- الإعلانات -

فیٹف کا دوہرا معےار ۔ ۔ ۔ !

ایف اے ٹی اےف کے صدر مارکس پلیئر کے مطابق ;34;فنانشنل اےکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فےصلہ کیا ہے ۔ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر عمل درآمد کیا ہے اور باقی 6 نکات پر عملدرآمد کرنا پڑیگا ۔ پاکستان فروری 2021 تک گرے لسٹ میں رہے گا ۔ ;34;دنےا میں کئی ممالک ہیں جہاں بڑے بڑے مافےاز کو ٹےکس معاف کیے جاتے ہیں اور پھر ےہی ممالک معےشت کو سہارا دےنے کےلئے قرضوں پر انحصار کرتے ہیں ۔ وہ ممالک قرضوں کے دلدل میں پھنس جاتے ہےں ۔ دنےا میں کئی ممالک اےسے ہیں جھنوں نے اب تک کھربوں قرضے معاف کیے ہیں اور ےہ قرضے عام لوگوں کے معاف نہیں کیے گئے ۔ اسی طرح حکومتوں کی سبسڈی وغےرہ بھی گےم ہے اور ٹےکس کی معافی بہت بڑا کھےل ہے ۔ کس طرح غرےبوں اور متوسط طبقے کے جےبوں سے رقوم نکالے جاتے ہیں ۔ پھر کھلے دل سے مافےا کو ٹےکس معاف کیے جاتے ہیں اور مخصوص طبقے کو مراعات دیے جاتے ہیں ۔ اےف اے ٹی اےف کا ظاہراً مقصد اےسی سرگرمےوں کی روک تھام ہے ۔ اےف اے ٹی اےف ممبران کی تعدادانتالیس ہے جس میں ( ۱ )امرےکہ (۲) برطانےہ(۳)اسرائےل (۴)انڈےا (۵) فرانس (۶) ناروے (۷) جرمنی(۸) اسپین (۹) روس(۰۱)اٹلی (۱۱) ےورپین کمیشن (۲۱) ارجنٹائن (۳۱)اسٹرےلیا ( ۴۱)آسڑےا ( ۵۱) بےلجیم (۶۱)برازےل (۷۱) کینےڈا ( ۸۱) چےن (۹۱) ڈنمارک ( ۰۲)فن لینڈ (۱۲)ےونان ) ۲۲)خلیجی تعاون کونسل (۳۲)ہانگ کانگ (چےن) (۴۲)آئس لینڈ ( ۵۲) آئرلینڈ (۶۲) جاپان (۷۲) جنوبی کورےا (۸۲)لکسمبرگ ) ۹۲) ملائیشےا (۰۳) میکسےکو (۱۳) نےدر لینڈز (۲۳)نےوزی لینڈ (۳۳) پرتگال (۴۳) سعودی عرب (۵۳) سنگاپور (۶۳)جنوبی افرےقہ (۷۳) ترکی (۸۳) سوےڈن (۹۳)سوءٹزرلینڈ ممالک شامل ہیں لیکن ان انتالیس ممالک میں وطن عزےز پاکستان کا نام شامل نہیں ہے ۔ اس سے ہماری وزرات خارجہ کی کارکردگی بھی عےاں ہوتی ہے ۔ اےف اے ٹی اےف کی تےن کےٹاگریاں ہیں ( 1) واءٹ، (2) گرے اور (3)بلیک ۔ ان کے مطابق واءٹ منی لانڈرنگ اور ٹےررسٹ فنائنسنگ سے پاک ممالک ہوتے ہیں ۔ گرے لسٹ میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور ٹےررسٹ فنائنسنگ کے خلاف کوئی نماےاں اقدمات نہیں اٹھاتے ہیں ۔ گرے لسٹ میں شامل ہونےوالے ممالک واچ لسٹ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ گرے لسٹ میں شامل ہونے سے قرضوں کا حصول مشکل ہوجاتا ہے، اوربےرونی سرماےہ کاری اور تجارت محدود کردی جاتی ہے جبکہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے قرضوں کے حصول کا باب بند ہو جاتا ہے اور بےرونی سرماےہ کاری اور تجارت پر قدغن لگ جاتی ہے ۔ اس وقت گرے لسٹ میں (۱) پاکستان (۲)وانواتو(۳)عراق (۴) ےمن (۵) سربےا (۶)شام، (۷) سری لنکا ( ۸)ٹرےنےڈاڈاےنڈ ٹوباگو (۹) تےونس ممالک شامل ہیں ۔ بلیک لسٹ میں (۱) اےتھوپیا ( ۲) بولیوےا (۳)گھانا (۴)انڈونےشےا (۵)کینےا (۶)میانمار (۷)نائیجےرےا ممالک ہیں ۔ گرے اوربلیک لسٹ میں وہی ممالک شامل کیے گئے ہیں جو مغربی ممالک اور ان کے حوارےوں کے مفادات سے متصادم ہوتے ہیں ۔ ےہی وجہ ہے ،ان ممالک کو کسی نہ کسی بہانے سے اس لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ ممالک معاشی لحاظ سے کمزور رہیں اور ترقی نہ کرسکیں ۔ پاکستان کو دوہزار بارہ میں گرے لسٹ میں ڈالا گےا تھا لیکن بعد ازاں پاکستان کے اقدامات کو سراہا گےا اورپاکستان کے نام کو فہرست سے نکال لیا گےا تھا ۔ پاک امرےکہ کشےدگی کے سبب سن دوہزاراٹھارہ میں پاکستان کودوبارہ گرے لسٹ میں ڈالا گےا ۔ امرےکہ اور اس کے حواری بھارت کی کوششوں اور دےگر ممالک پر دباءو ڈال کر پاکستان کا نام واچ لسٹ ےعنی گرے لسٹ میں شامل کیا گےا ۔ حالانکہ پاکستان نے دہشت گردی کو ختم کرنے کےلئے سب سے زےادہ قربانےاں دی ہیں اور پاکستان نے عالمی امن میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان کی لازوال قربانےوں کو نظرانداز کرکے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ اس کی سب سے اہم وجہ پاکستان اےک اسلامی ملک اور اٹےمی طاقت ہے ۔ انڈےا کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جاتا ہے حالانکہ انڈےا کی حکومت بدنام زمانہ دہشت گرد تنظےم آر اےس اےس کو فنڈنگ اور سپورٹ کرتی ہے ۔ علاوہ ازےں انڈےا کی دےگر دہشت گرد تنظے میں مقبوضہ کشمےر وغےرہ میں کام کررہی ہیں ۔ امرےکہ اور روس کولڈ وار میں پاکستان نے غلطی سے امرےکہ کا ساتھ دےا اور اٖفغانستان روس جنگ میں سی آئی اے دنےا بھر سے جہادی پاکستان لے آئے،جب اس جدل کا اختتام ہوا تو امرےکہ نے جہادیوں کو واپس اپنے ممالک نہیں بھیجا اوراپنا منہ پھیر لیا ۔ 9;47;11 کے بعد پھر پاکستان نے نام نہاد دہشت گردی جنگ میں امرےکہ کا ساتھ دےا اور اس کے نتےجے میں پاکستان کے اندر حالات ابتر ہوگئے اور دھماکے ہوتے رہے جس میں ہزاروں عام شہری شہید ہوگئے اور افواج پاکستان کے افسران و جوان شہید ہوئے ۔ افواج پاکستان نے لازوال قربانےاں دےں اور پاکستان میں حالات کو بہتر کیا ۔ اس نام نہاد دہشت گردی جنگ کی وجہ سے پاکستان میں کھےلوں کے مےدان وےران ہوگئے اور سرمایہ دارپاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے تھے ۔ امرےکہ نے اس برے وقت میں بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دےنے کی بجائے ڈومور کی گردان جاری رکھی حالانکہ اس سب حالات کا ذمہ دار امرےکہ تھا ۔ اےف اے ٹی ایف کا دوہرا معےار دےکھےں کہ دنےا میں سب سے زےادہ منفی سرگرمےوں میں امرےکہ کا ہاتھ ہے لیکن امرےکہ کو گرے لسٹ میں نہیں ڈالاجا رہا ۔ ترقی پزےر ممالک کے بستہ ب کے تمام مجرمان برطانےہ میں موجود ہیں ۔ غرےب ممالک میں کرپشن کرنے کے بعد برطانیہ بھاگ جاتے ہیں اور ان کرپٹ لوگوں کا برطانےہ محفوظ پناہ ہے ۔ اےف اے ٹی اےف نے برطانیہ کو نہ گرے لسٹ میں شامل کیا اور نہ ہی بلیک فہرست کا حصہ بناےا ۔ سوءٹزرلینڈ کے بےنکوں میں سب بلیک منی کا پیسہ پڑا ہوا ہے ۔ چور اور ڈاکواپنے ممالک سے چوری کی رقم سوءٹزرلینڈکے بےنکوں میں رکھتے ہیں لیکن سوءٹزرلینڈ کو گرے ےا بلےک لسٹ مےں شامل کیوں نہیں کیا ۔ اسرائےل معاشی سمےت تمام منفی سرگرمیوں کا چیمپیئن ہے لیکن اےف اے ٹی اےف نے اس کو گرے ےا بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا ۔ مغرب کے زےادہ تر ممالک کے بےنکوں میں غرےب اور ترقی پزےر ممالک سے لوٹی ہوئی رقوم پڑی ہیں لیکن اس پراےف اے ٹی اےف نے چپ سادھ لی ہے اور ےہ رقوم مذکورہ متاثرہ ممالک میں واپس کیوں نہیں بھےجی جارہی ہے ۔ ;238;اےف اے ٹی اےف تنظےم کو اپنی گرےبان میں بھی جھانکنا چاہیے اور سب کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھنا چاہیے ۔ امرےکہ ، برطانےہ ، بھارت اور اسرائےل وغےرہ جوبھی کرےں ،وہ ٹھےک ہے لیکن دےگر ممالک کرےں تو وہ غلط ۔ سب کےلئے اےک پیمانہ ہونا چاہیے ۔ کوئی بھی ملک غلط کرے تو اس پر قدغن لگائےں ۔ اےف اے ٹی اےف اور دےگر تنظیموں کا دوہرے معےار کے سبب عالمی امن اور ترقی پر منفی اثرات مربوط ہورہے ہیں ۔ ان تنظےموں کی آشیر باد کی وجہ سے دنےا میں دولت کی غےر منصفانہ تقسےم کا سلسلہ جاری ہے ۔ اقوام متحدہ، آئی اےم اےف، ورلڈ بےنک اور فنانشل اےکشن ٹاسک فورس وغےرہ کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ مذکورہ تنظیموں کو مغربی ممالک اوران کے حوارےوں کے مفادات کی بجائے غےر جانبدارانہ کام کرنا چاہیے ۔ پاکستان دنےا کا اہم ملک ہے،اس لئے فنانشل اےکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کو بھی رکنےت دےنی چاہیے ۔ پاکستان اےک ذمہ دار ملک ہے اور پاکستان کے مثبت کردار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔