- الإعلانات -

بغاوت ۔ شٹ اپ کال ضروری ہے

;200;جکل بھارتی چینلز پاکستان میں چلتے سیاسی حالات پر لمبے لمبے ۔ ۔ میرتھن پروگرام ۔ ۔ کر رہے ہیں ، اگر ;200;پ کے پاس ڈش یا موبائیل فون کے ذریعے بھارتی چینل دیکھنے کا انتظام موجود ہے تو پھر ;200;پ کو اپنے ملک میں اپنی اپوزیشن کے رچائے ۔ ۔ ملک دشمن ناٹک ۔ ۔ کے ترجمان ہمارے اپنے چینلز کم اور بھارت کے سارے کے سارے چینل مرچ مصالحہ لگا کر ذیادہ دکھاتے نظر ;200;تے ہیں ۔ یقین فرمائیں ، ;200;جکل اپوزیشن رہنماوں کی شکلیں ذیادہ بکتی اور دشمن ملک کی سکرینوں پر زیادہ دکھتی ہیں ۔ ان کی محبتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ نواز شریف، مریم نواز، مولینا وغیرہ کو ۔ ۔ لائیو کٹ ۔ ۔ کیا جاتا ہے اور بریکنگ پر بریکنگ چل رہی ہوتی ہیں ۔ انڈین چینلز پاکستانی اپوزیشن کو مظلوم اور یہاں کی حکومت کو ۔ ۔ ظالم سامراج ۔ ۔ کی طرح پیش کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے تو پاکستان میں حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان باقاعدہ ایک خانہ جنگی کا نقشہ پیش کر دیا ہے،،،، جسکی کمانڈ ;200;جکل ایک ہارا ہوا ۔ ۔ مذہبی ملاں پیٹ پوجا ۔ ۔ کرتا نظر ;200;تا ہے،جسکی باقاعدہ اپنی ملیشیا بھی موجود ہے ۔ قارئین کرام:- پہلے پہل کوئی ایک ;200;دھ پارٹی کبھی کبھار قومیت یا لسانی بنیادوں پر ۔ را ۔ ۔ موساد ۔ یا ۔ سی ;200;ئی اے ۔ کے اشارے پر ناچتی یا اسکا کوئی بھولا بھٹکا سرپھرا رہنما ہماری فوج پر ہرزہ سرائی کرتا لیکن وہ بھی ایک لپٹی لپٹائی تنقید ہوتی ;34;پھر رات گئی بات گئی;34; کے مصداق جہاں جہاں اصلاح کرنی ہوتی، پس پردہ سمجھا بجھا دیا جاتا، مناسب نٹ بولٹ کس دیئے جاتے، سرپھروں کے دماغی چکر نکال دئے جاتے بلکہ بڑے بڑے ۔ گھن چکروں ۔ کو ناک کی سیدھا میں چلنا سکھا دیا جاتا اور یوں سات دہائیاں بیت گئیں لیکن کسی کو اپنی افواج کی بے قدری یا بے توقیری کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ اس ملک نےاپنی بہادر سپاہ کے خون سے کئی جنگیں بھی لڑیں ، مختلف سازشوں اور سرکشیوں کو بھی دبوچا، بڑے بڑے باغیوں کی بھی سرکوبی کی، لیکن یہ جو کچھ ;200;جکل ہو رہا اس طرح کا ۔ ۔ برہنہ تماشہ ۔ ۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ملک سے بھاگ کر اغیار کے ہاتھوں کھلونا بن کر ایک اچھی بھلی دائیں بازو کی پارٹی کے سربراہ کا سیدھا فوج پر حملہ;238; کہتے ہیں وہ جن پہ مان تھا وہی دغا دینے لگے ۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے، جس سے نیکی کرو اس کے شر سے بچو ۔ اور یہ کہاوت بھی بہت مشہور ہے کہ سانپ کو جتنا مرضی دودھ پلاو، موقع پاتے ہی ڈنگ مارے گا ۔ اور اس ۔ ۔ سنپولئے ۔ ۔ نے بھی ;200;خر وہی کیا جسکی کسی کو امید تک نہ تھی ۔ ہم نے اپنی زندگی میں درجن بھر سے زیادہ انتخابات دیکھے، کئی مرتبہ ووٹ ڈالے اور اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا، ہم نے دیکھا کہ 80 کی دہائی تک کشمیر کی ;200;ذادی کی بات ہوتی، مہنگائی بےروزگاری بے حیائی کے خاتمے پر منشور دیئے جاتے، مزدور کسان اور عام ;200;دمی کے حقوق کی بات ہوتی اور سب سے بڑا ۔ ۔ قومی غیرت ۔ ۔ کا نعرہ ;34;انڈیا کی ;200;نکھوں میں ;200;نکھیں ڈالنا ہوتا;34; لیکن جب سے میاں صاحب کو ;34;مجھے کیوں نکالا ;34; کا دورہ پڑا ہے، سب ریت روایات، ادب و ;200;داب کو یکدم تیاگ سا دیا گیا ہے ۔ کھلم کھلا ملکی سلامتی کو داو پر لگا دیا گیا ہے، ;200;ئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ۔ ۔ مجھے کیوں نکالا ۔ ۔ کا بدلا لینے کیلئے سیدھا فوج کو ہی نشانے پر لے لیا گیا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ وہ پودا ہے جو اسی باغ کی ایک چھوٹی سی کیاری میں اگا، اسکی مکمل ;200;بیاری کی گئی کہ یہ ایک دن ۔ ۔ سکھ چین ۔ ۔ کا کام کریگا، لیکن موقع پاتے ہی یہ ۔ ۔ زہریلہ تھوھر ۔ ۔ اب سارے گلشن کو اجاڑنے کے درپے ہے;238; ۔ بات کیا ہے،،، مجھے کیوں نکالا ۔ اور ووٹ کو عزت دو، بھئی یہ جو فیصلہ ;200;پ کے خلاف ;200;یا ہے یہ پا کستان کی عدالت عظمیٰ نے سنایا ہے یا ہندوستان کی عدالتوں نے;238; یہ جو ۔ ۔ عمران خان ۔ ۔ کو سوا ۔ ڈیڑھ کروڑ ووٹ پڑا ہے کیا اسکی بھی کوئی عزت ہے ;200;پ کی نظر میں ;238; کیا وہ ووٹ ہی نہیں ہے جو ;200;پ جیسی کرپٹ پارٹیوں کو اسدفعہ لوگوں نے نہیں ڈالا ۔ کیا ;200;پ کے خیال میں سارے کے سارے ووٹر ایک ایک پلیٹ ۔ بریانی ۔ کے ہی بھوکے ہوتے ہیں ;238;اور یہ جو حرکتیں ;200;پ کرتے ہیں جو ہماری فوج اور ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل بغیر کسی رکاوٹ یا ویزے لاہور ;200;کر ;200;پکی شادیوں میں شامل ہو گا تو پھر غازیوں اور شہدا کا خون تو کھولے گا اور ۔ درد دل ۔ رکھنے والے مقتدر حلقے سوال تو پوچھیں گے کہ یہ ۔ ڈریکولا ۔ یہاں کیوں ;200;یا;238; ۔ جب کلبھوشن یادیو کا نام لیتے ;200;پ کی زبان گنگ ہو جائے،تو سوال تو ;200;پ سے بنتا ہے کہ ;200;پ کی نظر میں ملکی سلامتی اہم اور مقدس ہے یا اپنا کاروبار;238;جب اربوں کے گھپلے اور ;200;دھے لندن کی جائیداد کی ۔ منی ٹریل ۔ دینے سے ;200;پ قاصر رہو تو ۔ ;200;پکو ۔ ۔ نکالنا ۔ بلکہ ۔ اٹھا کر باہر پھینکنا ۔ تو بنتا ہے نا بھائی صاحب ۔ جناب یہ ہمارا ملک ہے، کسی اکیلے کے باپ کا نہیں جو ;200;پکی اولاد کھلے عام اپنے ;200;پ کو ۔ حکمران طبقہ ۔ کا خطاب دیں اور ہ میں اپنی ۔ رعایا ۔ سمجھیں ۔ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے جب جھوٹ کے سہارے ہم سب کو اپنے بے تکے اور بلاجواز نظریات کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کرو گے تو عوام ;200;پکو دھتکاریں گئے نہیں تو کیا ;200;پکو اپنے سر پر بٹھائیں گئے;238; ۔ یاد رکھیں ہر کوء نان قیمے پر بکنے والا ۔ بے ضمیر ۔ نہیں ہوتا ۔ میاں صاحب ۔ سچ تو یہ ہے کہ اب ;200;پ کا کھیل ختم ہو چکا ۔ ;200;پ قصہ ماضی ہیں اور یقین کریں کروڑوں پاکستانیوں کی یہ دعا ہے کہ خدا نہ کرے وہ اپنی بقیہ زندگی میں کبھی ;200;پ کا نقلی اور کرپشن سے لتھڑا دور پھر سے اپنی ;200;نکھوں سے دیکھیں ۔ اور میرا مشورہ ہے کہ بھگوڑے تو ;200;پ ہو ہی چکے ہیں اور فی الحال ;200;پ واپس ;200;نا بھی نہیں چاہتے جب تک کہ حالات ;200;پ کے حق میں نہ ہو جائیں یا ذبردستی کرا دئیے جائیں جسکے لئے ;200;پ ;200;ج کل دن رات اپنے بیرونی دوستوں اور گیارہ ہارے ہوئے جواریوں کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور کسی بھی طرح اقتدار کے حصول کیلئے ملک کی سلامتی کو داو پر لگانے سے گریز نہیں کر رہے، بہتر ہے تھوڑا وقت نکالیں ، لندن میں اپنے اڑوس پڑوس اس راندہ درگاہ اور غدار وطن ۔ الطاف بھائی ۔ کو تلاش کریں ، یقینا ;200;س پاس کسی کونے کھدرے میں وہ بد بخت کہیں منہ چھپائے بیٹھا ہو گا اور اس سے صرف ایک سوال پوچھیں : الطاف بھائی عزت اپنے ملک سے محبت اور وفاداری میں ملتی ہے یا ملکی دشمنی میں :–