- الإعلانات -

وزیراعظم عمرا ن خان احتساب کے لئے پُرعزم

بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد شروع دن سے اپوزیشن کے معاملے پرسخت پالیسی اپنا ئی ہوئی ہے اورکسی چورڈاکوکواین آراونہ دینے کے اعلان کررکھاہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ملک لوٹنے والوں کومعاف نہیں کرناچاہیے جس جس نے بھی ملکی دولت لوٹی ہے اس کاکڑا احتساب ہوناچاہیے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سابقہ اور موجودہ حکمران طبقات میں سے جس جس نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر لوٹ مار کی ہے اور وہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں یا رہے ہیں ان کےخلاف قانون کے تقاضوں کے مطابق کارروائی عمل میں ;200;نی چاہیے ۔ احتساب کے بلا امتیاز اور بے لاگ عمل پر کسی کو اعتراض نہیں ہوناچاہیے تاہم اس حوالے سے قانون و انصاف کے فورموں پر ہی کارروائی ہونی چاہیے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کی کئی اعلیٰ قیادتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں ۔ کئی جیل میں ہیں ۔ کرپشن کا خاتمہ اور کڑا احتساب تحریک انصاف کا ایجنڈا ہے جس سے کرپشن کے مقدمات کی زد میں ;200;نے والوں کے سوا کسی کو اعتراض نہیں بلکہ اس حوالے سے عوام میں مثبت سوچ پائی جاتی ہے ۔ یقینا عمران خا ن احتساب کے نعرہ کے ایجنڈے پرقائم ہے مگردوسری طرف ان کومہنگائی پربھی توجہ دینی چاہیے اس وقت عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ مہنگائی و بیروزگاری کے خاتمے کے انتظار میں ان کی ;200;نکھیں پتھرا گئی ہیں ۔ حکومت وعدوں کے مطابق عوام کو ریلیف نہیں دے سکی جس سے عام شہری مایوس ہے ۔ اصل میں غریب کل بھی تکلیف میں تھا غریب کی زندگی آج بھی مشکل میں ہے ۔ غریب کو کل بھی بہتری کی امید تھی غریب کو آج بھی بہتری کی امید ہے کیونکہ اس کا سب کچھ اسی ملک میں ہے اسی ملک سے ہے اس لیے غریب کو اپنے ملک کے حالات بدلنے کی امید ہے ۔ اس ملک کے حالات بدلیں گے، اس ملک کے دشمن نیست و نابود ہوں گے ۔ یہ ملک ترقی کرے گا اس سفر میں ہمارا نام ان لوگوں میں آنا چاہیے جو اس ملک کے خیر خواہ ہیں ۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ تھوڑاصبرکریں ملک کو طاقتوربنے گا ۔ وزیراعظم سے یہی درخواست ہے کہ وہ عوام کی اجیرن زندگی کا ادراک کرتے ہوئے انہیں ریلیف دے ۔ گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان نے عیسیٰ خیل میں تقریب سے خطاب کے دوران کہاہے کہ لوگوں کو تھوڑا صبر کرنا ہے پاکستان دنیا کا طاقتور ملک بنے گا ۔ لندن جاکر علاج کرانے والوں کو عوامی مسائل کا پتہ نہیں ایک شہر پر پیسہ لگانے سے قو میں ترقی نہیں کرتیں پسماندہ علاقوں کی ترقی ترجیح ہے ;200;ئی جی کو کہہ دیا تھانوں میں غریب پر ظلم نہ ہو، طاقتور اور کمزور پر قانون کا یکساں اطلاق چاہتے ہیں ۔ عوامی حکومت عوامی مسائل پہ توجہ دے رہی ہے مگر اربوں روپے کھانے والے ملک لوٹ کر لندن جا بیٹھے ہیں اور ہ میں مسائل ہی ورثے میں دے گئے ان لوگوں کو عوامی مسائل کا کیا پتہ ہے پہلے دور میں صرف ایک ہی بڑے شہر پہ توجہ دی جاتی رہی ہے جس سے باقی شہروں کی حق تلفی ہوئی لندن میں علاج معالجہ کرانے اور بسیرا کرنےوالے عوامی مسائل کیا جانیں پاکستان میں کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم و نا انصافی کا نہیں جلد پاکستان دنیا میں طاقتور ملک بنے گا ۔ خٹک بیلٹ میں پانی کی فراہمی کی جائے گی نمل کالج نالج سٹی بنے گا نئے نئے کورسز کرائے جائیں گے یہاں آکسفورڈ لیول کی تعلیم دی جارہی ہے یہاں مزید نئے شعبے کھولیں گے اور اس میں زراعت پہ ریسرچ بھی ہو گی جس کا فائدہ میانوالی کو ملے گا اور اس کی زراعت مضبوط ہوگی ۔ نمل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ یونیورسٹی ہے اب نمل کالج میانوالی بھی اسی طرح نالج سٹی بنے گا یہاں ایگریکلچر پر بھی ریسرچ ہو گی تاکہ میانوالی کی زرعی ترقی ہوقو میں تعلیم سے آگے بڑھتی ہیں کپاس یا کپڑے سے قو میں آگے نہیں بڑھتیں بلکہ تعلیم سے آگے بڑھتی ہیں نمل کے طلبا آج آکسفورڈ لیول کی تعلیم لے رہے ہیں اور کامیاب ہو کر باہر ملازمتیں کر رہے ہیں اور یہاں امیر غریب سب اچھی تعلیم لے رہے ہیں مستقبل میں نمل میانوالی بھر پور ترقی کر کے اسلام آباد نمل کی طرح کالج سے بڑی یونیورسٹی بنے گا ا ۔ قبل ازیں نہوں نے چاپری ڈیم پانی کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور نمل کالج و ہاسٹل کی نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگز کا بھی افتتاح کیا اور کئی دیگر منصوبوں کا بھی افتتاح وسنگ بنیاد رکھا ۔

مسلح افواج کی امن مشنزکے لئے قابل ستائش خدمات

مسلح افواج کی جانب سے اقوام متحدہ کے 75 ویں یوم تاسیس پر نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ پر پیغام لکھا گیا کہ پاکستان کے اب تک 2 لاکھ افسر اور جوان 28 ممالک میں 46 مشنز میں خدمات دے چکے ہیں ۔ بین الاقوامی امن کےلئے پاکستان کے 158 افسروں اور جوانوں نے جانیں قربان کیں ۔ افواجِ پاکستان کی اقوامِ متحدہ کیساتھ امن کیلئے خدمات کی ایک نمایاں اورطویل تاریخ ہے، پاکستان نے 30 ستمبر 1947 کو اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں شمولیت اختیار کی، اقوام متحدہ امن مشن میں شمولیت ایک نامور دور کا آغاز تھا جس کی تاریخ بے مثال ہے ۔ پاکستان کا اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا آغاز 1960 میں کانگو میں اپنا پہلا دستہ تعینات کرنے سے ہوا ۔ اقوامِ متحدہ کے امن مِشنز میں 157جوانوں بشمول 24 افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے حوالے سے بہترین خدمات سر انجام دے رہا ہے، متعددعالمی رہنماءوں اور اقوام متحدہ قیادت نے عالمی سطح پرپاک فوج کی کارکردگی کو تسلیم کیا ۔ پاکستانی خواتین بھی اقوامِ متحدہ امن مشن کانگو میں امن کےلئے سر گرم عمل ہیں ، امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ ایلس ویلز نے امن کےلئے پاکستانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین کا کردار نہایت متاثر کن، امن کےلئے خدمات کلیدی ہے ۔ اقوامِ متحدہ چھتری تلے تاحال83پاکستانی خواتین امن مشن کا حصہ ہیں پاکستان 19جون2019 میں کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے ۔ آج بھی پوری دنیا میں خصوصاً عالم اسلام میں پاک فوج پر فخر کیا جاتا ہے ۔ بلاشبہ افواج پاکستان ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے ۔ انشاء اللہ پاکستان قائم و دائم رہے گا جس کی محافظ افواج پاکستان ہے ۔

بھارتی اقدامات انسانی حقوق کے منافی

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی کے تمام تر منصوبوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھی کررہا ہے وہ انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے ، بھارت اس وقت وادی کشمیر میں نہتے مسلمانوں کے حقوق کو بری طرح سے پامال کررہا ہے جو کہ انسانی حقوق کےلئے ناقابل برداشت ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بارے ایک رپورٹ بھی شاءع کی جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لکھا کہ بھارت نے1989سے لے کر ا ب تک تقریباً96ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا ہے ، جس میں تقریباً8ہزار نہتے کشمیریوں کو بغیر کسی وجہ کے پولیس اور فوج کی جانب سے حراست میں لے کر شہید کیا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ہمارے اندازے سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں ، چونکہ وادی میں گزشتہ ایک سال سے تاریخ کا طویل ترین کرفیو لگا ہوا ہے اور انٹرنیٹ پر مکمل پابندی ہے ایسے میں اعداد و شمار کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ا س بارے ایک مفصل رپورٹ بھی اقوام متحدہ کو ارسال کردی ہے جس میں اقوام متحدہ کو وادی کشمیر میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی سمیت دیگر حالات سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ بھارت کا زہریلا پروپیگنڈا اپنی موت ;200;پ مر جاتا ہے تاہم عالمی طاقتیں اور حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظی میں اقوام متحدہ اور دیگر ادارے بھارت کے بے نقاب کرتوتوں پر تادیبی اقدامات کریں تاکہ خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور انسانیت خوشحال ہو ۔ حق خود ارادیت کے حصول کےلئے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں ، کشمیری نوجوان حق خود ارادیت کے حصول کےلئے اپنے آباء واجداد کی طرح پرْ عزم ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کے وکیل اور سفیرکے طورپر کشمیریوں کے حقوق کی آوازدْنیا بھر میں بلند کررہے ہیں ۔ حکومت کی کوششوں کے باعث عالمی سطح پر کشمیریوں کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔