- الإعلانات -

مصروف وزیراعظم

پاکستان کے معروف وزیراعظموں میں ذوالفقارعلی بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے نام شامل ہیں ،محمد خان جونیجو یوسف رضا گیلانی بھی مختلف حوالوں سے بڑے معروف وزیراعظموں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو پہلے عوامی وزیر اعظم میوزیم بنے،ان کا شمار ذہین ترین سیاست دانوں میں ہوتاہے،مرحوم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں ،مرحوم نے صدر ایوب ان کی کابینہ سے سیاست شروع کی اور صدر ضیا الحق نے پھانسی پر چڑھا کر بینظیر بھٹو کی سیاست کی راہ ہموار کی،فوجی گملے میں پروان چڑھنے والے پھول فوجی محلے میں ہی ختم ہو گیا،ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی غیر انسانی غیر سیاسی اور غیر اخلاقی سزا تھی، محمد خان جونیجو مسلم لیگ کے حوالے سے وزیراعظم بنے مگر جو محمد خان جونیجو نے پر پرزے نکالنے شروع کئیے،میاں محمد نواز شریف کے ذریعے فوجی صدر نے محمد خان جونیجو کو ایسا اتنا کیا کہ محمد خان جونیجو سیاست سے گھر ;200;نے سمیت ;200;ءوٹ ہوگیا،بے نظیر بھٹو کو اقتدار بار بار ملا،سندھ تو ہمیشہ بے نظیر بھٹو اور اس کے وفاداروں کے ہاتھ رہا،مگر اقتدار کے ہوتے ہوئے اپنی گھر کے سامنے اپنے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل کے معمہ کو حل نہ کر سکیں ،بے نظیر بھٹو کا اقتدار بھی بےنظیر رکھا کیونکہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیر اعظم کا عہدہ رکھنے کے باوجود اپنا اقتدار کومحفوظ نہ کر سکیں ،مگر ان کے خاوند ;200;صف علی زرداری نے صدر پاکستان کا عہدہ بھی حاصل کیا اور مالی مفادات حاصل کیے،محترمہ بے نظیر بھٹو ایک حملے میں راولپنڈی میں ملک پر قربان ہو گئی،جو ذولفقارعلی بھٹو کی وراثت بھٹو زرداری میں منتقل ہو گئیں اور ;200;ج نہیں تو کل بھٹو زرداری عوام کے سامنے ہوں گے کیونکہ بھٹو ہی اصل سردار گھرانہ ہے،;200;ج کل پی پی پی اور نواز لیگ نے ملک کے مختلف الخیال لوگوں کا ایک اتحاد بنا کر موجودہ حکومت اور ملک کے اداروں کے خلاف صف ;200;را کر رکھا ہے،اس اتحاد کے بڑے میاں محمد نواز شریف اور ;200;صف علی زرداری اپنے مفادات کے لیے اپوزیشن کو موجودہ حکومت کے مد مقابل کھڑا کر کے اپنے لیے کسی ڈیل کے لیے ہاتھ پاءوں مار رہے ہیں ،سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی شہرت پر تبصرہ نامناسب ہوگا! جس کو عدالتی سزا دے چکیں اور نادیدہ قوتوں کی رسائی سے وہ ملک کے تمام اداروں کو شکست دے کر ;200;ج مرتے ہیں کہ کل مرتے ہیں کہ کل بہانہ نہ بنا کر ;200;ج پرانے اشتہاری سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ لندن گھومتے پھرتے نظر ;200;تے ہیں ،میاں محمد نواز شریف جو پاکستان میں موت حیات کی کشمکش میں تھے جونہی لندن پہنچے ان کی بیماری ہوا ہو گئی،پاکستان میں بسترِ مرگ پر لیٹے محمد نواز شریف لندن پہنچے تو ان کی بیمار اسحاق ڈار کی طرح غائب ہوگئی اور موصوف پاکستانی فوج کے خلاف اس طرح میدان میں اترے گویا ایک ہندوستانی حکومتی اجنٹ کا مقابلہ پاک فوج سے ہے،پاکستان اور عوام پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اس کا ہر حکمران ہمیشہ ملک اور قوم کا حکمران رہنا چاہتا ہے جس کے بغیر نہ ملک میں امن ہو سکتا ہے اور نہ استحکام اور نہ ہی خوشحالی اس لیے ہر حکمران ملک کے مفاد میں ہمیشہ حکمران بن کر ملک چلانا چاہتا ہے،;200;ج کل میاں محمد نواز شریف بھی اسی مرض میں مبتلا ہوکر پاک فوج اور دوسرے اداروں کو نشانہ لیتے ہوئے ہیں ۔ پاکستان دشمن اگر میاں نواز شریف کی پالیسی سے خوش ہیں تو میاں صاحب کیا کریں ،یہ تو قوم اور ملک کے مفاد میں فوج کے خلاف بغاوت سے دریغ نہیں کریں گے جیسا کہ ;200;ج کل سابق حکمران ٹولا جو کہ فوج کی حمایت و امداد سے سیاست میں ;200;یا تھا اسی فوج کے خلاف مہم چلا کر کچھ مفاد حاصل نہ کر پائے ۔ پاک فوج کو کمزور اور عوام میں فوج کے خلاف نفرت کے بیج بونے کو بھی اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے جس طرح سیاستدان عدلیہ میں کمزوریاں ہیں ،فوج بھی فرشتوں کی فوج نہیں مگر تمام خرابیوں کی جان فوج کو قرار دینا یہ شکست ٹولے کی ملک دشمنی سے کام فیل نہ ہے،ملک کرپشن کی دلدل میں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ کرپشن کے ذمہ دار سیاستدان اور حکمران ہوتے ہیں جو کرپشن پر جج ہو کہ جرنیل اسے نہ صرف گھر بھیج سکتے ہیں بلکہ جیل میں بھی بھیج سکتے ہیں ۔ اگر ججز اور جنرل کرپشن کریں تو کیا حکمران کس مرض کا علاج ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے ۔ ہاں جو حکمران اپوزیشن میں ;200;کر فوج یا عدلیہ پر انگلی اٹھاتا ہے تو یہ وقت تنقید کرنے کا نہیں ہے ۔ سیاستدان خود کرپشن کرتے ہیں اس لیے وہ اپنے دور اقتدار میں کسی دوسرے کرپٹ پر انگلی نہیں اٹھاتے جب اقتدار سے فارغ ہوتے ہیں تو کسی ایک کرپٹ کے خلاف کارروائی کی بجائے پورے ادارے پر الزامات لگا کر دشمن کو خوش اور عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ۔ رہا عمران خان کا معاملہ عمران خان پاکستان کی تاریخ کا نرالہ قسم کا وزیراعظم ہے جو وزارت عظمیٰ کے حصول سے پہلے بھی دنیا بھر میں جانا پہچانا جاتا تھا، اس کا ماضی فلاحی تاریخ کا حامل تھا اس نے طویل جدوجہد کرکے ملک کا اقتدار سنبھالا ہے قوم نے اسے مسیح جانا مگر عمران خان کی کامیابی اور اس وقت داغدار کر دیا گیا ہے جب عمران نے دوسری پارٹیوں سے بھگوڑوں کو حکومت میں شامل کیا اور ملک میں مہنگائی کا عذاب سے دوچار کر دیا ۔ عمران خان سے دنیا اسلام نا خوش ہے پاکستان دشمنوں کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے ۔ عمران خان کے راستے میں روڑے اور کانٹے ساری دنیا بچھا رہی ہے پھر کابینہ میں چند دولت کے پجاریوں نے گندم اور چینی کی غلط پالیسیاں بنا کر عمران خان کو کامیابی سے ناکامی کے حوالے کردیا ۔