- الإعلانات -

نواز شریف کس ڈگر پر

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف جب اقتدار میں آئے تو جنرل جیلانی اورجنرل ضیا الحق مرحوم کی مہربانیوں سے ہی آئے ۔ ضیا الحق نے ان پر کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے انہیں وزارت اعلیٰ دی اور انہیں وہ بنادیاجس کا یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ یوں یہ انہی کے سہارے چلتے ،بڑھتے وزارت عظمیٰ تک جا پہنچے ۔ وزارت اعلیٰ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک کے سفر میں اسٹیبلشمنٹ کا مبنی بر تعاون کردار ان کو بہت اچھا لگاور یہ انہیں سراہتے رہے ۔ اس کے گیت گاتے رہے ۔ اِن کا اِن کو سراہنا اور اِن کے گیت گانا بنتابھی تھاکہ انہوں نے انہیں عام سے خاص بنادیاتھا ۔ ایک عام فرد سے ایک خاص شخصیت میں ڈھال دیاتھا ۔ سو اِسی شفقت و محبت میں اقتدار کا سفر جاری تھا اور پوری محبت کی پینگیں چڑے ہوئے تھا ۔ اقتدار کے محاسن پر بیٹھ کر ان کے انداز،طوراطوار تک بدل گئے اور یہ وزیراعظم سے امیرالمومنین بننے کی طرف جا بڑھے ۔ اس دیس کا راجہ بنے ،نہیں میرا مقابل دور دور تک سمجھے، دیس کا اکیلا راجہ بنے فوج کے ہی ایک سپہ سالار جنرل پرویزمشرف کو بیرونی دورے سے واپسی پر حالت پرواز میں ہی بے بس و مجبور تصور کرتے اپناکمال کھیل کھیلے اُنہیں نیچا دکھاتے اور کرسی سے ہٹاتے خود ہی اقتدار کی راہداریوں سے لڑک گئے ،پھر ایسے ذلیل ہوئے کہ اپنی ہی حماقتوں کے سبب ایک اسلامی ملک کے تعاون سے جیل سے چھوٹے دس سال کے لیے سعودی عرب جلاوطن ہوگئے ۔ یوں اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر سوار ،انہی کے بل بوتے پر اس مقام پرفائزہوا نوازشریف سارے اعزاز و احترام سے گیا،سب کچھ سے گیا ۔ ان کی اقتدار سے محرومی کے بعد ہونے والے الیکشن میں ان کی جماعت بمشکل ڈیڑھ درجن سیٹیں ہی لے سکی،سب کاموں سے بے کار ہوئی کھڈے لائن لگ گئی ۔ ان کے جانے کے بعد ن لیگ کی تمام تر ذمہ داری جاوید ہاشمی پر آئی اور انہوں نے پارٹی کے تن مردہ میں جان ڈالے رکھی ،اپنی ہمت اور فہم وفراست سے اِسے زندہ رکھا ۔ اس دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ نوازشریف پھرسے کرشماتی طریقے سے وقت سے پہلے ہی آن وارد ہوکر دوبارہ سے وزارت عظمیٰ کے حق دار ٹھہرے ۔ سارے گلے شکوے دور ہوچکے تھے ،ساری رنجشیں بھلائی جاچکی تھی ۔ ایک اچھے عہدوپیمان کے ساتھ چلنے کی باتیں ہورہی تھی ۔ نواز شریف کو کھویا ہوا اقتدار پھر سے مل چکاتھا ۔ نواز شریف کے ہر طرف باغ و بہار ہوچکی تھی ۔ مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ٹھہری تھی شادمیانے بجائے جارہے تھے ۔ جیت کی خوشی دیدنی تھی مگر پہلے اور اب ملے اقتدار میں بہت فرق آچکاتھا ۔ پہلے جب وزارت کی کرسی تھی تو معاملہ کچھ اور تھا اور اب کی وزارت کی کرسی میں سلسلہ کچھ اور ہی چل پڑاتھا ۔ پہلے محبت تھی اب نفرت تھی ۔ اسٹیبلشمنٹ سے محبت سے لے کر نفرت تک کے سفر میں میاں صاحب پر پرویز مشرف کے اقتدار پر براجمان ہونے اور خود کے اقتدار سے محرومی نے بہت برے اثرات مرتب کیے تھے ۔ اسٹیبلشمنٹ سے اب وہ پہلی سی محبت کے محض صرف دعوے ہی تھے حقیقی طور پر کچھ بھی نہ تھا ۔ اقتدار پانے کےلئے ایک خاموش کمٹمنٹ تھی ۔ کرسی تک پہنچنے کےلئے ایک ڈرامہ تھا ۔ دراصل نوازشریف کے دل میں اُن کی طویل جلاوطنی اور اقتدار سے بے عزت بے دخلی نے فوج سے بغاوت پیدا کردی تھی ۔ اب وہ بظاہر تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تھے مگر دل میں وہی جلاوطنی اور اقتدار سے محرومی کاروگ ہی پالے ہوئے تھے ۔ سو اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کے رنگ میں رنگے جارہے تھے ۔ محبت دور دور تک نہ تھی،بس ایک دکھاوا اور دھوکا تھی ۔ اقتدار ملتے ہی سب دوستوں کے ہمراہ باہم شیروشکر مگراسٹیبلشمنٹ سے ناخوش بھی تھے ۔ فوج سے اِن کی نفرت کی صحیح ابتدابھی جنرل پرویز مشرف کے ملک میں ایمرجنسی ڈیکلیئر کرنے کے نتیجے میں اپنے وار مسلسل خالی جانے پر ہوئی،جو ختم ہونے میں ہی نہ آئی ۔ تاہم پھر بھی اقتدارسے بری طرح چمٹے ہوئے تھے کہ پانامہ کیس میں کرپشن کیسزز میں لتھڑے ثابت ہوئے معزز عدالت عالیہ سے سزا وار ہوئے اقتدار سے گئے ۔ تب سے تو اسٹیبلشمنٹ کے پکے دشمن بن گئے ۔ ان کی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف اوردشنمنی کی بڑی وجہ اِن کی اقتدار سے فوج کے ذریعے زبردستی بے دخلی ہے ۔ اِن کا اقتدار کے محاسن سے کسی نہ کسی سبب سے باربارگرنا انہیں چوٹ دے گیا اور رُلاگیا ۔ یہ اِن کا رُلنا رُلاناہی ہے انہوں نے اقتدار سے محرومی اور کرپشن کیسزز میں ریلیف نہ ملنے پراور اپنے پاس کچھ نہ پاکر اِن کی خوب کلاس لینی شروع کردی اور خلائی مخلوق کی صدالگائے وہ وہ اُدھم مچایاکہ خدا پناہ ۔ دراصل یہ اپنی کرپشن کے سبب اقتدار سے دوری کو اسٹیبلشمنٹ کی کارروائی سمجھتے ہیں ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے اِن کو کندھا نہیں فراہم کیا ،اگر اسٹیبلشمنٹ چاہتی تو انہیں بچاسکتی تھی لیکن انہوں نے انہیں نہیں بچایا، سو یہ اسٹیبلشمنٹ کا ہی کیا دھرا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ سے بہت سارے اختلافات اور اپنی من مانیوں کے سبب بھی اِن کی نظر اسٹیبلشمنٹ پرہی جاتی ہے کہ یہی اسے اقتدار سے دور کرنے والے ہیں ۔ یہ اپنی کرپشن کو اقتدار سے دوری سمجھتے ہی نہیں ہے،اختلاف کو اقتدار سے دوری تصور کرتے ہیں اور اسے ایک سیاسی انتقام سے تعبیر کرتے معزز اداروں پرخوامخواہ مختلف طرح کے الزام دھرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی طرح دل سے اسٹیبلشمنٹ کے حق میں قطعی طورپرنہیں ہیں ۔ اب اقتدارسے محرومی کا سارا بدلہ پاکستان اور فوج سے لینا چاہتے ہیں اور پھریہ کہ یہ بزنس مین بھی ٹھہرے ، اقتدار اور اختیار کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ بہت سے ہاتھوں میں کھیل سکتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ملک کی ناءو ڈبونے تک آسکتے ہیں ۔ پاکستا ن اور عوام سے اِن کو کوئی سروکار نہیں ہے ۔ یہ تو تب پاکستان رہتے ہیں جب اقتدار میں ہوں ورنہ اِن کا ٹھکانہ اکثر باہر ہی ہوتاہے ۔ اب ہی دیکھ لیں ،وطن عزیز کے مشکل وقت میں بھی علاج کا بہانہ بنائے مگر نہ کروائے باہر ہی بیٹھے ہیں اور محض صرف اپنی حماقتوں کے سبب پہنچنے والی تکلیفوں پر ناحق ملک پاکستان اور اس کے اداروں پر چڑھائی کیے ہوئے ہیں ۔ اقتدار سے دوری کو اپنے ہاتھوں کا کیا ہوا نہیں سمجھ رہے ،اداروں پر الزام دھرتے نظرآتے ہیں ۔