- الإعلانات -

اپوزیشن کے جلسے ۔ ۔ ۔ تحفظات و خدشات

مولانا فضل الرحمان کی نفسیات کا اگر بغورجائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مولانا جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو خوب ہنستے ،ہنساتے،اٹکھیلیاں کرتے ،قہقہے بکھیرتے نظر آتے ہیں ۔ دوسروں کی سنتے بھی ہیں اور دوسروں کوسناتے بھی ہیں اور ماحول خوشگوار رکھتے ہیں کہ جس میں خود سماسا جائیں یا دوسرے اس میں آجائیں مگرجب اقتدار سے محروم ہوئے ہیں ہرایک سے خفاخفا سے لگتے ہیں تب سے یہ ملک ان کو کاٹنے کو دوڑتاہے ۔ اس میں موجود ہرباسی مولانا کو اپنا دشمن لگتاہے ۔ مولانا کاپچھلے’’ آزادی مارچ ‘‘تجربہ کے بعد اب یہ حال ہی کا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حربہ بھی کچھ کرنے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ مولانا نے یہ جو جلسہ پروگرام حکومت وقت کے خلاف رچا رکھاہے اس میں کرنے کے کام کچھ نہیں ہیں صرف اور صرف دکھانے اوردل لبھانے کے ہیں ۔ پہلے کے’’ آزادی مارچ‘‘ میں ابصارالاسلام تنظیم کے جتھوں کے سرعام ’’آزادی مارچ‘‘کے نام پر باوردی ریہرسل اور مولانا کو سلیوٹ وسلامی کچھ اور ہی کہانی بتارہے تھے ۔ اب کے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ پلیٹ فارم پر مولانا کی خاموش ، ہلکی پرواز اوراحتجاج کوئی اور ہی ڈرامہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اب کے بار مولانا کا انداز گفتگو، بات چیت کا لب ولہجہ بتارہاہے کہ مولانا سمجھے ہوئے ہیں ۔ اب اپنے ساتھ دوسروں کوبھی کچھ سمجھانا اور اس جاری گیم کی حقیقت اور اس کی مجبوریاں بتاناچاہتے ہیں ۔ اب کے بار بھی وہ جانتے ہیں کہ کچھ نہیں ہونے جارہا،ان کے کیے گئے جلسوں میں کچھ نہیں پڑا ہوا،لوگ نکلیں گے ضرورمگر اپنے جیسے ہی،باشعور نہیں ۔ بات پھر وہی ہے کہ انہیں یہ جلسے کرنے ہیں اور ہر صورت کرنے ہیں ۔ اب کے بار بھی اُوروں کی فرمائش ہی کچھ ایسی ہے کہ جسے ٹالا نہیں جاسکتا،فراموش نہیں کیا جا سکتا ، جلسے کرنے ہیں چاہے کچھ بنے نہ بھی، حکومت اُلٹے یا نہ الٹے، مقاصد کا حصول یقینی بنانے کےلئے شرط صرف نکلنے کی ہے رزلٹ کی نہیں ہے ۔ مولانا گھاگ سیاستدان ہیں ، جانتے ہیں کہ وہ رزلٹ کے لیے نہیں جارہے ہیں صرف اور صرف اپنی ذاتی رُونمائی اور کسی اورکی خوشی کےلئے وہاں جارہے ہیں ۔ اپنے قبول کیے گئے اُوروں کے مشن کی تکمیل کےلئے جارہے ہیں جس میں رزلٹ کی تمنا کسے ہے اور پھر مقصد کے حصول کےلئے رزلٹ درکار بھی نہیں ہے ۔ یہ کرنے سے زیادہ دکھانے کا مشن ہے ۔ مقصدحکومت کا گراف ڈاءون کرنا اور پاکستانی امیج پوری دنیا میں خراب کرنامقصود ہے ۔ مولانا اورانکے ساتھیوں کی جدوجہدکو پہلے کی طرح اب کے بار بھی باریک بینی سے سمجھنے اور جانچنے کی ضرورت ہے ٍ ۔ مولانا اور انکے ساتھیوں کے حکومت و ریاست کےخلاف محاذآرائی بتارہی ہے کہ مولانا اب کے بار خاصے ہی غلط راہوں پر چل نکلے ہیں ۔ اب کے بار کی پالیسی مولانا کی تھوڑی سی تنقید اور زیادہ احتیاط ٹھہری ہے جبکہ نوازشریف احتیاط بالکل نہیں تنقید ہی تنقیدہے ۔ آزادی مارچ میدان فضل الرحمان ’جیتے‘‘تھے جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک اتحاد میلہ کے نوازشریف ’’فاتح‘‘ٹھہرے ہیں ۔ گیم ون کے سرخیل فضل الرحمان تھے گیم ٹو کے رہبر نوازشریف ہیں ۔ اب کے بار پہلے سے ذلیل و نامراد افرادکا کام صرف میدان سجانا ہے ،بھڑکانے کا کام نوازشریف سے لیا جا رہا ہے اور ایسا اب کے بار کی ’’شطرنج گیم‘‘کا پہلا اصول ٹھہراہے ۔ پچھلے بے کار مہرے صرف اب کے بار ناچنے ،جھومنے کا ہی فریضہ سرانجام دے گے جبکہ گیت صرف مریم اور نواز ہی کی سننے کو ملیں گے ۔ ہمراہ کچھ تھوڑی بہت موسیقی بجانے کاکا بلاول زرداری سے بھی لیا جاسکتاہے ۔ خداخیرکرے الیکشن جو ہارے ہوئے چند سیاسی و مذہبی مداری سیاستدان ملک میں گاہے بگاہے احتجاج کے نام پر نجانے کیا کھیل کھیلنے جارہے ہیں ۔ کون سے حق مانگنے کے مطالبے کے موڈ میں ہیں ۔ کون سی عوامی خدمت کے جذبہ سے مختلف شہروں میں چڑھائی کا خیال دل میں محفوظ رکھتے ہیں ۔ مجھے اپوزیشن کی حب الوطنی پر قطعاًکوئی شک نہیں ہے مگر مشکل اور نازک ملکی حالات میں ایسے احتجاج اور جلسوں پر ضد انہیں مکمل مشکوک بنائے ملک دشمن قوتوں کی تسکین کا سامان بنائے ہوئے ہے ۔ ملک کی ابتر حالت،ڈانواں ڈول معیشت ،ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری ،فٹیف مسائل اورخطے میں کشمیر جل رہا جیسی صورتحال میں اپوزیشن کا یہ’’ جلسے جلوس پروگرام ہمارے ملک وقوم کی مشکلات و وتکالیف میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہیں ہ میں کسی المناک سانحہ سے دوچار نہ کردے ۔ بحیثیت ایک ریاست کے ایک ذمہ دارشہری ہونے کے ناطے ہ میں اس پر بھی غور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔