- الإعلانات -

گستاخانہ خاکے

نبی کرےم ﷺکی شان اعلیٰ اور ارفع ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے ہماری محبت ماں باپ ، اولاد ، عزےز واقارب اور ہر چےز سے زےادہ ہے ۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت اےمان کےلئے ناگزےر ہے ۔ ہم مسلمان خوش نصےب ہیں اور اپنی قسمت پر ناز کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرم ﷺ کی امتی ہیں ۔ ےہ ہمارے لئے عظےم اعزاز ہے جس پر ہم سب مسلمانوں کو فخر ہے ۔ سرورکائنات ﷺ کا ذکر اللہ رب العزت نے بلند کیا ہے ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ;34; اے محبوبﷺ! ہم نے آپ کا ذکر آپ کےلئے بلند کردےا ۔ صبح سے لیکر شام تک اور شام سے لیکر صبح تک آپﷺ کا ذکر اور چرچا ہوتا ہے ۔ ہر جگہ ، ہر خطہ ، ہر ملک اور ہر براعظم میں آپ ﷺ کا ذکر ہوتا ہے ۔ زمین پر آپ ﷺ کا ذکر ، آسمانوں پر آپ ﷺ کا ذکر، عرش پر آپ ﷺ کا ذکر اور فرش پر آپ ﷺ کا ذکر ۔ اللہ رب العزت آپ ﷺپر درود بھیجتے ہیں ، فرشتے بھی آپ ﷺ پر دورد بھیجتے ہیں ،انسان ، حےوان ،چرند،پرند،شجر سب آپ ﷺ پر دورد بھیجتے ہیں ۔ سورج آپ ﷺ کے اشارے سے پلٹا ہے اور چاند بھی آپ ﷺ کے اشارے سے دو ٹکروں میں منقسم ہوا ہے ۔ آپ ﷺ کے رفےق اور غلام بھی شان والے ہیں ، وہ اذان نہ دےں تو صبح نہیں ہوتی ۔ سب آپ ﷺ کی تعرےف کرتے ہےں ۔ ہر شے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرتی ہے اور ہر چےز آپ کی تابعداری کرتی ہے ۔ صرف شےطان اور ان کے حواری آپ ﷺ کی نعوذ باللہ مخالفت اور گستاخی سے باز نہیں آتے ہیں لیکن ان کےلئے درد ناک اور غضبناک عذاب تےار ہے ۔ وہ ہمیشہ آگ میں جلتے رہیں گے ۔ شےطان اور ان کے حوارےوں کی مخالفت ازل سے ہے اور ہمیشہ سے شرانگےزےاں کرتے آرہے ہیں ۔ مغربی ممالک میں گاہے بگاہے گستاخانہ خاکے بنائے جاتے ہیں اور کھبی کھبار مقابلے کا ڈونگ رچاتے ہیں ۔ ےہ ان کے اہم پلان کا حصہ ہے ۔ وےسے شیطان کے منصوبے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے شروع ہیں اور اب تک جاری ہیں لیکن1440ء اور1445 کے درمےان میں اہم پلان تےار ہوا جس کو عظےم سازشی منصوبہ کہتے ہیں ۔ اس عظےم سازشی منصوبے کا کچھ حصہ اےک رشےن لڑکی کے ذرےعے عام لوگوں تک پہنچا لیکن جیسے ہی اس عظےم سازشی منصوبے کا مواد شاءع کیا جاتا ہے تو وہ تمام مواد اےک ہی گھنٹے کے اندر غائب کرلیا جاتا ہے ۔ اس پلان میں دنےا کو کےسے کنٹرول کیا جائے گا کی تمام پلاننگ ہے ۔ اس پلان میں بےن الاقوامی انتظامی ، مالیات اور ابلاغ کے اداروں کا قےام وغےرہ شامل ہے ۔ وہ اس پلان کے تحت کسی بھی ملک اور قوم کو اپنا ماتحت بنا سکتے ہیں ۔ اےلومناتی اور فری مےسن تنظے میں بھی اس پلان کا حصہ ہیں ۔ ساری دنےا سے دولت اکٹھی کرنا بھی پلان کا حصہ ہے ۔ ےہ دولت مختلف طرےقوں سے اکھٹی کرتے ہیں ۔ غرےب اور پسماندہ ممالک کے با اثر افراد کے سہولت کار بن کر ناجائز رقم ان کے بےنکوں میں جمع کروائی جاتی ہے اور پھر وہ رقم عملاًان کی ہی ہوجاتی ہے ۔ پھر وہی رقم بطور قرض انہی ترقی پذےر ممالک کو دےتے ہیں اور ان سے سود لےتے ہیں ۔ ناجائز رقم جمع کرنے والوں کو کچھ سہولیات دےتے ہیں لیکن کوئی شخص وہ مکمل رقم واپس اپنے ملک نہیں لے جاسکتا ۔ اےک پلان کے تحت وہ چند عشروں کے بعد قانون بناکر ناجائز رقم اور جائےدادوں پر قبضہ کرےں گے ۔ پاکستان سمےت مسلم و غےر مسلم پسماندہ ممالک کے افراد کی رقوم اور جائےدادےں مغربی ممالک میں موجود ہیں اور ان سب پر قبضہ کرےں گے ۔ اس صورت میں بعض متاثرےن اپنی وفادارےاں گنوائےں گے لیکن سب بے سودہوگا ۔ واضح ہوکہ جو لوگ ترقی پزےر ممالک سے ناجائز رقم لیکر مغربی ممالک میں عےاشےاں کررہے ہیں ، ان کا مستقبل تارےک ہوگا ۔ تمام مسلمانوں کو مغرب کے ممالک میں کام کرنا چاہیے اور رقم ضرور کمانی چاہیے لیکن رقم اپنے ملک میں لانی چاہیے ۔ مغرب میں اسلام کی تبلیغ وتروےج پر زور دےنا چاہیے کیونکہ اسلام اےک فطری مذہب ہے ۔ اسلام کی روشنےوں سے منور ہونا مغربی لوگوں کا بنےادی حق ہے ۔ کوشش کرےں کہ اسلام کی کرنوں سے سب منور ہوجائےں ۔ خوش نصےب لوگ ہی اسلام کی دولت سے مالا مال ہونگے ۔ اےک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی تعداد اےک ارب سے زےادہ ہے ۔ مسلمانوں کے پاس قرآن مجےد فرقان حمےد اور احادےث مبارکہ رہنمائی کےلئے موجود ہیں اور مسلمانوں کو ان سے ضرور رہنمائی لینی چاہیے اور ان پر من وعن عمل کرنا چاہیے ۔ اےک اندازے کے مطابق دنےا میں ےہودےوں کی تعداد اےک کروڑ چالیس لاکھ ہے اور دنےا کی 98 فی صد دولت ےہودوں کے قبضے میں ہے ۔ اس پر ضرور غور کرےں ۔ ےہودےوں کی مقدس کتاب تلمود کے مطابق ےہ کائنات چھ ہزار سال تک رہے گی اور اس میں سے5790 سال بےت گئے ہیں اور دنےا کی عمر 210 سال باقی ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں اےک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے ۔ اللہ پاک نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں تخلیق کیا ہے ۔ ےہودیوں کے مطابق دنےا کی عمر بھی چھ دن ہے ےعنی چھ ہزار سال ہے ۔ ےہودی آخری جنگ کی تےاری کررہے ہیں اوراسرائےل میں غرقد کے درخت بڑی تعداد میں لگارہے ہیں ۔ جدل کےلئے جدےد ترےن ہتھےار اوردےگر لوازمات تےار کررہے ہیں ۔ مخالفےن کو آپس میں لڑا کر کمزور کررہے ہیں اور ان کو غرےب کررہے ہیں تاکہ ان کو صرف روٹی کی فکر ہو اور ان میں لڑنے کی سکت بھی نہ ہو ۔ مسلمانوں کو مجبور کرکے اےک اےک ملک سے اسرائےل کو تسلیم کروار ہے ہیں اور ان کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کررہے ہیں ۔ مسلمانوں کے دلوں سے نبی کرےم ﷺ کی محبت نکالنے کی سعی کررہے ہیں ۔ کھبی لباس پر اعتراض اورکھبی کس چےز پر اعتراض،جھوٹے نبیوں کا آنا، سب عظےم سازشی منصوبے کا حصہ ہے ۔ فرانس میں حالیہ گستاخانہ خاکے اس سلسلے کی اےک کڑی ہے اور ےہ لوگ دےگر مختلف حربے استعمال کرتے رہیں گے لیکن مسلمانوں کو چوکنا رہنا ہوگا ۔ چوروں سے باخبر رہنے کےلئے چوکیداروں کو بےدار رہنا ہوگا ۔ اگر چوکیدار اور مالک مکان سوگئے تو ےقےنا چور اپنا کام کرلیں گے ۔ امت مسلمہ کے حکمرانوں کو خواب غفلت سے بےدار ہونا پڑے گا ۔ علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ سب سے پہلے دنےا کو بتانا ہوگا کہ حرمت رسول ﷺ پر ہماری جان بھی قربان ہے ۔ پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بےان کے خلاف سےنٹ، قومی اسمبلی اور خیبر پختونخواہ اسمبلی میں مذمتی قرار دا دکو اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے ، پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں مذمتی قرار دادےں جمع کرادی گئےں ۔ پاکستان نے سب پر واضح کردےا ہے کہ کوئی مسلمان نبی کرےم ﷺ کی شان میں گستاخی قطعی برداشت نہیں کر سکتا اور اےسے اقدامات کو حکومتی سر پرستی حاصل ہونا افسوسناک ہے ۔ ترک صدر طےب اردوان نے کہا ہے کہ فرانس کے صدر کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے اور ان سے اس کے دماغی معائنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مختلف مسلم ممالک میں فرانس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ اگر مغرب کو آزادی رائے کا بہت شوق ہے تو ہولوکاسٹ پر اظہار خیال کرےں ۔ ےہ لوگ ہولوکاسٹ پر اظہار قطعی نہیں کرسکتے ہیں ۔ جب ہولو کاسٹ پر اظہار خیال نہیں کرسکتے ہیں تو پھرمسلمانوں کی دل آزری کیوں کررہے ہیں ;238; حضور کرےم ﷺ اور ان رفقاء پر خاکے نہیں بنانے چاہییں کیونکہ اس سے مسلمانوں کی دل آزری ہورہی ہے ۔ اگر وہ باز نہیں آتے ہیں تو پھر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہولو کاسٹ پر اظہار خیال اور ہولو کاسٹ پر خاکے بنانے شروع کردےں ۔ فرانس سمےت جو بھی ملک گستاخانہ خاکے بنائے تو ان کے ساتھ سفارتی ، تجارتی ،معاشی اور معاشرتی تعلقات منقطع کریں ۔ اس ملک کے سفےر کو فوراً ملک بدر کرےں اور اپنے سفےر کو واپس طلب کرےں ۔ مسلمانوں کو اےنٹ کا جواب پتھر سے دےنا ہوگا ۔ مسلمانوں کو متحد ہونا ہوگا ۔ اسلام قےامت تک رہے گا اور آخری فتح اسلام کی ہوگی ۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے ۔ نبی کرےم ﷺ ہم سب کو جان سے بھی زےادہ عزےز ہےں ۔