- الإعلانات -

پشاور میں دھماکہ،تانے بانے دشمن ملک سے ملنے کا امکان

ملک میں ایک مرتبہ پھردہشت گردی کی لہرسراٹھارہی ہے اس سے قبل کوءٹہ سبزی منڈی کے قریب بھی بم دھماکہ ہواتھا ذرا اورپیچھے جائیں توبارودی سرنگوں کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات پیش آئے ۔ ان کی بیخ کنی کے لئے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پرکام کرناہوگا کیونکہ عوام پہلے ہی بہت سارے دگرگوں مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں اوپر سے اگرزندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوجائیں تو پھریقینی طورپرحکومت کاہی دروازہ کھٹکھٹاکراس کوجگایاجاسکتاہے ۔ پشاور میں ہونے والادھماکہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں معصوم بچے بھی قیمتی جانوں سے گئے اوراس واقعے نے سانحہ اے پی ایس کی یادتازہ کردی ہے ۔ معصوم بچوں کوٹارگٹ کرنے والے کسی صورت بھی انسان نہیں ہوسکتے ان کے خلاف جتنی جلدی ممکن ہوکارروائی کی جانی چاہیے ۔ تاہم اس بات کو بھی ردنہیں کیاجاسکتاکہ ان واقعات میں ہمارا پڑوسی اوراصلی دشمن بھارت بھی ملوث ہوسکتاہے کیونکہ اس دھماکے سے اڑتالیس گھنٹے قبل بھارتی مشیراجیت دوول نے بڑھک مارتے ہوئے پاکستان اورچین کو دھمکی دی تھی او ر یہ بھی کہاتھا کہ مودی نے جنگ کی تاریخ طے کرلی ہے اس بات کی تصدیق اترپردیش کے چیف نے کی کہ بھارت جنگ کے لئے تیارہے ٹھیک اس دھمکی کے اڑتالیس گھنٹے بعد پشاورکے مدرسے میں ایک دھماکہ ہوگیا جواس بات کاواضح ثبوت ہے کہ اس کے ڈانڈے بھارت ہی سے ملتے ہیں ۔ گزشتہ روزپشاور میں مدرسہ جامعہ زبیریہ میں بم دھماکہ کے نتیجہ میں 4 طلبا سمیت 8 افراد شہید اور 2 اساتذہ سمیت 136 زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں زیادہ تر جھلس گئے جن میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی ہے ۔ دھماکہ کے وقت مدرسے میں قرآن پاک کی کلاس جاری تھی کہ اس دوران پہلے سے بیگ میں رکھا گیا 5سے 6کلو گرام دھماکہ خیزمواد زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا ۔ خیبر پی کے کے وزیر برائے کلچر شوکت یوسف زئی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا مذہب سے تعلق نہیں ہے ۔ علاقے میں کافی عرصے سے امن تھا اور سیکورٹی بھی بہتر تھی، کوءٹہ اور پشاور میں دہشت گردی تھریٹ الرٹ تھا، تھریٹ الرٹ کے بعد سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی ۔ یہ مسجد رنگ روڈ پر دیر کالونی میں واقع ہے اور مسجد سے چند قدم کے فاصلے پر ایک گلی میں مدرسہ ہے جو دارالعلوم زبیریہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ مدرسہ مولانا سمیع الحق کے مدرسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے وابستہ ہے ۔ مسجد میں موجود لوگوں کے مطابق مدرسے میں زیر تعلیم بیشتر طلبا کا تعلق پشاور سے باہر کے علاقوں سے ہے جبکہ اس مدرسے میں افغان طالب علم بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ سی ٹی ڈی نے پشاوربم دھماکہ کی رپورٹ در ج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔ مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں ۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے دفتر نے پاکستان میں اس سنگین واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں مدرسے کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد بحوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاع پر دل گرفتہ ہوں ۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعہ میں بھارت ملوث ہو سکتا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پشاور میں ہونےوالی دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جمہوری حکومتوں نے فوج کے ساتھ ملکر ان دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تھا ہم حکومت وقت اور عمران سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق و دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماءوں نے بھی بم دھماکے کو انتہائی سفاکانہ اور وحشیانہ کارروائی قرار دیا ۔ یہ پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کی کارروائی ہے ۔ بھارت پاکستان کی سالمیت کیخلاف دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرپرستی کررہا ہے ۔ دشمن قوتیں کبھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گی ۔ یہ حملہ یوم سیاہ اور مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھا، پشاور مدرسے پر حملہ ایک بزدلانہ حرکت ہے ۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

وفاقی کابینہ نے عید میلادالنبی ﷺ کے مبارک موقع پر قیدیوں کی سزاءوں میں کمی کی منظوری دیدی ہے ۔ گستاخانہ خاکوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور واضح کیا گیا ہے کسی بھی مسلمان کےلئے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے ۔ کابینہ نے اس معاملے پر او ;200;ئی سی کے پلیٹ فارم سے موثر آواز بلند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق کابینہ نے فرانسیسی صدر کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو تین مہینوں کے اندر خالی ;200;سامیوں کو پر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔ وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کی طرف سے کابینہ کو گندم کی خریداری اور دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے خصوصی تاکید کی کہ در;200;مد شدہ گندم کی کوالٹی کو یقینی بنایا جائے ۔ کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020 کے تحت قومی میڈیکل و ڈینٹل اکیڈیمک بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دی ہے ۔ وفاقی حکومت نے کابینہ اجلاس میں نور الحق قادری کی تجویز پر حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ملک بھر میں ہفتہ عشق رسولﷺ منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیراعظم نے ہفتہ عشق رسول ﷺکا حتمی پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ۔ ہفتہ عشق رسولﷺ 12تا 18ربیع الاول تک جاری رہےگا ۔ صوبے بھی ہفتہ عشق رسولﷺ منائیں گے ۔ وفاقی کابینہ نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی ۔ نیز وزیراعظم نے مہنگائی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کےلئے موثر انتظامات کئے جائیں ۔ یقینا عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں ۔ وفاقی وزرا نے وزیراعظم سے شکایت کی مہنگائی میں بیوروکریسی کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس موقع پروزیراعظم نے کہاکہ مہنگائی کنٹرول ہونے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔

وادی پربھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف یوم سیاہ

کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کے73 برس مکمل ہونے پر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کیخلاف یوم سیاہ منا یا ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس سمیت وادی کی دیگر تنظیموں کی کال پر مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی اور گھروں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ۔ دوسری جانب کشمیر پر غیرقانونی قبضے کے خلاف برسلز میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاج ہوا ۔ ;200;ل پارٹیز حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ مبصر ;200;فس میں یادداشت پیش کی ۔ دفتر خارجہ کے سامنے مظاہرہ بھی کیا ۔ کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا ۔ یوم سیاہ کے موقع پر پاکستان کی طرف سے بھارت سے شدید احتجاج کیا گیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔ بھارتی حکومت کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے ۔ بھارت 5 اگست 2019 کا اقدام فوری واپس لے ۔ بھارت جغرافیائی تبدیلی سے باز رہے ۔ بھارتی غیرقانونی اقدامات کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم نہیں کر سکتے ۔ یقینا ہمارے کشمیری بھائی بہن اس وقت مشکل ترین حالات سے گزر رہے ہیں ۔ کشمیری نوجوان ;200;زادی کی جدوجہد میں اکیلے نہیں پاکستانی نوجوانوں کے شانہ بشانہ ہیں ۔ غاصب بھارتی فوج نے کشمیر پر قبضہ کیا ۔ کشمیریوں کی ;200;واز دبائی جا رہی ہے ۔ پاکستان ان کی ;200;واز بنے گا پاکستان کی حکومت اور عوام کندھے سے کندھا ملا کر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔ بھارت کا سیکیولر ڈرامہ بے نقاب ہو چکا ہے، مودی سرکار کے جبر و ظلم سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہونگے، ہر پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ۔ کشمیر پر بھارتی قبضہ عالمی قوانین اور یو این او کی قراردادوں کے بالکل خلاف ہے عالمی برادری کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ ختم کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔