- الإعلانات -

عالمی امن کےلئے افواج پاکستان کی خدمات

پاکستان نے 30 ستمبر 1947ء کو اقوامِ متحدہ امن مشن میں شمولیت اختیار کی ۔ اس کے بعد ایک نامور دور کا آغاز ہوا جس کی تاریخ بے مثال اور خدمات لازوال ہیں ۔ اقوام متحدہ کے 75ویں یوم تاسیس کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج نے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کے 46 امن مشنز میں کردار ادا کیا ۔ پاکستان کی امن سپاہ کے 158 اجوانوں بشمول 24 افسران نے اپنی جانیں نچھاور کیں ۔ پاکستان 19جون 2019ء میں کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے ۔ پاکستان کا اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا آغاز 1960ء میں ہوا جب پاکستان نے کانگو میں اقوامِ متحدہ کے آپریشنز میں اپنا پہلا دستہ تعینات کیا ۔ پاکستان نے2 لاکھ سے زائد افواج کے ہمراہ دنیا بھر کے تقریباَ 28 ممالک میں اقوامِ متحدہ امن مِشنز میں حصہ لیا ۔ اس سال نائیک محمد نعیم رضا شہید کو اقوام متحدہ کا خصوصی میڈل عطاء کیا گیا ۔ اقوام متحدہ قیادت، متعدد عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی امن فوج میں کارکردگی کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا ۔ پاکستانی خواتین بھی اقوامِ متحدہ امن مشن کانگو میں امن کے لئے سر گرم عمل ہیں ۔ اقوامِ متحدہ چھتری تلے تاحال 83 پاکستانی خواتین امن مشنز کا حصہ ہیں ۔ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔ ایلس ویلز نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہا ۔ اس وقت دنیا بھر کے 192 کے قریب آزاد ممالک و ریاستیں اقوام متحدہ کی ممبر ہیں ۔ پاکستان 1960 میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ بنا جب کانگو میں ایک آپریشن کے لیے پاکستان نے اپنا ایک دستہ بھیجا ۔ گزشتہ 60 سالوں میں دنیا کے تمام براعظموں میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ رہا ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے 41 امن مشنز میں اب تک 23 ممالک کےلئے ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی جوانوں کی خدمات فراہم کی ہیں ۔ اس وقت بھی اقوام متحدہ کے مختلف امن مشنز کےلئے پاکستان کے 7500 اہلکار تعینات ہیں ۔ پاک فوج اقوام متحدہ امن مشنز کے تحت غیرممالک میں امدادی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے ۔ حال ہی میں کانگو کے دور افتادہ علاقوں میں پاکستانی امن مشن دستوں نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے سیلاب میں پھنسے دو ہزار افراد کو ریسکیو کیا ۔ کانگو میں ایک ہفتے سے جاری شدید بارشوں کے بعداویریا کے علاقے میں آنےوالے سیلاب نے تباہی مچا دی جس سے ہزاروں مکانات تباہ جبکہ 75 ہزار سے زائد افراد شدید متاثر ہوئے ۔ پاکستانی امن دستے متاثرہ علاقوں میں موقع پر پہنچے، سیلابی ریلا روکنے کیلئے پتھروں سے بند بنایا، دور دراز علاقوں میں متاثرین کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ طبی امداد اور راشن بھی فراہم کیا ۔ سوشلسٹ جمہوریہ بوسنیا اور ہرزیگوینا کی 44 فیصد آبادی مسلمان تھی ۔ ان سب کو نسلی صفائی کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر مشرقی بوسنیا ۔ تشدد کے دوران تقریبا 33000 بوسنیا مسلمانوں کو قتل کیا گیا جن میں 6000 خواتین اور 1119 بچے بھی شامل ہیں ۔ 1991 میں جارح سرب فوج کو یہاں سے نکالا گیا ۔ اس کے بعد سے یہ علاقہ اقوامِ متحدہ کے کنٹرول میں ہے ۔ پاکستان بوسنیا میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی چوتھی سب سے بڑی امدادی جماعت بن گیا اور اس نے بوسنیا کے مسلمانوں کی حفاظت اور سربوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنے فوجیوں کو وہاں رکھنے کا وعدہ کیا جبکہ فرانس اور دیگر ممالک اپنے فوجیوں کو واپس لے گئے ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے اسلحہ کی پابندی کے باوجود بوسنیا کی حکومت کو اسلحہ فراہم کیا ۔ جس نے بوسنیا کے حق میں رخ موڑ دیا اور سربوں کو محاصرہ اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کی بے مثال خدمات کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہمیشہ کیا اور اب پاک فوج کو اقوام متحدہ کے امن مشن کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام امن مشن میں پاکستان ہراول دستے کی طرح شریک ہے ۔ یہ عمل اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کےلئے اقوام متحدہ بہترین ذریعہ ہے ۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے ۔ خطے میں دیرپا امن اور ترقی کےلئے اس مسئلے کا حل ضروری ہے ۔ پاکستان نے جنوبی ایشیائی خطے میں دیرپا امن کےلئے کشمیر کے مسئلے کے حل پر زور دیا ۔ پاکستان خطے میں امن کےلئے کشمیر کے مسئلے کا جلد حل چاہتا ہے ۔ پاک فوج کے عالمی امن میں کردار کی پوری دنیا گواہ ہے اور اسکی سند اقوام متحدہ کئی بار جاری کرچکا ہے ۔ دنیا کی دیگر افواج کی نسبت پیشہ وارانہ صلاحیتیں پاک فوج نے زیادہ بہترادا کی ہیں ۔ اسکے پایہ کا کوئی اور نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ اپنے عالمی دن کے موقع پر پاک فوج کی صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہتا ہے ۔ پاکستان نے اس سلسلے میں بوسنیا، صومالیہ، سیرالیون، کانگو اور لائیبریا میں اہم خدمات سر انجام دیں جہاں پاک فوج کے جوانوں نے محنت اور لگن سے دکھی انسانیت کی خدمت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ امن مشن میں شریک ہونےوالے پاکستانی فوجیوں کو ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مقامی لوگوں سے ان کے حسن سلوک کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ممبر بننے سے لے کر آج تک اقوام متحدہ کے اصولوں کی بڑی سنجیدگی سے پابندی کی ہے اور بین الاقوامی معاملات میں ہمیشہ امن پسندی کا ثبوت دیا ہے ۔