- الإعلانات -

تنازعہ کشمیر،بھارتی بربریت کے 73سال

گزشتہ روز 27اکتوبر کو پاکستان سمیت لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں نے وادی پر بھارتی فورسز کے ناجائز قبضے کےخلاف یوم سیاہ خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا ۔ پاکستان بھر میں اس موقع کی مناسبت سے خصوصی تقاریب اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔ صدر اور وزیراعظم نے اپنے خصوصی پیغامات میں کشمیر کے عوام کےلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو دوہرایا ۔ پاکستان نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات مقبوضہ علاقے کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ کشمیریوں کے اقوام متحدہ کے متعلقہ قراردادوں میں شامل حق خود ارادیت کے جائز حق کو غصب کر سکتے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان نے عالمی برادری پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا ہے کہ بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی،کشمیری عوام کے ماورائے عدالت قتل، اظہار رائے پر پابندیاں ، محاصرہ ،دوران حراست تشدد و ہلاکتیں ، جبری گمشدگیاں ، پیلٹ گنز کے استعمال، کشمیری عوام کے گھروں کو تباہ و نذر ;200;تش کرنا اور کشمیریوں کو محکوم رکھنے کے دیگر حربوں کے استعمال کا خود مشاہدہ کیا ہے ۔ صدر مملکت عارف علوی نے بھی کشمیری عوام کی حق پرست جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر انسانی اقدامات، وحشیانہ جبر نے ہندوتوا نظریے کی پیروکار ;200;ر ایس ایس بی جے پی حکومت کا انتہا پسندانہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔

27 اکتوبر وہ دن ہے جب1947 میں بھارت نے برصغیر کی تقسیم سے متعلق منصوبے اور کشمیریوں کی خواہش کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر جابرانہ قبضہ کیا تھا ۔ ایک ممتاز برطانوی تاریخ دان الیسٹر لیمب نے اپنی کتاب ’’برتھ ;200;ف ٹریجڈی‘‘ میں ہندوستانی بیانیہ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الحاق کا مسودہ دہلی میں تیار کیا گیا اور اسے 26 اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کے سامنے اس پر زبردستی دستخط کرنے کے لئے پیش کیا گیا تھا ۔ حالانکہ1947 میں جیسے ہی برطانیہ نے برصغیر کو چھوڑا ;200;زاد ریاستوں سے اکثریتی ;200;بادی کے مطابق ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کو کہا گیا تھا ۔ اس فارمولے میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ ;200;بادی کا 77 فیصد مسلمان تھا ۔ لیکن نہرو اس سوچ کے حامی نہیں تھے اسلئے اس نے ساز باز شروع کر دی جبکہ اسی عرصہ میں ڈوگرہ فوج کےساتھ ہندو ;200;ر ایس ایس کے عسکریت پسندوں نے جموں پر حملہ کیا اور ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پشتون اور کشمیری رضاکار بھی کشمیری بھائیوں کی مدد کےلئے وادی میں کود گئے ۔ کشمیریوں اور پشتون قبائلی رہنماؤں کی پیش قدمی کے نتیجے میں جزوی کامیابی ہوئی اور ;200;زاد کشمیر کی شکل میں علاقہ چھڑا لیا ۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر خونی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو بھارتی قیادت بوکھلاہٹ میں اقوام متحدہ جا پہنچی اور اسے مداخلت کی دعوت دی، جس پر یو این اونے ثالثی کرواتے ہوئے ایک قرارداد منظور کروائی جس میں بھارت نے یو این کے روبرو یہ وعدہ کیاتھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا پورا موقع دیاجائیگا ۔ عالمی ادارے کے سامنے کیا گیا یہ وعدہ ہندوستان نے تاحال پورا نہیں کیا ۔ تب سے اب تک کشمیری عوام بھارتی قبضے کیخلاف سراپا احتجاج ہے اور بھارتی قبضے کو چھڑانے کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ۔ بدقسمتی کہ بھارت کی جب گردن پھنسی ہوئی تھی تو اس نے ہر بات مان لی پھر جب حالات نارمل ہوئے تو اپنے وعدوں سے منحرف ہو گیا اور کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر اقوام عالم کی ;200;نکھوں میں دھول جھونکنے لگا ۔ 73برس سے مسئلہ حل طلب ہے اور کشمیری اقوام متحدہ کی طرف سے دکھائے گئے سبز باغ کی سزا بھگت رہے ہیں ۔

گزشتہ برس سے یہ دن ایسے ماحول میں منایا جا رہا ہے جب پوری وادی گزشتہ ساڑھے چار سوروز سے بدترین لاک ڈاوَن کی زد میں ہے اور اس کا بیرونی دنیا سے ہر طرح کا رابطہ منقطع ہے ۔ پانچ اگست 2019کو نریندر مودی حکومت نے کشمیر کو جداگانہ شناخت دینے والے ;200;رٹیکل 370 کو بھارتی ;200;ئین سے کالعدم قرار دیتے ہوئے عملاًکشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ اپنے جبری قبضے کو قائم رکھنے کیلئے کشمیری عوام پرکئی ڈریکولین قوانین جیسے ;200;رمڈ فورسز سپیشل پاورایکٹ اور ڈسٹربڈایریا ایکٹ کے ذریعے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے جبکہ 370;200;رٹیکل کی معطلی کے بعد تو لاکھوں مسلمان کشمیریوں کا مستقبل ہمیشہ ہمیشہ کےلئے تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ طویل ترین لاک ڈاون اور محاصرے کی وجہ سے کشمیریوں کی ;200;واز دبائی تو جا چکی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک دن یہ لاواہ مودی سرکاری کی چتا جلا ڈالے گا ۔ مودی کیا بھول گیا ہے حالیہ تین عشروں میں نوے ہزار کشمیری شہید ہونے کے باوجود ;200;زادی کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ ہزاروں خواتین بیوہ ہوچکی ہیں مگر ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں ۔ اس ظلم وبربریت کی مثال کہیں اورنہیں ملتی ۔ بھارت جبر اور تشدد سے کشمیر کی جغرافیائی اور ڈیموگریفک پوزیشن کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق بھارت نے ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ یہی وجہ ہے کہ سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر40768 کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے جن میں 25203حریت پسند اور 15147عام شہری شامل ہیں ۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے بلکہ بربریت کی بدترین شکل ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تشدد میں کمی کی بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے ۔ اگرگزشتہ دو عشروں کا جائزہ لیا جائے تو 2000ء سے اب تک بھارتی فوج کی طرف سے کی گئی کارروائیوں میں 110185 افراد زخمی ہوئے،4847عورتیں بیوہ ہوئیں ، 11560 بچے یتیم ہوئے،11075مکانات یا دوسرے تعمیراتی سٹرکچر کو نقصان پہنچایاگیا ۔ ساوَتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020 میں 121 واقعات میں 229کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ۔ جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20، ستمبر میں 20 اور اکتوبر میں 18کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ اس سال دھماکوں کے31واقعات میں 30 شہریوں کی اموات ہوئیں ۔ سال 2020 میں 119 مختلف واقعات میں 248افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ قبل ازیں 16جولائی 2016کو برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے پیلیٹ گنز سے عوام کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی تھی ۔ اس ہتھکنڈے 10120 افراد چھروں سے زخمی ،75افراد مکمل طور پر بصارت سے محروم جبکہ 198 ایک ;200;نکھ کی بصارت سے محروم ہوگئے ۔ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ دل دہلانے والے خونین قتل عام کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ سوپور، ہندوارہ، کپواڑہ، گاوکدل ہو یا دیگر واقعات ہوں ، ہر جگہ بھارت کی ناجائز قابض افواج نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں ۔ تنازعہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت دو بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ پچھلے برس فروری میں ایک بار پھر بڑا تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا اور ابھی یہ خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔ خدا نخواستہ اب کوئی تصادم ہوتا ہے تو پھر یہ روایتی نہیں بلکہ ایٹمی جنگ میں بدل سکتا ہے ۔