- الإعلانات -

اسلام دشمنی میں فرانس نے حدیں پار کر دیں

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کو پہلے اخبارات میں شاءع کیا جاتا رہا مگر اس دفعہ فرانس نے اسلام دشمنی میں حدیں پار کرتے ہوئے ان خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر دکھایا ۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس گھناوَنے کھیل میں فرانسیسی صدر میکرون بھی شامل تھا جس کے بارے میں ترک صدر اردگان نے بہت درست کہا کہ میکرون کو اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کو ایک خط میں گزارش کی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے اسلام مخالف مواد ہٹائیں اور ایسا اسلاموفوبک مواد شاءع کرنے پر پابندی عائد کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مارک زکربرگ کی توجہ فیس بک پر ایسے اسلام مخالف مواد کی طرف دلانا چاہتے ہیں جو عالمی سطح پر نفرت، شدت پسندی اور پْرتشدد واقعات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے خط میں لکھا ہے کہ ’ میں ہولوکاسٹ (یورپ بھر میں یہودیوں کے قتلِ عام) پر تنقید یا اس پر سوال اٹھانے کے خلاف آپ کے اقدامات کی قدر کرتا ہوں ۔ اسی طرح آج ہم دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کا قتل عام دیکھ رہے ہیں ۔ کچھ ریاستوں میں تو مسلمانوں کو شہری حقوق دینے سے انکار کیا جاتا ہے ۔ بھارت میں سی اے اے اور این سی آر نامی مسلم مخالف قوانین اور اقدامات لیے گئے ہیں ۔ اس سے قبل ترک صدر طیب اردوگان اس معاملے پر فرانسیسی صدر کو ’دماغی علاج‘ کا مشورہ دے چکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا تو ماننا ہے کہ اسلام کے خلاف بغض اور دشمنی میں وہ پاگل ہو چکا ہے ۔ ایک طرف اگر ترکی کے صدر اردگان نے اِس گستاخانہ عمل کی بھرپور مذمت کی تو دوسری طرف کویت اْن مسلمان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں احتجاج کے طور پر فرانس کی مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیاء کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور سٹوروں سے فرانس کی پروڈکٹس کو اْٹھا دیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں پاکستان کی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ ’ میں صدر میکرون کے اس قابل شرم اقدام کی پرزور مذمت کرتا ہوں جنھوں نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ کیا ہے ۔ حکومت پاکستان کو اس پر صدر اردگان کی طرح کے اقدامات اٹھانے چاہیں ۔ فرانسیسی نظام عدل میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک واضح ہے ۔ فرانس میں امتیازی قوانین اسلامی عقائد اور طریقوں کو معاشرے میں ایک مثبت شراکت کے طور پر تنوع کو قابل بنانے کی طاقت کے طور پر غور کرنے میں ملک کی نا اہلیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ رواں ماہ میکرون نے کہا تھا کہ اسلام پوری دنیا میں ;39;بحران کا مذہب;39; بن گیا ہے ۔ پیرس میں ایک استاد نے اپنے طلبہ کو پیغمبرِ اسلام سے متعلق خاکے دکھائے تھے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا گیا تھا ۔ ایسے وقت میں جب فرانسیسی صدر میکرون انتہا پسندوں کو موقع فراہم کرنے کے بجائے مرہم رکھ سکتے تھے یہ بدقسمتی ہے کہ انھوں نے اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کا انتخاب کیا ۔ میکرون نے تشدد کی راہ اپنانے والے دہشت گردوں ، چاہے وہ مسلمان ہوں ، سفید فام نسل پرست، یا نازی نظریات کے حامی، اْن پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام پر حملہ کیا ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ صدر میکرون نے دانستہ طور پر مسلمانوں بشمول اپنے شہریوں کو اشتعال دلایا ہے ۔ گستاخانہ خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر دکھانے کی پشت پناہی تو میکرون نے کی لیکن یہ کام کرنے والا وہی چارلی ہیبڈو میگزین ہے جو کئی برسوں سے اِسی ناپاک کام میں لگا ہوا ہے ۔ باوجود اِس کے کہ چارلی ہیبڈو پر چند مسلمان نوجوانوں کی طرف سے کوئی چار پانچ سال پہلے ایک بڑا حملہ بھی ہوا اور اِس میگزین کے عملے سمیت 12افراد ہلاک ہوئے ۔ اْس وقت کے مسیحی مذہبی رہنما اور پوپ تک نے چارلی ہیبڈو پر حملے کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسا کہا تھا کہ اگر آپ کسی کی ماں کو بْرا بھلا یا گالی دیں گے تو جواب میں آپ کے چہرے پر مکا تو رسید ہوگا لیکن اِس کے باوجود چارلی ہیبڈو اور فرانس باز نہ آئے اور یہ قابلِ مذمت اقدام جس سے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوتی ہے، جاری رہا ۔ اِس کے باوجود فرانس یہ بنیادی نکتہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ مسلمان گستاخی کے عمل کو کسی طور برداشت نہیں کر سکتے اور اِس کی وجہ سے کوئی بھی مسلمان قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے ۔ وطن عزیز کے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کا یہ موَقف حقیقت پر مبنی ہے کہ ان خاکوں کی اشاعت کا مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا، ان کے جذبات کو بھڑکانا ہے تاکہ اس ردعمل کے طور پر مغربی حلقوں کی مسلمانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دینے کا بہانہ ہاتھ آسکے اور اس کی آڑ میں مغربی طاقتیں امت مسلمہ کے خلاف صلیبی جنگ کے نئے محاذ کھول کر اپنے مذموم مقاصد پورے کر سکیں ۔ یہ ایک سوچی سمجھی حرکت ہے آخر صرف مسلمانوں کے خلاف ہی ایسی مذموم حرکات کا ارتکاب کیوں کیا جاتا ہے;238; فرانس میں مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے اور پیغمبر اسلام کے متنازع اور ’گستاخانہ خاکے‘ شاءع کرنے کی اجازت ہے ۔ اس سے فرانس میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھے گا اور فرانسیسی شہری اب شدت پسند مسلمانوں اور عام مسلمان شہریوں میں کیسے فرق کر سکیں گے ۔ ایسا امتیازی سلوک شدت پسندی میں اضافے کی وجہ بنتا ہے ۔ 2011ء میں اس میگزین نے پہلی مرتبہ گستاخانہ خاکے شاءع کئے تو پوری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاج کیا لیکن میگزین کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا سلسلہ رکا نہیں ۔ تاہم اس جریدے کی تاریخ کا ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزادی اظہار کا حق صرف مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی آزادی اظہارہے جو عیسائیوں ،یہودیوں ، ہندووَں اور دیگر مذاہب کا مذاق اڑانے کی اجازت تو نہیں دیتی لیکن اس کے سائے میں اربوں افراد کی ہر دل عزیز شخصیت کا مذاق اڑانا جائز ہے;238; یقیناً یہ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش ہے ۔ اس کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ ان خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کو طیش دلایا جائے اور پھر ان کے ردعمل کو ثبوت بنا کر ان پر دہشت گرد کا لیبل لگادیا جائے ۔