- الإعلانات -

جارحانہ حکمت عملی سے گریز کی ضرورت

وفاقی کابینہ کی سیاسی کمیٹی نے اپوزیشن کیخلاف جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان نے میاں نوازشریف کی واپسی کیلئے قانونی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔ بدقسمتی سے ماضی میں اس نوعیت کی سیاسی محاذآرائی ماورائے آئین اقدام والوں کو جمہوریت کی بساط الٹانے کا موقع فراہم کرنے پر منتج ہوتی رہی ہے ۔ اسی تناظر میں جمہوریت کو بچانے‘ اسے استحکام کی منزل سے ہمکنار کرنے اور اسکے ثمرات سے عوام کے مستفید ہونے کی فضا ہموار کرنے کیلئے شائستگی اور رواداری کی سیاست کا دامن تھامنے کا تقاضا ہوتا رہا ہے ۔ بدقسمتی سے قومی سیاسی قائدین کے حوالے سے اب تک یہ تاثر پختہ ہوتاہی نظر آرہا ہے کہ انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہ آج بھی باہم دست و گریباں ہونے کے راستے نکال کر ماضی کی طرح جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کی کوششوں میں ہی مگن ہیں ۔ بے شک یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک کی عسکری قیادتیں گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آئین و قانون کی پاسداری اور اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں میں رہتے ہوئے فراءض منصبی سرانجام دینے کے عزم پر کاربند ہیں اور جمہوریت کے استحکام میں ان کا کا کردار قابل صد تحسین ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی قائدین سے ملاقات میں آئین و قانونین کی پاسداری اور عساکر پاکستان کو سیاست سے دور رکھنے کے عزم کا ہی اعادہ کیا جس میں ایک دوسرے کے مخالف سیاست دانوں کی جانب سے چائے کے کپ میں طوفان اٹھانے کی روش ختم ہو جانی چاہیے تھی مگر بدقسمتی سے بلیم گیم کی سیاست میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے برا بھلا کہنے کی روش کو اختیار کیا ہوا ہے اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں جس سے آج سیاسی کشیدگی انتہاء کو پہنچی نظر آتی ہے اس سے سسٹم کو ماضی جیسے خطرات لاحق ہونا بھی بعیداز قیاس نہیں ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سابقہ اور موجودہ حکمران طبقات میں سے جس جس نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر لوٹ مار کی ہے اور وہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں یا رہے ہیں ‘ انکے خلاف قانون کے تقاضوں کے مطابق کارروائی عمل میں آنی چاہیے جس کیلئے عدلیہ‘ نیب اور دوسرے متعلقہ انتظامی ادارے موجود ہیں ۔ ان اداروں کی جانب سے متعلقہ سابق اور موجودہ حکمران طبقات کیخلاف نیب کے مقدمات بھی درج ہوئے‘ ریفرنس بھی دائر ہوئے اور فیصلے بھی صادر ہوئے جن کے تحت سزاوار ٹھہرائے ملزمان قانون کے شکنجے میں ہیں اور سزائیں بھی بھگت رہے ہیں ۔ اس حوالے سے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال بے لاگ اور سخت گیر احتساب کے داعی بھی ہوتے ہیں اس لئے احتساب کے بلا امتیاز اور بے لاگ عمل پر کسی کو اعتراض ہے نہ ہونا چاہیے تاہم اس حوالے سے قانون و انصاف کے فورموں پر ہی کارروائی ہونی چاہیے ۔ آرمی چیف نے بھی یہی صا ئب مشورہ دیا تھا کہ سیاست دان اپنے معاملات مجاز فورموں پر ہی طے کریں اور فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے مگر بدقسمتی سے آج بھی حکومتی اور اپوزیشن قائدین کی جانب سے بلیم گیم کا سلسلہ شدومد کے ساتھ جاری ہے جس میں وزیراعظم عمران خان خود اپوزیشن کے ساتھ جارحانہ محاذآرائی کا راستہ اختیار کرکے اس سے دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب ہوتے ہیں اور جو کام عدلیہ اور نیب کے کرنے کے ہیں وہ بھی حکومت کی جانب سے سرانجام دینے کا تاثر دیتے ہیں تو اس سے سیاسی درجہ حرارت بھی شدت کے ساتھ بڑھ جاتا ہے ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کےخلاف مزید جارحانہ پالیسی اپنانے کا طے کیا گیا ہے تو یہ پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کی فضا کو ممکنہ طور پر تصادم کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے جس سے جمہوری نظام کو بچانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جائیگا ۔ اگر آپ جلتی پر تیل ڈال کر خود کو محفوظ سمجھیں گے تواسے آپ کی خام خیالی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے اس لئے آج قومی ریاستی اداروں کیلئے آئین و قانون کی حدود میں رہنا یقینی بنانے اور جمہوریت کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچنے دینے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی صفوں میں رواداری اور شائستگی کی سیاست کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ چنانچہ اب کوئی اچھا کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب اسے تحریک انصاف ہی کے کارکنان کے ذریعے سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا جائے ۔ کورونا ایک طبی، سماجی اور معاشی مسئلہ تھا ۔ حکومتی مشینری موجود تھی ۔ رضاکار تنظی میں موجود تھیں ، جن کا سالوں کا خدمت خلق کا تجربہ تھا اور نیک نامی تھی ۔ لیکن ان میں سے کسی پر بھروسا نہیں کیا گیا ۔ سب چور جو ٹھہرے ۔ چنانچہ اجلے لوگوں کی تلاش ہوئی اور اجلے لوگ تو پھر صرف تحریک انصاف میں ہی پائے جاتے ہیں چنانچہ کورونا ٹائیگر فورس بنا دی گئی ۔ اعلان ہو گیا ریلیف کا کام یہ کرے گی ۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں یہ فورس کہیں نظر نہیں آئی لیکن سرکاری سطح پر اسی کے قصیدے پڑھے گئے ۔ ایک بڑی وبا تھی ۔ ایک بحران تھا ۔ وزیر اعظم کو اگر سرکاری مشینری کے ساتھ رضاکاروں کی ضرورت تھی تو پوری قوم کو مخاطب بنانا چاہیے تھا اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک قومی رضاکار فورس بنانی چاہیے تھی لیکن ان کی افتاد طبع یہ بھاری پتھر نہ اٹھا سکی ۔ وہ وزیر اعظم پاکستان کی بجائے وزیر اعظم تحریک انصاف بن کر بروئے کار آئے اور ٹائیگر فورس بنا ڈالی ۔ اپنے کارکنان کے سوا کسی پر اعتماد نہیں ۔ سب چور ہیں اور وطن میں ’’حرف اضافی‘‘ ہیں ۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں موجود ہیں ۔ پوراریاستی ڈھانچہ موجود ہے ۔ لیکن کسی پراعتبار نہیں ۔ اب ٹائیگرز کو پھر سے اکٹھا کیا جا رہا ہے وہ گلی محلے میں پھریں گے اور قیمتوں پر نظر رکھیں گے ۔ جو نفرت اور پولرائزیشن یہاں پھیلائی جا چکی ہے اس کے بعد غیض و غضب میں بھرے نوجوانوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ سیاسی حریفوں کا آملیٹ بنانے کی بجائے انصاف سے کام لیں گے خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ۔ اس لیے کہ تمام الجھے ہوئے مسائل کی گتھیاں بصیرت ہی کے ذریعے سلجھائی جا سکتی ہیں ۔