- الإعلانات -

مہنگائی سے قوت خرید کی سکت ختم ہو کر رہ جائے گی

یقینا اس وقت ملک بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہوا ہے جوکسی صورت بھی تھمنے میں نہیں آرہاہرچیز کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے غریب کاجینادوبھرہوگیاہے آنیوالا وقت یوں لگتاہے کہ ہمارے ملک میں سانس لینے کےلئے ہوا کی بھی قیمت چکاناپڑے گی ۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی اولین ترجیحات میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں رکھے ۔ اگر حکومت یہ اقدام آ ج سے قبل اٹھالیتی تو پھرآج عوام سڑکوں پرنہ آتی ۔ حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کیلئے اقدامات تیز کردیئے وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کو واپس لانے کےلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو کسی قسم کی رعایت ملے گی نہ بلیک میلنگ میں آئیں گے ۔ کرپشن کیسز کوہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے اپوزیشن کے اداروں کے خلاف بیانیے پر بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ دوسری جانب آٹا سستا کرنے کیلئے صوبوں سے گندم جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، گندم کی امدادی قیمت کے جائزہ کیلئے کمیٹی قائم، کاشتکاروں کی لاگت میں کمی اورکھادوں پر سبسڈی کے حوالے سے تجاویز پیش کریگی ۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے برآمدی شعبوں کو رعایتی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی کیلئے رجسٹریشن کے طریقہ کار کی اصولی منظوری دیدی ہے ۔ ای سی سی نے آئندہ سیزن (2020;245;21کی فصل)کیلئے گندم کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی اور آٹے کی قیمت میں کمی کیلئے صوبوں کی جانب سے گندم کے اجرا کا بھی فیصلہ کیا گیاہے ۔ اجلاس میں پنجاب نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 1650روپے فی من اور اسلام آباد کی جانب سے 1745روپے فی من مقرر کرنیکی تجویز دی گئی تاہم کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ ای سی سی اجلاس میں پیش کریگی ۔ ادھربنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام تک نہ پہنچ سکے،ملک میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ آج سے تقریباً اڑھائی سال قبل پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہونے والی پی ٹی آئی نے عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کےلئے جو سب سے بڑا نعرہ لگایا وہ تھا لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر عام آدمی کے مسائل میں کمی لائیں گے ۔ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جب سے آئی ہے مہنگائی نے عوام کا جینامحال کر دیا ہے ۔ دیگر چیزیں جو مہنگی ہو رہی ہیں وہ اپنی جگہ لیکن روز مرہ استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً آٹا، چینی، دال، گھی، سبزیاں وغیرہ بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں ۔ انڈے کے نرخ180 روپے فی درجن تک بڑھ گئے ہیں جو گزشتہ برسوں میں سخت سردیوں کے ایام میں بھی 120 روپے فی درجن سے نہیں بڑھے تھے ۔ عوام آج آلو، پیاز 100 روپے کلو خریدنے پر مجبور ہیں اور ٹماٹر ایک بار پھر 300روپے فی کلو کے نرخ پر جا پہنچے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوگوں کو چیزیں سستی ملنی چاہئیں عوام مہنگائی سے بہت تنگ ہیں اور مہنگائی کی وجہ حکومتی معاشی مینیجرز کی سمجھ سے باہر ہے وہ تذبذب میں ہیں کہ مہنگائی کو کس طرح کنٹرول کریں ۔ جب کہ بے لگام مہنگائی سے جاں بہ لب عوام الناس کی حالتِ زار دیکھتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مہنگائی کنٹرول کر کے دکھائیں گے، جس کےلئے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جو گرانی اور اس کے سبب بننے والے عوامل کی بیخ کنی کر سکیں ۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم کا پیغام مہنگائی مافیا کے خلاف ایک واضح انتباہ ہے ۔ تاہم بعض سرکاری اہلکاروں اور نجی شعبے سے متعلق افراد پر مشتمل ملک میں ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس کا طریقہ واردات ذخیرہ اندوزی کی شکل میں اشیاء کی طلب اور رسد میں مصنوعی عدم توازن پیدا کرنے اور اسمگلنگ پر مبنی ہے ۔ بد قسمتی سے سرکاری اہلکار ہی ان کی سرپرستی کرتے ہیں ۔ بلیک مارکیٹنگ اور رشوت و بد عنوانی یہ تمام اسباب مل کر اس وقت ملک میں ایک متوازی غیر قانونی معیشت چلانے کا باعث بن رہے ہیں ۔ جس سے ایک طرف غریب، تنخواہ داراور مزدور پیشہ طبقات بری طرح پس رہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی خزانے میں جانے والے محاصل ان غریب دشمن عناصر کی جیبوں میں جا رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں جب مستقبل قریب میں شرح نمو میں اضافے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا حکومت کے معاشی مینیجرز کےلئے صورتحال کو سنبھالنا کسی بڑے امتحان سےکم نہیں ۔ حکومت معیشت کی بہتری کے لئے جو بھی اقدامات کر رہی ہے اس کے نتاءج خاطر خواہ نہیں آ رہے ہیں ۔ اس لئے حکومت کو کچھ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہو گی جو فنانس کے مسائل کو آسانی سے حل کرنے میں مدد دے سکیں ۔ کورونا وائرس جس نے پہلے بھی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اب اس کی دوسری لہر کے شدید خطرات موجود ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ دسمبر، جنوری کے مہینے میں کورونا کی ایک نئی لہر متوقع ہے لہٰذا حکومت پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عام آدمی کو بھوک سے بچانے کےلئے مہنگائی کو کنٹرول کرے ۔ اس کےلئے مہنگائی کے ذمہ دار عناصر سے مذاکرات یا اپیلیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب حکومت کو ایسے افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے کیونکہ عوام کو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کےلئے دو وقت کی روٹی سے غرض ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو اب تقریباً اڑھائی سال کا عرصہ ہو چلا ہے حالات کی خرابی کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر نہیں ڈالی جا سکتی ہے ۔ اگر پی ٹی آئی کی اس بات کو مان بھی لاے جائے کہ ملک میں پائے جانے والے تمام مسائل کی وجہ سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ہیں تو پھر بھی اس حکومت کے دورِ اقتدار کا عرصہ مسائل کو سلجھانے کےلئے کافی ہے اور اب تک حالات سدھر جانے چاہئے تھے ۔ مہنگائی میں اضافے سے عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اس لئے ہمارے سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو اقتصادی طور پر خوشحال بنانے کےلئے مل بیٹھ کر منصوبہ بندی کرے ۔ اس سے جہاں پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو گا وہاں اس سے جمہوریت کو بھی استحکام حاصل ہو سکتا ہے ۔ ورنہ دوسری صورت میں عوام سیاسی قیادت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ وطنِ عزیز اس وقت معاشی بقاء کی ایک ایسی ہولناک جنگ لڑ رہا ہے جو اس ملک کے حکمران طبقہ، اشرافیہ اور کاروباری ٹرائیکا کی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہے جس نے غریب کے منہ سے نوالہ تک چھننے کی ظالمانہ روش اختیار کر رکھی ہے ۔ یہ اندازِ حکمرانی عوام دوستی اور جمہوریت سے کمٹمنٹ کا آئینہ دار نہیں ، جب تک معاشی ثمرات کا دھارا عوام کی جھگیوں اور غریب خانوں تک نہیں پہنچائیں گے اس وقت تک جمہوریت محفوظ نہیں رہ سکتی اور نہ آمریت کی قبر پر غائبانہ لاتیں رسید کرنے سے کام چلے گا ۔ مہنگائی اور عوام کی معاشی بدحالی سے پیدا شدہ حقائق نوشتہ دیوار بنتے جا رہے ہیں ۔ خلقِ خدا کے پیٹ میں روٹی نہیں ہو گی، اسے پیاز، چینی، چائے، دال، سبزی اور ٹماٹر مہنگے داموں ملیں اور غریب آدمی کی قوتِ خرید جواب دے جائے تو کب تک قوم سازش ہو رہی، جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والی قوتیں سرگرم ہو گئی ہیں کی وضاحتوں کے لالی پاپ سے بہلتی رہے گی ۔