- الإعلانات -

بھارت میں ایک اور اقلیتی خاتون ہوس کا شکار

بھارت میں 14 ستمبر کی رات شرمناک واقعہ پیش آیا جب اونچی ذات کے ہندووَں کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ خاتون کو مردوں کے ایک گروپ نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا ۔ جس کے بعداسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔ اس بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ 19 سالہ متاثرہ دلیت خاتون کا دہلی سے 62 میل دور ضلع ہتھراس میں 14 ستمبر کو ریپ کیا گیا ۔ لڑکی کا نام منیشہ والمکی بتایا گیا ۔ پولیس نے رات گئے اس کے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اس کا انتم سنسکار بھی کردیا ۔ خواتین کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک قرار دیے جانے والے ملک بھارت میں ریپ کا یہ نیا کیس ہے ۔ اس واقعے میں لڑکی پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے ۔ لڑکی کو اجتماعی زیادتی نشانہ بنانے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ لڑکی کی زبان کاٹی ڈالی تھی جب کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑ دی تھی ۔ لڑکی کے جسم پر تشدد کے کئی نشانات تھے ۔ اس واقعے پر بھارت سمیت دنیا بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر لڑکی کے مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اس واقے کے بعد ایک بار پھر بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں نچلی ذات کے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ۔ دلت شہریوں کو شکایت ہے کہ انہیں برابر کا شہری تصور نہیں کیا جاتا اور کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ۔ بھارت میں ہر سال اجتماعی زیادتی کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں تاہم ایسے کیسز کے خلاف آواز اس وقت بلند ہونا شروع ہوئی جب 2012 میں نئی دہلی میں میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ رونما ہوا ۔ اس میں ملزمان نے لڑکی سے چلتی بس میں زیادتی کے بعد اسے قتل کردیا تھا ۔ واقعے کے تقریباً 7 سال بعدگینگ ریپ کیس کے چار ملزمان کو پھانسی دی گئی تھی ۔ بھارتی حکومت کی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون ریپ کا نشانہ بنتی ہے ۔ دلت شہریوں کو شکایت ہے کہ انہیں برابر کا شہری تصور نہیں کیا جاتا اور قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ خواتین کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے اور مجرمان سرعام نشانہ بناتے ہیں ۔ سیکولرازم اور مساوی حقوق کے نام نہاد علمبردار بھارت میں گزشتہ چند برسوں میں پیش آنے والے والی جنسی زیادتی کے پے در پے واقعات نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ بھارتی خواتین کو عوامی جگہوں ، خاندانوں اور دفتروں میں ہراساں اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول ہے ہر جگہ عدم تحفظ کی فضاء ہے ۔ عوامی مقامات ہوں یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ، عورتوں کو کہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کر لیا جاتا ہے یا پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ بھارتی معاشرے میں خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسان سلوک کے ردعمل میں بھارت میں سینکڑوں ہندو لڑکیوں نے سماجی اور اخلاقی گراوٹ سے گھبرا کر اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد میں عافیت تلاش کرنا شروع کردی ہے ۔ ہندووَں میں ذات پات کی تقسیم کی رو سے برہمن اور دلت کے درمیان کھینچی گئی لکیر کے مطابق نیچ (نچلی) ذات قرار پانے ولے دلت ہندووَں سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں لڑکیوں نے مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی چننے کے لیے دینی شخصیات کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا ہے ۔ اسی طرح بھارت میں متعصب ہندووَں کی پیداکردہ غیر فطری اونچ نیچ کے باعث لڑکے باعزت زندگی گزارنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں ، جبکہ لڑکیوں نے سماجی ظلم، ناروا سلوک اور اونچ نیچ سے نجات کا راستہ مسلمان ہونے میں تلاش کیا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ ہندووَں سے تو شادی نہیں کر سکتیں ۔ اس لیے مسلمان ہی کو جیون ساتھی بنانا پڑتا ہے ۔ ہندوستان ہیومن اسمگلنگ، جنسی تشدد، سماجی اور مذہبی روایتوں کی وجہ سے اور خواتین کو سیکس دھندوں میں دھکیلنے کے لحاظ سے سر فہرست ہے ۔ متعلقہ وزارت نے اس سروے کے نتیجوں پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ۔ سروے میں جواب دینے والوں سے پوچھا گیا کہ 193 اقوام متحدہ کے ممبر ریاستوں میں سے خواتین کے لئے سب سے خطرناک پانچ ملک کون سے ہیں اور صحت، اقتصادی وسائل، ثقافتی اور رسم و رواج، جنسی تشدد، استحصال، غیرجنسی تشدد اور ہیومن اسمگلنگ کے معاملے میں کون سا ملک سب سے خراب ہے ۔ جواب دینے والوں نے ہندوستان کوہیومن اسمگلنگ، جنسی استحصال اور سیکس سلیوری، گھریلو غلامی اور زبردستی شادی کرانے اور اسقاط حمل کی بنیاد پر بھی خواتین کے لئے سب سے خطرناک ملک بتایا ہے ۔ بھارت کے دو سو ملین دلتوں کو عرصہ دراز سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے ۔ دلتوں کا شمار بھارت کی پسماندہ ترین ذات میں ہوتا ہے اور ذات پات میں تقسیم بھارتی معاشرے میں اعلیٰ ذات کے ہندووَں کا کسی دلت کو چھونا بھی ممنوع ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ حملہ دلت خواتین کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کی عکاسی کرتا ہے ۔ صرف بھارت میں ہی نہیں مقبوضہ کشمیر کی خواتین بھی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں عصمت دری کا شکار ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے جڑواں دیہات کنن اور پوش پورہ میں بڑے پیمانے پر عصمت دری اور تشدد سے بچ جانے والوں کی جدوجہد سے متاثر ہوکر 2014کے بعد سے ہر سال منایا جاتا ہے ۔ 1991 میں 23اور24فروری کی درمیانی شب انڈین آرمی نے وادی کشمیر کے کنن اور پوش پورہ گاؤں میں سرچ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر 23سے 100 کشمیری خواتین کا گینگ ریپ کیا تھا اورمردوں کے ساتھ بھی بے دردری سے جسمانی تشددکیا تھا ۔