- الإعلانات -

وزیراعظم پاکستان حق بجانب ہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر سن کر نیا عمران خان بھی بن گیا ہے، اب کسی ڈاکو کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہو گا،کسی کو وی آئی پی جیل نہیں ملے گی، نیب اور عدالتیں جلد مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں ، حکومت سے جو مدد چاہئے فراہم کی جائے گی، نواز شریف فوج اور عدلیہ میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ، نیب آزاد ہے، میرے نیچے جو ادارے ہیں ان سب کو تیار کروں گا اور وہ لوگ جو چوری کر کے پیسہ باہر لے کر گئے ہیں انشاء اللہ ان کو پکڑیں گے،انہوں نے کہا کہ کہ وہ نیب اور عدالتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مقدمات کا جلد فیصلہ کریں ، نواز شریف کوشش کر رہے ہیں کہ عدالتوں میں انتشار پھیلائیں ، کبھی کسی جج کا نام لے رہے ہیں کبھی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی بات کر رہے ہیں ۔ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ باہر جو اینٹی پاکستان فورسز ہیں ان میں نمایاں ہو جائیں ۔ جنرل باجوہ نے جس طرح مشکل وقت میں حکومت کی مدد کی،جس طرح فوج نے ہمارے ساتھ کراچی میں مدد کی جب کراچی میں بارشیں ہوئیں ،کرونا میں مدد کی،جب ملک میں پیسہ نہیں تھا تو دو سال فوج نے دفاعی اخراجات میں کمی کی کیونکہ ان کو فکر تھی کہ پاکستان کے پاس پیسہ نہیں ہے، ہر جگہ اور حکومت کی فارن پالیسی پر جنرل باجوہ ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں ، نواز شریف کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت اور فوج میں دراڑ ڈالیں یا فوج میں انتشار پیدا کریں ۔ پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کو پاناما کیس میں احتساب عدالت کی طرف سے قید و جرمانے کی سزا ہو چکی ۔ اس کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بنچ نے انہیں تاحیات نا اہل قراردیا ۔ اُس بنچ کے ممبران میں سے جسٹس گلزار احمد، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں ۔ میاں نواز شریف کے خلاف فیصلوں کی بنیاد 11 رُکنی جے آئی ٹی کی رپورٹ بنی تھی ۔ ایک کیس میں سزا کے خلاف اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی دوسرے میں میاں نواز شریف جیل میں تھے کہ ان کی شدید بیماری کی خبریں میڈیا میں نشر اور شاءع ہونے لگیں ۔ وہ کئی دن ہسپتال میں داخل رہے ۔ ان کا اصرار تھاکہ علاج کے لیے لندن بھیجا جائے ۔ حکومت کی طرف سے ان کی انتہائی مخدوش صحت کے باعث جو ان کی پارٹی کے لیڈروں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹوں سے ظاہر ہوتی تھی، ان کو لندن جانے کی اجازت دے دی گئی ۔ اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹس نے بھی مشروط اور چند ہفتوں کی ضمانت دے دی ۔ حکومت نے سات ارب 20 کروڑ روپے کے ایڈمنٹی بانڈ کی شرط رکھی ۔ یہ بانڈ فوری طور پر جمع کرا کے لندن جانے کے بجائے عدالت سے رجوع کرنے کو ترجیح دی گئی جس نے حکومت کی یہ شرط ختم کر کے میاں نواز شریف کے برادرِ اصغر شہباز شریف کی ضمانت پر لندن جانے کی اجازت دیدی ۔ کچھ لوگوں کی طرف سے ڈیل کی باتیں سامنے آئیں ۔ کچھ فوج کی طرف، انہیں لندن بھجوانے کی داستانیں تراشتے رہے ۔ علاج کی غرض سے لندن جانے والے میاں نواز شریف آج تک کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے ۔ اس کے برعکس اپنی دیگر سرگرمیاں جن میں سیاسی امو ربحسن خوبی سر انجام دیتے رہے ۔ لاہور میں وہ صاحب فراش بتائے جاتے رہےمگر ائیر پورٹ سے جہاز میں سوارہوئے تواُس طرح کے بیمار نہیں لگ رہے تھے جیسےان کے بارے میں خبریں گردش کر رہی تھیں اور ان کی پھرتیاں نوجوانوں کو مات دےر رہی تھیں ایک موقع پر میاں نواز شریف کے ذاتی معالج نے ان کے ہسپتال داخل کی تاریخ کے بارے میں ٹویٹ کیا اور اگلے روز ڈاکٹر عدنان ہی نے کہا کہ میاں صاحب نے واضح کیا ہے کہ میاں صاحب نے اپنے آپریشن کواپنی صاحبزادی کے لندن آنے سے مشروط قرار دیا ہےلہذامریم نواز نے لندن جانے کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا مگر اجازت نہ مل سکی ۔ عقل عیار نے پاکستان سے مریم نواز کو رفوچکر کروانے کے سو بھیس بنانے کی کوشش کی مگر کامیابی ان کا مقدر نہ بن سکی ساری تدبیریں ناکام پا کرپاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان میں سب کچھ پاک فوج ہی کرتی ہے ۔ حالانکہ ان کے نمائندے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں کرتے ہیں جس کی تصدیق ملاقاتیں کرنے والوں اور مریم نواز نے بھی کی ہے ۔ میاں برادران کے پاس ان ملاقاتوں کا کوئی جواز ہے;238; بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میاں برادران کو صرف اور صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے اور وہ ہر حال میں ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہنا چاہتے ہیں انہیں قطعا پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن اب وہ زمانہ گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے جن مقاصد کیلئے میاں نوازشریف کے با اعتماد ساتھی پاک فوج کی قیادت سے ملتے رہے بادی النظر میں ان کے حصول میں کامیابی نہ ہونے پر میاں نواز فرسٹریٹڈ ہو گئے اور پاک فوج کے خلاف یکطرفہ محاذ کھول لیا ۔ عدلیہ کے بارے میں بھی وہ خیر کا کلمہ نہیں کہہ رہے ۔ گوجرانوالہ کے جلسہ میں تو میاں صاحب نے اپنے اندر کا غبار خوب نکالا اور وطن عزیز کےخلاف جو زہران کے باطن میں نہا ں تھا اس جلسے میں کھل کر ظاہر ہو گیا یہی وجہ ہے کہ ان کے اس بیانیے کی ان کی پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کھل کر حمایت نہیں کر رہی ۔ پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف تین بار ملک کے اعلیٰ ترین منصب پرفائز رہنے والا شخص بات کرے گا تو اداروں کی بدنامی کا اور جگ ہنسائی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا اور میاں صاحب کے اس بیانیے سے ملک کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اس کا اندازہ لگانے کے لیے بھی کسی نجومی کی ضرورت نہیں ہے اب جن عدالتوں نے میاں صاحب کوعلاج کیلئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی وہی انہیں واپس آنے کو کہہ رہی ہیں ۔ انہیں اشتہاری اور مفرور قرار دیا جا رہا ہےایسا نہ ہو کہ میاں نوازشریف کا یہ انکاری رویہ موجودہ حکومت اور اداروں کو آخری حد تک جانے پر مجبورکر دے اب ضروری ہو گیا ہے کہ میاں نواز شریف کو وطن واپس لایا جائے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پاک فوج کے خلاف بکواس کرنے پرغداری کا مقدمہ قائم کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ ملک کے خلاف بھونکنے والوں کو نکیل ڈالی جا سکے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نون لیگ کا بیانیہ مودی سرکار کے بیانیے کا تکملہ معلوم ہوتا ہےاس پس منظر میں وزیراعظم عمران خان کا گوجرانوالہ میں سابق وزیراعظم کے خطاب پر ردعمل مناسب نظر آتا ہے ۔ عدالتوں سے ہر شہری جلد فیصلوں کی توقع رکھتا ہے ۔ ۔ روزنامہ پاکستان کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید اور وزیراعظم کا جوابی جارحانہ انداز سیاسی بحران کو بڑھا سکتا ہے ۔ ایسے ممکنہ بحران سے جمہوریت پٹری سے اترسکتی ہے جس کا ادراک ہر دو فریقین حکومت اور اپوزیشن کو ہونا چاہئے پاکستان کے تمام لیڈران کو چاہیے کہ وہ پاک فوج کے خلاف بات کرنے سے پہلے کروڑ مرتبہ سوچا کریں اگر اللہ نے آپکورتی برابر عقل بخشی ہے تو ;245245; پاکستان ہم سب کےلئے اولین ترجیح ہونا چاہیے اور پاکستان کے ئے تن،من،دھن سب کچھ قربان کرنے کےلئے تیار رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے ساتھ ہم لازم و ملزوم ہیں ۔