- الإعلانات -

یہ نور نہ ہو سیّاروں میں

حضرت نبی آخر الزمان‘ سرور کائنات‘ محسن انسانیت‘ رحمۃ للعالمین‘ آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادتِ باسعادت 30 اکتوبر کو پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا میں محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے ملی جوش و جذبے سے منایا گیا ۔ مسلمانانِ عالم 12 ربیع الاول کا دن اپنے نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے اظہار کیلئے عیدمیلا النبی کی صورت میں مناتے ہیں اور اس دن اپنے اپنے انداز میں جشن منا کر اور خوشیوں کا اہتمام کرکے رحمۃ للعالمین صلی للہ علیہ وسلم کے حضور سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے فرزندانِ توحید اور غلامان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ملک بھر میں محافل میلاد منعقد کرکے اور گلیوں ‘ بازاروں ‘ شاہراہوں ‘ مساجد اور گھروں کو برقی قمقموں ‘ سبز جھنڈوں ‘ جھنڈیوں اور روضہ رسول;248; کے ماڈلز کے ساتھ سجا کر عید میلا النبی منایا ۔ ملک بھر میں عام تعطیل تھی اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے حضرت نبی ;63;کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے خصوصی اشاعتوں اور پروگراموں کا اہتمام کیا تھا جبکہ سرکاری و نجی سطح پر جشنِ میلادالنبی کی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا روزنامہ پاکستان نے اپنی رپورٹ میں ملک بھر میں ہونے والی تقریبات کے حوالے سے بڑی بھرپور کورج کی اور علمائے دین اور مشاءخ و عظام کے پیغامات کے حوالے سے اپنے اداریوں کو مزین کیا جن میں حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے کٹ مرنے کے جذبے کا اعادہ کیا گیا ۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے نبی ہیں کہ محبوب فرش بھی ہیں اور مرغوب عرش بھی ہیں ایسے حکمران ہیں کہ غیر مسلم بھی سلوک پر شادمان و مسرور ہیں ایسے سپاہ سالار ہیں کہ خندق وبدر و حنین کا ذرہ ذری حکمت عملی پر، سراپا تحسین ہے ایسے صابر و شاکر ہیں کہ بھوک مٹانے کے لیے، پیٹ پر دو دو پتھر باندھے ہیں ایسے منصف و عادل ہیں کہ اپنی بیٹی کے خدشہ پر بھی، ہاتھ کاٹنے سے گریزاں نہیں ہیں ایسے شب زندہ دار ہیں کہ غار حرا بھی فرقت و جدائی میں بے قرار ہے ایسے حلیم الطبع اور رحیم و کریم ہیں کہ میدان طاءف میں پتھر کھا کر بھی دشمنوں کے لیے دعا گو ہیں ایسے عالم و مدرس ہیں کہ اصحاب صفہ،ہمہ تن گوش ہیں مگر افسوس در افسوس،ستم بالائے ستم جب بھی ربیع الاول کا مقدس مہینہ شروع ہوتا ہے دشمنان اسلام کے پیٹ میں نجانے کیوں مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ان سے مسلمانوں کی یہ خوشی بھی برداشت نہیں ہوتی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین بن کر آئے ہیں دنیا کی رونق آپ کے دم قدم سے ہی ہے مولانا ظفر علی خان خوب کہا ہے گر ارض و سما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو;223;یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیارو میں ;245245;فرانس کے فرعون اوررجیم صدر نے حکومتی سطح پرگستاخی رسول وتوہین رسالت کو سرکاری سطح پر منانے کا عزم ظاہر کیا ہے اوراسے سرکاری درجہ دیا ہے ۔ فرانس وہ ملک ہے جوسلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران میں سے ایک ہے ۔ اس نے دنیا بھر کی سلامتی کو چیلنج کیا ہے ۔ فرانس میں بسنے والے تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کےلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہے ان کی مساجد بند ہو رہی ہیں مدارس پر تالے ڈالے جا رہے ہیں ‘ اور انہیں دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے ۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ان کے عقائد و نظریات کی توہین کرنا‘ ان کے مذہب کی انتہائی قابل احترام شخصیات کی توین کرنا‘ کس طرح آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتا ہے;238; افسوس ہوتا ہے کہ تعلیم اور سائنس میں بہت آگے نکل جانے والے ممالک بھی اتنی سی بات تک نہیں پہنچ رہے کہ حضرت محمد سے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا عالم کیا ہے‘ ہم آئے دن اس طرح کے توہین آمیز خاکوں ‘ فلموں اور کارٹونوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں ‘ کبھی سویڈن‘ کبھی ناروے‘ کبھی ڈنمارک‘ کبھی ہالینڈ‘ کبھی فرانس اور کبھی کہیں اور‘ شاید یہ لوگ تمام تر ترقی کے باوجود ذہنی طور پر بیمار ہیں اور ایک ایسی عظیم ہستی کو نشانہ بناتے ہیں جو انسانیت اور احترام آدمیت کے حوالے سے خود ان کی بھی محسن ہے میرے پیارے نبی کے نام تو خالق ارض و سما نے سب سے بالا کر دیا‘ آپ کے اسم مبارک کا اجالا پھیلتا رہے گا‘ محسن انسانیت کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے خود اپنے چہروں پر ہی کالک مل رہے ہیں اور اپنے لئے جہنم کا سامان کر رہے ہیں لاکھوں درود و سلام نبی آخر الزمان پر جن سے محبت و عقیدت کے بغیر کسی کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا اس گستاخ ملک کا ناطقہ بند کرنے کے لئےچند تجاویز پرعمل کرنا پڑے گا اور ان شاء اللہ یہ ملعون دنیا میں تنہا، ذلیل اور رسوا ہو گا 1) سرکاری سطح پر تمام مسلمان ملکوں کی ایک تنظیم بنائی جائے جس کا مقصد حضرت محمد کریمﷺ کی حُرمت کا تحفظ ہو ۔ 2) اس کا نام ;3939;حرمتِ رسول کونسل‘‘ رکھا جائے ۔ 3) اس کا ہیڈ کوارٹر مدینہ منورہ میں ہو ۔ 4) اس کے چیئر مین خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ہوں ۔ 5) اس کے سرپرست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہوں ۔ 6) اس کونسل کے صدر ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردوان ہوں ۔ 7) پاکستان کے صدر محترم ڈاکٹر عارف علوی صاحب اس کونسل کے سیکرٹری جنرل ہوں ۔ 8) تمام مسلمان ممالک اس کونسل کے ممبران ہوں ۔ 9) کونسل کے چار عہدہ داروں کا اجلاس ہر ہفتے لازمی ہو ۔ ضرورت کے مطابق دو تین بار بھی ہو سکتا ہے ۔ محترم ڈاکٹر علوی صاحب اس کو مینج کریں ۔ 10) پہلا اجلاس فوری ہو اور وہ مدینہ منورہ میں ہو جہاں چاروں عہدیدار موجود ہوں ۔ اللہ کے رسولﷺ کے مبارک نام کی حرمت کے لیے یہ اجتماع عالم اسلام کے لیے انتہائی مبارک ہو گا ۔ عالمی امن اور انسانی بھلائی کے لیے یہ اجتماع ساری انسانیت کے لیے مبارک ہو گا;245; یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک صد میکرون مسلمانانِ عالم سے بذریعہ ٹیلی وژن، اخبارات اور خطوط سرعام معافی نہ مانگےاور گستاخانہ خاکے بنانے والوں اور ان کو شاءع کرنےوالوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی نہ کرے ۔ امریکہ،برطانیہ اور تمام یورپی ممالک کو فرانس کے خلاف اقدامات کرنے چاہئیں کہ فرانسیسی صدر کے بیانات سے جس آگ کے پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ اس سے کوئی بھی ملک شاید ہی لاتعلق اور محفوظ رہ سکے ۔ او آئی سی کو بھی ہنگامی اجلاس طلب کر کے ایسی گستاخانہ حرکتوں کے خلاف سخت اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ آئندہ کوئی بد بخت ایسی جرات نہ کر سکے اور نہ کوئی ایسی ناپاک جسارت کرنیوالوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی کر سکے ۔ جس طرح جنگلی درندے بھی صرف کسی ایک کا شکار کرتے ہیں اور سب مل کر اس کو گھیر لیتے ہیں بالکل اسی طرز پر تمام مسلمان مل کر صرف اور صرف فرانس کو ٹارگٹ کریں اور اسے نشان عبرت بنا دیں تاکہ دوسروں کو بھی سبق ہو اور آئندہ کوئی ایسی نازیبا حرکت نہ کر سکے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بانیانِ پاکستان اقبال و قائد نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ خطے کے حصول کی جدوجہد اس خطے کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کیلئے کی تھی اور دو قومی نظریے کے تحت تشکیل پانے والے اس ملک خداداد کو محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان پر قران مجید کی شکل میں نازل کئے گئے احکام خداوندی کی روشنی میں ایک مثالی اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری معاشرہ کے قالب میں ڈھالنا ہی مقصود تھا ۔