- الإعلانات -

گستاخانہ خاکے،فرانسیسی سفیرکی طلبی، مذمتی قراردادیں منظور

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے بعددنیابھر میں امت مسلمہ شدیدغم وغصے کاشکارہے ، پاکستان سب سے پہلاملک ہے جس نے اس حوالے سے باقاعدہ احتجاج کرتے ہوئے فرانس کے سفیرکو طلب کیا اورقومی اسمبلی میں یہ مطالبہ کیاگیاکہ فرانس سے پاکستان کے سفیرکو واپس بلاکر تمام تر سفارتی تعلقات منقطع کردیئے جائیں ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان، سعودی عرب سمیت دنیابھر میں فرانس کی مصنوعات کابائیکاٹ شروع کردیاگیاہے اورمزیدبائیکاٹ کرنے کےلئے مطالبات سامنے آرہے ہیں اس طرح انگیریزوں اوریہودیوں میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے کوئی ایسا بیان جاری نہیں کیاجاسکتا اسی طرح رسول پاکﷺ کی شان اقدس میں کسی صورت بھی کوئی توہین آمیزاقدام ناقابل برداشت ہے ،مسلمان اپنی جان تودے سکتے ہیں مگرحرمت رسولﷺ پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ۔ دنیاکایہ دوغلاپن ختم ہوناچاہیے کہ ہولوکاسٹ کے حوالے سے پابندیاں اوراسلام کوٹارگٹ کیاجاتاہے ۔ پاکستان میں متعین فرانسیسی سفیر مارک باریتی کو گزشتہ روز دفتر خارجہ طلب کر کے توہین آمیز خاکوں اور فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان پر شدید احتجاج کیا گیا ۔ وزارت خارجہ کے سپیشل سیکرٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ فرانسیسی سفیر کو تھمایا ۔ فرانسیسی سفیر کو باور کرایا گیا کہ اسلام تمام مقدس ہستیوں کی تعظیم کا درس دیتا ہے ۔ مسلمانوں کے بارے میں بھی اسی جذبہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ انہیں بتایا گیا کہ صدر فرانس کے متنازعہ بیان نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے ۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ فرانس کے صدر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ۔ اقوام متحدہ فی الفور اسلام کیخلاف اس نفرت انگیز بیانیہ کا نوٹس لے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ جبکہ ایوان بالانے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف مذمتی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی ۔ چیئرمین سینیٹ نے قرار داد کی کاپی دفترخارجہ کے ذریعے فرانس کے سفیر تک پہنچانے کی ہدایت کی ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی حکومتی پشت پناہی سے اس طرح کے اقدامات اشتعال کا باعث بن رہے ہیں ۔ فرانسیسی واقعہ پر امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ مزید بر;200;ں بلوچستان اسمبلی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی ۔ مشترکہ مذمتی قرارداد صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے پیش کی ۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا کی دل ;200;زاری ہوئی ہے ۔ عالمی برادری اور ذمے دار اداروں کو توہین ;200;میز خاکوں کی اشاعت کا نوٹس لینا چاہئے ۔ وفاقی حکومت او ;200;ئی سی اور اقوام متحدہ میں یہ معاملہ اٹھائیں ۔ عالم اسلام بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب کے امن پسند عوام کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچی ہے ۔ فرانس میں توہین ;200;میز خاکوں کیخلاف خیبر پی کے اسمبلی میں قرارداد منظور کر لی گئی ۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم فیس بک کے بانی سے رابطے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ تحریک انصاف نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کے خلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کر ادی ۔ عقیدہ ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کی حفاظت ہم سب مسلمانوں پر لازم ہے ۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر میں فرانس کے صدر اور حکومت براہ راست شامل ہیں جس سے عالم اسلام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں لگانے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی ۔ خاکوں کیخلاف سندھ اسمبلی میں بھی قرارداد جمع کرا دی گئی ۔ قرارداد پی ٹی ;200;ئی کے رکن سندھ اسمبلی سعید ;200;فریدی نے جمع کرائی ۔ فرانسیسی مصنوعات اور اشیا پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ ;200;زادی اظہار کیلئے حدود و قیود کی ضرورت ہے ۔ بے لگام ;200;زادی کا مطلب اگر دوسروں کی دل شکنی کی صورت میں نکلتا ہو تو اسکی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ پیغمبر اسلام کی عظمت کا احترام مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے ۔ اس پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرسکتے اس لئے گستاخانہ عبارت ہو خاکے یا بیان اس پر پوری امت سراپا احتجاج ہے ۔ ایسی شرارت میں ملوث افراد یا حکومتوں کیخلاف او ;200;ئی سی فوری نوٹس لے ۔

بھارت کے حوالے سے وزیراعظم کے درست خدشات

وزیراعظم عمران خان نے یوم سیاہ کشمیر کے موقع پرکہا ہے کہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کی بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے جن پر عملدرآمد ہونا باقی ہے ۔ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائیں ۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کےلئے ریاستی دہشت گردی کے استعمال سے روکا جائے جبکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور ان کے جائز حق خودارادیت کے حصول تک ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا ۔ یوم سیاہ کشمیر انسانی تاریخ کے سیاہ باب کی عکاسی کرتا ہے جب 73 سال قبل بھارتی فورسز خطے پر زبردستی قبضہ اور کشمیری عوام کو محکوم بنانے کےلئے سری نگر میں اتری تھیں ۔ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضہ سے یہ بین الاقوامی تنازعہ بنا ہے جس کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے وابستہ ہے ۔ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے سنگین مظالم اور جبر و استبداد کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہا ہے ۔ 5 اگست 2019 کو غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی یکطرفہ کاروائیاں ، فوجی محاصرہ، مواصلاتی رابطے منقطع کرنا اور متنازع علاقہ کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے جیسے دیگر غیر قانونی اقدامات نے بھارت پر مسلط آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریہ کو مزید بے نقاب کر دیا ہے ۔ یقیناکشمیریوں کی تحریک ;200;زادی روزافزوں تیز ہو رہی ہے ۔ قربانیوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ بھارت نے کشمیریوں پر مزید ظلم کے پہاڑ توڑنے کیلئے فوج کی تعداد ساڑھے نو لاکھ کردی ہے ۔ بھارت جن لوگوں کو کشمیر میں لا کر ;200;باد کررہا ہے انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اکثریت یا تو سابق فوجیوں کی ہے یا ;200;رایس ایس کے شدت پسند نظریاتی کارکن ہیں ۔ بھارت پچاس لاکھ ہندوءوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دینے کے بعد اگلے مرحلہ میں انتخابی حلقوں میں تبدیلیاں لا کر بی جے پی کو حکمرانی دیکر مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ کشمیری کسی صورت یہ تبدیلی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوسکتے ۔ بھارت ایسا کر گزرتا ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہے تو وادی ہمہ وقت خون رنگ رہے گی ۔ غیرفطری تبدیلی کے ایسے تباہ کن نتاءج ہوتے ہیں ۔ عالمی برادری بھارت کو ایسی تبدیلیوں سے بہرصورت باز رکھے ۔ ;200;خری کشمیری اپنے حقوق کے حصول تک ;200;خری سانس تک لڑنے مرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ اقوام متحدہ یہ نوبت نہ ;200;نے دے ۔ مزیدبرآں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ، افغانستان تجارت و سرمایہ کاری فورم 2020 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نظریاتی طور پر پاکستان کےخلاف ہے ۔ خدشہ ہے بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے افغانستان کو استعمال کر رہا ہے ۔ پاکستان کا افغانستان سے تعلق صدیوں سے ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی ایک تاریخ ہے ۔ تجارتی ، عوامی روابط کےلئے تجارتی فورم کا انعقاد خوش ;200;ئند ہے ، بدقسمتی سے افغانستان میں 40 سال سے انتشار ہے ، افغانستان کے انتشار سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ۔ اس انتشار کی وجہ سے افغانستان ، پاکستان میں اختلاف ، شک و شبہات پیدا ہوئے ۔ انسان اور قوم ماضی سے سیکھتے ہیں جو پھنس جاتے ہیں ;200;گے نہیں جا سکتے ۔ ہ میں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم نے ماضی سے کیا سبق حاصل کیا ۔ تاریخ پڑھتے ہیں تو وہ ہ میں اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملتا ہے ۔ افغانستان میں باہر سے کوئی مداخلت کبھی کامیاب نہیں ہوئی ، جیسی حکومت چاہیں اس کا انتخاب کرنا افغان عوام کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ بھارت سے پاکستان کی تین جنگیں ہو چکی ہیں لیکن بھارت میں مسلمانوں سے اتنی نفرت کرنے والی حکومت نہیں ;200;ئی ، بھارت کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر سمجھ ;200; گیا کہ کوئی فائدہ نہیں ۔ خدشہ ہے پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے بھارت افغانستان کو استعمال کر سکتا ہے ، بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو اوپن جیل میں رکھا ہوا ہے ۔ پاکستان سے زیادہ کوئی کوشش نہیں کر رہا کہ افغانستان میں امن ہو ۔