سے مدد اور تائید حاصل تھی;46; سوڈان میں حقیقی طاقت کے مالک جرنیلوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی حمایت کی ہے تاکہ سوڈان پر امریکی پابندیاں ختم ہو جائیں اور بری طرح سے معاشی بدحالی کے شکار ملک میں امداد کی راہیں کھل سکیں اس ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں کا 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زرِ تلافی ملنے کے بعد سوڈان کو دہشت گردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے گا;46;1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں یہ حملے القاعدہ نے کیے تھے جب اس تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھے سوڈان نے ان حملوں کے متاثرین کے لیے یہ رقم ایک خصوصی ہولڈنگ اکاونٹ میں جمع کروا رکھی ہے قران حکیم میں اللہ نے کہا ہے کہ بیشک یہودی اور نصرانی آپ کے دوست نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے جو قرآن مجید میں کئی بار دہرایا گیا ہے ۔ مگر آج اسرائیل کو تسلیم کروانے کی مہم جس قدر زوروں پر ہے اس میں سبھی اپنے اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیاوی اسباب کی طرف دھیان کیے بیٹھے ہیں ۔ کرہ زمین پر موجود پچاس سے اوپر مسلم ممالک میں سے ابھی تک صرف تین مسلم ممالک نے غاصب و قابض اور ناجائز ریاست اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اس کے علاوہ اور کسی ملک نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ۔ یو اے ای،بحرین اور سوڈان کے بعد اب سعودی عرب پرپریشر بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرے مگر اسرائیل نے جس طرح سے فلسطین کی زمین پر قبضہ کیا،غزہ پٹی میں معصوم لوگوں پر مظالم ڈھائے اور یروشلم کا محاصرہ کیا وہ سب دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل پر کاری ضرب ہے لہٰذا اب جب امریکہ اور اسرائیلی نڑاد امریکی بزنس مین کے ذریعے شہزادہ محمدبن سلمان کو پیغام پہنچایا گیا کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو اس پر معذرت کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر میں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی غلطی کی تو میرے اپنے لوگ یعنی سعودی عرب،قطر اور ایران جیسے ملک کے لوگ مجھے مار ڈالیں گے اس لیے میں اس وقت ایسا کچھ نہیں کرسکتا ۔ کچھ ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب جلد اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے ۔ پردے کے پیچھے سے یہ خبر بھی سامنے آ رہی ہے کہ سوڈان جیسے ملک سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے علاوہ دیگر ساری رعایتیں بھی اسی ڈیل کا نتیجہ ہیں کہ اس نے امریکہ کے کہنے پر اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ۔ تاہم شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی پیغام اور خاص طور پر اسرائیلی نڑاد بزنس میں ’’ ہیم ثبان‘‘ کی کوششوں پر کیا ہے ہیم ثبان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی عرب کو کہا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کریں مگر اس حوالے سے ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن کی کاوشیں زیادہ ہیں اور سب سے بڑھ کر کردار میرے دامادجراڈ کشنر کو جاتا ہے جس نے اسرائیل کو مسلم ممالک سے تسلیم کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اگرچہ اس وقت تک تین مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان کے ساتھ کاروباری معاہدے بھی کر چکے ہیں مگر ابھی بھی اسرائیل کے ہمدردوں کے لیے مشکل وقت تب تک کھڑا ہے جب تک وہ فلسطین کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کر لیتے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم پر گامزن ہیم ثبان نے گزشتہ دنوں سعودی فرمانروا شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے موقعہ پر ہی محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تو اسے قتل کر دیا جائے گا ۔