- الإعلانات -

نوازشریف کا بیانیہ اور است اقدام

گزشتہ سے پیوستہ

مریم صفدر اعوان اس بات سے سو ہاتھ آگے بڑھ کر فوج کو بدنام کر رہی ہے ۔ کراچی جلسہ کے بعد میں نواز شریف کی بیماری والی طرز کا ڈرامہ رچا کر پروپیگنڈا شروع کیا کہ رینجرز نے پولیس کے آئی جی کو اغوا کر کے صفدر اعوان کو گرفتار کیا گیا ۔ ذرایع کے مطابق یہ آئی جی زرداری کی کرپشن چھپانے میں ملوث رہا ہے ۔ آرمی چیف نے انکواری کا حکم دیا ہواہوا ہے جلد حقیقت سامنے آ جائے گی ۔ بلاول زرداری بھی فوج کو بدنام کر رہے ۔ باقی قوم پرستوں کا تو شروع سے فوج کے خلاف ناجائز پرپیگنڈے کے زور پر ہی روزگار سیاست چلتا ہے ۔ اب نواز شریف کے کردار پر کچھ عرض کرتے ہیں ۔ نواز شریف کو جب نا اہل اور کرپشن میں سزا سنائی گئی تھی تو بھارت کے را کے چیف اجیت دول نے بیان دیا تھا کہ بھارت نے نوازشریف پر بہت کچھ انوسٹمنٹ کیا ہواہے،اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔ نواز شریف نے گھلبوشن کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔ مودی کے الیکشن جیتنے پر بھارت گئے اور مودی سے ایک خفیہ ملاقات کے بھی چرچے ہوتے رہے ہیں ۔ دہشت گردمودی سے ذاتی دوستی کی ۔ جو پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا اعلانیہ عتراف کرتا ہے ۔ اس کے وزیر کہتے ہیں پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھا ۔ اب مذید دس ٹکڑے کریں گے ۔ مودی کو یوم آزادی پر لال قلعے پر تقریر کرتے ہوئے کہتا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت سے مدد کرنے کے لیے فون کالز آ رہی ہیں ۔ یہ مودی کی طرف سے پاکستان میں کھلی ہوئی دہشت گردی کا اعتراف ہے ۔ بھارت کے اسٹیل ٹائیکون سے ان کے بیٹے کی ذاتی دوستی کے چرچے عام ہیں ۔ نواز شریف نے مودی کی دہشت گردی اور دھمکیوں کا کبھی بھی جواب نہیں دیا ۔ بلکہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر آلو پیاز کی تجارت ہی کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردمودی ، را کے چیف اجیت ددل، اسٹیل ٹائیکون جندال جو پاکستان کو گایاں دیتا رہتا ہے کو بغیر ویزوں اور بغیر وزارت خارجہ کو اطلاع کیے اپنے گھر جاتی امر لاہور بلایا ۔ مری میں اسٹیل ٹائیکون جندال کو بھی بغیر وزیر کے بلایا ۔ اس پر ذراءع کہتے ہیں کہ جندال بھارتی جاسوس کلبھوشن پر ہولاہاتھ رکھنے کا مودی کاپیغام لایا تھا ۔ پٹھان کوٹ میں بھارت نے خود ڈرامہ گھڑا تھا ۔ ہمارے وفد سے تعاون بھی نہیں کیا تھا ۔ اس حساس معاملہ پر نواز شریف نے خود پاکستان میں ایف آئی آر کٹوا کر انکواری شروع کی جو ملک دشمنی تھی ۔ بمبئی ہوٹل حملہ کے مبینہ کردار اجمل قصاب کا گھر پاکستان میں ہونے کی بات بھی کی تھی ۔ اس میں فوج کے دشمن حامد میر کا بھی کردار تھا ۔ ہمیشہ فوج کے سربراہوں سے لڑائی مول لی ۔ فوج کو بدنام کرنے کے لیے خفیہ میٹنگ کی باتیں باہر لیک کیں ، اپنے حلف وفاداری کا بھی خیال نہیں رکھا;238;اعتراف کے طور پر اپنے وزیروں مشیروں کو قربانی کا بکرا بنا کر فارغ کیا ۔ فوج کو پنجاب کی گلو بٹ جیسے پولیس بنانے کی کوشش کی ۔ جسے پاکستان کی بہادر فوج نے نہیں مانا، تو فوج کے مخالف ہو گئے ۔ اور بہت سی نوازشریف کی پاکستان دشمن باتیں ہیں ۔ سب سے بڑی بات کہ بانی پاکستان کے دو قومی نظریہ کی نفی کی ۔ کہا میں بنیاد پرست نہیں بلکہ سیکولر ہوں ۔ کیا کیا بیان کیا جائے ۔ ذراءع کہتے ہیں کہ نواز شریف نے کھل کر بھارت کا بیانیہ بولنا شروع کر دیا ہے ۔ اس سے ملک کونقصان پہنچنے کا خطرہ صاف نظرآرہا ہے ۔ لہٰذا پاکستان بنانے والی آل انڈیا مسلم لیگ کی جان نشین نواز مسلم لیگ کے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو پاکستان کی محبت میں نواز شریف سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے ۔ عوام کو صرف مہنگائی کے حوالے سے اپوزیشن کا ساتھ دینا چاہیے ۔ ملک کی فوج کے خلاف اور ملک توڑنے کے بیانیہ سے کنارہ کش ہونا چاہیے ۔ مقتدر حلقوں اور سپریم کورٹ کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ کیا سارے ملک دشمنوں کو لندن میں اپنے ٹکانے بنا رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے;238; نہیں ہر گز نہیں : عمران خان کو سزایافتہ مجرموں کو برطانیہ کے وزیر اعظم سے بات کر کے انہیں واپس پاکستان لا کر قانون کے حوالے کرنا چاہیے ۔ پاکستان کے عوام کو عمران خان کے کرپشن فری پاکستان کے بیانیہ کے ساتھ کھڑ ا ہونا چاہیے ۔ اگر کرپٹ لوگوں کو ابھی نہیں پکڑا گیا تو کبھی بھی نہیں پکڑے جائیں گے ۔ نیب کو عمران خان کے کرپٹ ساتھیوں کے خلاف بھی ریفرنس بنانے چاہیے ہیں تاکہ جن پر کرپشن ثابت ہوچکی ہے ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کا توڑ ہوسکے اور انصاف کے تقاضے بھی ہوں ۔ جس طرح گیارا جماعتیں عمران حکومت گرانے پر تلی ہوئی ہے اسی طرح حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں اپوزیشن کے ملک دشمن بیانیے کی کھل کر نفی کرنی چاہیے ۔ ہم بار بار عمران خان کو یاد کرتے رہے ہیں ۔ فوراً مہنگائی ختم کریں ۔ عوام تنگ آمند بجنگ آمند پر تیار ہو گئے ہیں ۔ دیکھا جائے تو ملک میں جماعت اسلامی صحیح اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہے ۔ مہنگائی کیخلاف یکم نومبر سے تحریک شروع کرنےوالی ہے ۔ سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کی مذمت کرتے ہیں ۔ ۴۳۶ آف شور کمپنیوں والے لوگوں کیخلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کر رہی ہے ۔ اللہ سیاست دانوں کو ہدایت دے وہ سیاست تو کریں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلی نہ کریں ۔ سپریم کورٹ کے مطابق سیاست دانوں نے ملک کے سارے ادارے تباہ کر دیے ہیں ۔ صرف فوج اور عدلیہ بچی ہے اس کو بھی متنازعہ بنا رہے ہیں ۔