- الإعلانات -

دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی بیخ کنی ضروری

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مدرسے سے متصل مسجد کے اندر ہونے والے دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ۔ دھماکہ صبح ساڑھے آٹھ بجے ہوا جب بچے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ۔ ابتدائی تحقیقات سے لگتا ہے کہ پانچ سے چھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جسے ایک بیگ میں رکھا گیا تھا ۔ دھماکے کے مقام پر گڑھا پڑا ہوا ہے ۔ یہ مسجد رنگ روڈ پر دیر کالونی میں واقع ہے اور مسجد سے چند قدم کے فاصلے پر ایک گلی میں مدرسہ ہے جو دارالعلوم زبیریہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس مدرسے میں طلبا کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے جس وجہ سے صبح کے وقت ایک کلاس مسجد کے ہال میں ہوتی ہے ۔ مدرسے میں زیر تعلیم بیشتر طلبا کا تعلق پشاور سے باہر کے علاقوں سے ہے جبکہ اس مدرسے میں افغان طالب علم بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ پشاور بم دھماکے میں زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایک بار پھر معصوم بچے دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں ۔ دسمبر 2014 میں افغان دہشت گردوں نے اے پی سی پر حملہ کر کے ڈیڑھ سو بچے اور اساتذہ کو شہید کر دیا تھا ۔ اس پر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کمر کس لی اور پے در پے آپریشنز کر کے سرحدی علاقوں سے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کو ختم کر دیا ۔ کچھ دہشت گرد بھاگ کر افغانستان چلے گئے جہاں انہیں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر آگئیں بلکہ بھارت کی مالی اور تربیتی امداد بھی ملنے لگی ۔ نشانہ صرف اور صرف پاکستان میں تخریب کاری ہی تھا ۔ گزشتہ دو تین ماہ سے کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں ، سابق فاٹا میں نسبتاً تخریب کاری کے واقعات بڑھ گئے ہیں ۔ روزانہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ سیکورٹی فورسز کے جوان شہید ہو رہے ہیں ۔ دہشت گردی کی تازہ لہر نے پرامن ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے ۔ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے چند روز قبل پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا ذکر کیا تھا ۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردانہ وارداتوں کی سرپرستی کر رہا ہے ۔ اے پی ایس اور اسی طرح کے دیگر حملوں میں ملوث بھارتی ہاتھ بے نقاب ہو چکا ہے ۔ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے اور امن و امان کو سبو تاژ کرنے کےلئے کبھی بلوچستان او ر کبھی کے پی کے میں دہشت گردی کرارہا ہے ۔ پشاور مدرسے پر حملے کے تانے بانے بھی افغانستان میں جا کر ملتے ہیں ۔ دہشت گردوں نے ایک بارپھر ہمارے بچوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ حکومت ، اپوزیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دوبارہ ہوشیار ہونا پڑے گا کہ دہشت گرد ہماری آئندہ نسلوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ختم یا معذور کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ہ میں فوری پر آپس کے جھگڑے چھوڑ کر وقت ضائع کیے بغیر مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہوگا ۔ آج کل اپوزیشن جلسے کر رہی ہے ۔ کوءٹہ جلسے میں بھی دہشت گردی کا خطرہ تھا جس سے اپوزیشن کو خبردار کر دیا گیا تھا مگر انہوں نے یہ جلسہ کیا جس کی وجہ سے انٹیلی جنس اداروں کی توجہ دفاع اور تخریب کاری سے ہٹ کر ان جلسوں کی طرف ہوگئی کہ کہیں یہاں کوئی دہشت گردی نہ ہو جائے ۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمنوں نے متعدد حملے کئے اور ہ میں نقصان پہنچایا ۔ 2014 میں بھی عمران خان کے دھرنا پروگرام کی وجہ سے انٹیلی جنس توجہ بٹنے کی وجہ سے اے پی ایس پرحملہ ہو گیا تھا مگر اس وقت حکومت اور اپوزیشن نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز شروع کئے اور دہشت گردی کو ختم کیا ۔ اب بھی حکومت اور اپوزیشن کو قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سیکورٹی فورسز کی ساری توجہ دہشت گردوں پر ہو نہ کہ دیگر معاملات پر ۔ حقیقت ہے کہ امریکی دوستی کا خمیازہ ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں ۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو جو بھی مظالم کرتے ہیں ان کے ردعمل کا نشانہ پاکستانی عوام بنتے ہیں ۔ امریکہ اور اتحادی افواج تو اپنے اڈوں میں محفوظ بیٹھے ہیں ۔ ڈرون اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے طالبان اور دیگر کے اڈوں پر ہوائی فائرنگ کر کے دہشت گردی پھیلاتے ہیں اور افغانی اپنا غصہ پاکستان پر نکالتے ہیں ۔ آئی جی خیبر پختونخوا ثناء اللہ عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ دیر کالونی مدرسہ حملے کا اصل نشانہ موذن تھا ۔ مدرسے کے موذن کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ہے اس پر 2016 میں بھی حملہ ہوا تھا تاہم تحقیقات جاری ہیں ۔ دہشتگرد حملوں کے حوالے سے جنرل تھریٹ الرٹ تھا کوئی مخصوص الرٹ نہیں تھا ۔ دیر اور باجوڑ سے گرفتار دہشتگردوں نے تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ تخریبی کارروائیاں ہوں گی ۔ حال ہی میں گرفتار کیے گئے لوگوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور یہ تشکیل کی صورت پاکستان آئے تھے ۔ ہمارے سیکورٹی اداروں کو یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ کوءٹہ اور پشاور کے علاقوں میں دہشت گردوں کے سہولت کار ابھی موجود ہیں ۔ یہ افغان مہاجرین بھی ہو سکتے ہیں اور مقامی لوگ بھی ہو سکتے ہیں ۔ بھارت افغانستان میں بیٹھے اپنے گماشتوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے اور وہ گماشتے اپنے سہولت کاروں کے تعاون سے دہشت گردی کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کی کارروائیوں سے بچاوَ کےلئے سہولت کاروں کی بیخ کنی بہت ضروری ہے ۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پشاور دھماکے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ٹوءٹر پر لکھا: ;39; میں اپنی قوم کو یہ یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس بزدلانہ وحشیانہ حملے کے ذمہ داران کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ ‘خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے بھی کہا کہ اس حوالے سے شہر میں سکیورٹی سخت تھی ۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑا سانحہ تھا لیکن اگر سکیورٹی الرٹ نہ ہوتی تو اس سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہو سکتی تھیں ۔ اقوا م متحدہ نے بھی پشاور کے ایک مدرسہ میں بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے جس میں متعددمعصوم طالب علم شہید و زخمی ہوئے ۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے دفتر نے پاکستان میں اس سنگین واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ۔