- الإعلانات -

بھارت دھمکیوں کی بجائے دفاعی کمزوریوں پر توجہ دے

بھارت کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھادوریا نے بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ہم تیار ہیں ۔ پاکستان اور چین کا سامنا کرنے کےلئے بہترین پوزیشن پر ہیں اور ان کے پاس ہم پر برتری حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت دو محاذوں پر چین اور پاکستان سے نبردآزما ہونے کےلئے مکمل طور پر تیار ہے ۔ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت لڑنے کےلئے تیار ہونے کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی ‘ دفاعی کمزوریوں ’ کو ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے جواب میں کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات آر ایس ایس اوربی جے پی کے انتہا پسند نظریے اور بالادستی کی سوچ سے مغلوب ذہنیت کا عکس ہیں ۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بھارت کے سینئر سیاسی و عسکری رہنما خطے سمیت خود بھارت کے امن کو داوَ پر لگاتے ہوئے پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز بیانات جاری کر رہے ہیں ۔ بھارتی چیف کو اس طرح کی شیخی بگھارتے وقت اپنی دفاعی کمزوریوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا کے سامنے بری طرح عیاں ہوچکی ہے ۔ بھارت کا دفاع ‘پہلے بالاکوٹ کے ناکام اقدام اور حال ہی میں لداخ میں بے نقاب ہوا ۔ بھارت اپنی کسی بھی مذموم حرکت کے خلاف پاکستانی قوم کے جذبے اور مسلح افواج کی تیاریوں کو نظر انداز نہ کرے ۔ بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول لداخ میں چین کے ہاتھوں بھارت کو ہونےوالی ہزیمت کا انتقام لینا چاہتے ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ پاکستان کو بھی سبق سکھانے کے درپے ہیں ۔ انہوں نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب میں ایک نئے بیانیے (نیو انڈیا)کے تحت پاکستان اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کبھی بھی جنگی ماحول کیلئے پہل نہیں کرتا لیکن اپنے دفاع کیلئے خطرہ بننے والوں سے اپنی سرزمین پر بھی لڑے گا اور یہ جنگ ان ملکوں کی سرزمین تک لے جائے گا جہاں سے یہ خطرات سر اٹھارہے ہیں ۔ بھارت سکیورٹی کےلئے خطرہ بننے والوں سے اپنی سرزمین پر بھی لڑے گا اور یہ جنگ ان ملکوں کی سرزمین تک لے جائے گا جہاں سے یہ خطرات سر اٹھارہے ہیں ۔ اجیت دوول نے دعوی کیاکہ ان کے ملک نے پہلے کبھی حملہ نہیں کیا ۔ ہمیشہ اپنے دفاع میں کارروائی کی ۔ بعد میں ایک بھارتی ٹی وی پر دوول کے بیان کی تردید کر دی گئی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یو پی کے صدر سوتنترتر دیو سنگھ نے بڑھک لگائی ہے کہ ’’ رام مندر کے قیام اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلوں کی مانند ہی، نریندر مودی یہ بھی فیصلے کر چکے ہیں کہ پاکستان اور چین کیساتھ جنگ کب اور کس تاریخ کو لڑنی ہے‘‘ ۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بھارت کے سینئر سیاسی و عسکری رہنما خطے سمیت خود بھارت کے امن کو داوَ پر لگاتے ہوئے پاکستان کیخلاف مسلسل اشتعال انگیز بیانات جاری کر رہے ہیں ۔ بھارتی سیاستدانوں کو اس طرح کی شیخی بگھارتے وقت اپنی دفاعی کمزوریوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا کے سامنے بری طرح عیاں ہوچکی ہے ۔ گزشتہ ماہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے بھی پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے چین سے جاری کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی ۔ جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کی افواج سے بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر ;39;مشترکہ کارروائی;39; کا خطرہ ہے ۔ ہ میں معلوم ہوا ہے کہ پاکستان پراکسی وار کرنے کےلئے تیار ہوگا لیکن ہماری شمالی سرحد پر کوئی خطرہ بڑھا تو پاکستان اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ہ میں مغربی سرحد پر مشکلات پیدا کرے گا ۔ جس میں پاکستان کو ;39;بھاری نقصان کا سامنا;39; کرنا پڑے گا اگر اس نے کسی قسم کا ;39;مس ایڈونچر;39; کیا ۔ بھارتی حکومت اور ملٹری قیادت غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں ۔ جو فوج 80 لاکھ کشمیریوں کو 71سال سے شکست نہیں دے سکی وہ207 ملین پاکستانیوں کو کیسے شکست دے سکتی ہے ۔ پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے ۔ بھارتی سول ملٹری لیڈر شپ کو بھی خطے میں امن کی اہمیت کا ندازہ ہونا چاہیے ۔ افواج اسلحے کے زور پر نہیں ، جذبہ ایمانی اور عوام کی حمایت سے لڑتی ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فروری 2019 میں پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی تاہم افواج پاکستان کی تیاری اور موثرجواب نےامن کاراستہ ہموارکیا ۔ پاکستان اور افواجِ پاکستان ہمیشہ بھارت کوسرپرائز کریں گی ۔ پاکستانی قیادت نے اس خطرے کواحسن طریقے سے نمٹایا اور جنرل قمرباجوہ کی سپیریر ملٹری اسٹریٹیجی نے جنوبی ایشیا کوتباہی سے بچایا ۔ جنگ میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی ۔ انسانیت ہارتی ہے ۔ کامیاب ملٹری ڈپلومیسی نے خطے میں امن کےلئے پاکستان کے کردار کو نمایاں کیا ۔ آرمی چیف نے پاکستان کی سلامتی و ترقی کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔ پاکستان کو سنگین نتاءج کی دھمکیاں ، دبا و میں لانے کیلئے، سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ، دہشت گردی کے الزامات ، شرانگیز پراپیگنڈہ اور اس کیخلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے پیچھے ایک ہی ذہنیت کارفرما ہے کہ اس نے ابھی تک تقسیم ہند کو دل سے نہیں تسلیم کیا ۔ بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی اب بھارت کا معمول بن چکا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ۔