- الإعلانات -

جب وقت شہادت آتا ہے

شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں فوجی قافلہ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں 6 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے ۔ دوسری طرف گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں اوجی ڈی سی ایل کے قابلے پر حملے میں 7 بہادراہلکار اور 7 گارڈزنے جام شہادت نوش کیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک افسر اور 5 جوان شہید ہوگئے ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں فوجی قافلے پر بارودی سرنگ کے ذریعے کیے گئے حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے قافلے پر بارودی سرنگ کے ذریعے حملہ دشمن کی بزدلانہ حرکت ہے ۔ پاکستان کا امن اور استحکام ملک دشمن عناصر کی آنکھ میں کھٹکتا ہے ۔ آج پوری قوم، دہشت گردی کے اس عفریت کو کچلنے کیلئے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ انہوں نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکورٹی فورسز جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس حملے میں چھ اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کے آفس سے جاری ہونےوالے ایک بیان میں سیکورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی گئی ہے یہ حملہ اورماڑہ کے علاقے سرپٹ میں ہوا جس کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے ۔ گوادر انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں قافلے کی حفاظت پر مامور فرنٹیئر کور کی دو گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ ان کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ان گاڑیوں پر بڑے اور چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا اپنے پیغام میں مزید کہنا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی اور انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ٹوءٹر پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کوسٹل ہائی وے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع اس بات کی علامت ہے کہ دشمن بلوچستان اور اس کے عوام کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتا ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعہ میں ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ انہوں نے پاک فوج کے شہید ہونے والے جوانوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ قوم ان کے غم میں برابر شریک ہے ۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی وزیرستان میں کیپٹن عمر فاروق سمیت 6 جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ بیان میں انہوں نے شہداء کے اہلخانہ سے بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گرد بزدلانہ حملوں کے ذریعے پوری قوم کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک افغان بارڈر پر سرحد پار سے دہشت گردوں کی آرمی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجہ میں حوالدار تنویر شہید اور ایک جوان زخمی ہو گیا ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کئی دہائیوں سے سرحد پار سے ہونےوالی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ پاکستان اس کے جواب میں ہمیشہ قیام امن کی کوششیں کرتا رہا ہے‘ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اب تک 70ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے جبکہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کے پائیدار سیاسی حل کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن امن مخالف قوتیں نہ صرف ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کر رہی ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی داءو پر لگا رہی ہیں ۔ پاکستان سرحد پار کی دہشت گردی روکنے کےلئے پاک افغان بارڈر پر باڑ بھی لگا رہا ہے لیکن افغانستان میں بیٹھے دہشت گرد کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور پاکستانی علاقے میں دہشت گرد کارروائیاں کر کے حالات کوخراب کرنیکی کوشش کر رہے ہیں ۔ خطے کے امن اور دہشت گردی کو شکست دینے کےلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کو ہر جگہ،ہر مقام اور ہر پہلو سے شکست دی جائے ۔ خصوصاً پڑوسی ملک افغانستان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں موجود دہشت گردوں کیخلاف کارروائی ایک بار پھر ہمارے افغان بھائیوں نے اس بات کا ادراک کیا ہے اور اظہار بھی کہ پاکستان اور افغانستان کا امن، استحکام اور خوشحال مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اگر خدانخواستہ افغانستان میں بدامنی ہوتی ہے ، دہشتگردی ہوتی ہے، عمارتوں اور شاہراہوں پر حملے ہوتے ہیں تو لامحالہ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا ۔ پاک افغان تعلقات کی طویل تاریخ ہے جس میں نشیب و فراز اور اُتار چڑھاءو آتے رہے ہیں ۔ افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے مصالحتی باتوں کا جس بے ساختگی، اپنائیت اور مخلصانہ طریقے سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اظہار کیا‘ شاید اس سے پہلے اتنے بھرپور اعتمادِ باہمی سے کام نہیں لیا گیا تھا ۔ عبداللہ عبداللہ کون ہیں ;238; پاکستان اور افغانستان میں بچہ بچہ اُن کی شخصیت سے آگاہ ہے ۔ وہ افغانستان کے سابق وزیر خارجہ بھی رہے ہیں ، افغانستان کی اتحادی کونسل کے انتظامی سربراہ بھی رہے ہیں اور اس وقت وہ افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ہیں ۔ عبداللہ عبداللہ کا تعلق افغانستان کے شمالی اتحاد سے ہے ۔ وہ پاکستان پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں مگر اب اُن کا لب و لہجہ یکسر بدلا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذہب و مروت کے لازوال رشتوں میں جڑے ہوئے سانجھی دیوار والے یہ دو پڑوسی جب تک اپنے دلوں کو بدگمانیوں اور کدورتوں سے صاف نہیں کریں گے اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکیں گے ۔ عبداللہ عبداللہ نے اپنے دورے کے دوران پرانے گلے شکووں کو دُہرانے کے بجائے باہمی تعلقات کے ایک روشن مستقبل کی نوید سنانے کو زیادہ ترجیح دی ہے ۔ عبداللہ عبداللہ نے وسیع تر تجارتی تعلقات ، دوطرفہ عوامی روابط اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شمولیت کی طرف بطورِ خاص توجہ دلائی ہے ۔ اللہ کرے محبت و اخوت کی یہ تازہ ترین فضا ہمیشہ کےلئے قائم و دائم رہے ۔ افغانستان میں گزشتہ 42 برس سے کسی نہ کسی شکل میں جنگ و جدل کے شعلے دہک رہے ہیں ۔ 1978ء میں افغان مجاہدین نے افغان کمیونسٹ حکومت کےخلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا ۔ 1979ء میں سوویت فوجیں افغانستان میں اپنی پراکسی کمیونسٹ حکومت کو بچانے کیلئے وہاں داخل ہو گئیں ۔ اس کے ساتھ ہی مجاہدین نے سوویت یونین اور افغان فوجوں کے خلاف جدوجہد کو تیزتر کر دیا ۔ اس موقع پر پاکستان، امریکہ، یوکے اور سعودی عرب نے مجاہدین کی بہت مدد کی اور یوں 1989ء تک سوویت یونین کو افغانستان چھوڑنا پڑا ۔ اس وقت کے صدر ضیا الحق کی وہی خواہش تھی‘ جو آج عمران خان کی ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کیلئے زیادہ عجلت سے کام نہ لے اور بین الافغان مفاہمت کے ساتھ ایک مستحکم حکومت اور دستوری انتظام کے بعد یہاں سے رخصت ہو ۔ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم رہی ۔ اس کے بعد کی ساری تاریخ آپ کی نگاہوں میں ہے ۔ 42 سالہ خانہ جنگی اور دو سپر پاورز کی طرف سے حملوں نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ۔ اب تک افغانستان میں دس لاکھ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ 90 ہزار مجاہدین بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ 18000 افغان فوجی شہید اور 14500 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اس پس منظر میں یہ خوشخبری سے کم نہیں کہ تمام افغان سٹیک ہولڈرز یہ سمجھتے ہیں کہ بہت ہوگیا، اب ہ میں ہر قیمت پر اپنے ملک میں امن قائم کرنا چاہئے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنی چاہئے ۔ اللہ کرے اس بار افغانوں کی خواہش لازوال امن کا روپ دھار لے ۔