- الإعلانات -

اداروں کے حوالے سے سیاستدان ذمہ داری کامظاہرہ کریں

وطن عزیز اورادارو ں کے بارے میں ہمیشہ انتہائی سوچ سمجھ کرگفتگوکرنی چاہیے لیکن گزشتہ پندرہ بیس دنوں سے یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ ایک ایسے ادارے کے بارے میں اپوزیشن کی جانب سے گفتگو کی جارہی ہے جو اس ملک کی بقاء اورامن کاضامن ہے اپوزیشن کے ان بیانات سے دشمن کس طرح خوش ہورہے ہیں اس امرکو دیکھناہوگا کہ سابق سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے ابھی نندن کے حوالے سے جو گفتگوکی ہے وہ انتہائی خطرناک اوربے بنیادتھی اسی وجہ سے وزیراطلاعات شبلی فرازنے کہہ دیاہے کہ بات اب معافی سے آگے نکل چکی ہے قانون کے مطابق ایازصادق اوران کے حواریوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ان سیاستدانوں کو شاید یہ علم نہیں کہ پاکستان کتنی قربانیوں کے بعدمعرض وجود میں آیا اب جب ہم آزادی کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں ایسے میں دشمن کی جھولی میں جاکرکھیلنا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا اسی بیان کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیاہے کہ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جس کے افسروں اور جوانوں نے مورچوں میں ساتھ جنگ لڑی ہے ۔ یہ جنگ سے کندن بن کر نکلی ہوئی فوج ہے جس کی صفوں میں رخنہ نہیں ڈالا جا سکتا ۔ مسلح افواج کی قیادت اور رینک اینڈ فائل کو نہ تو جدا کیا جا سکتا ہے نہ ہی ان میں کوئی فرق ڈالا جا سکتا ہے ۔ مسلح افواج کی قیادت اور رینک اینڈ فائل ایک ہی اکائی ہے اور رہے گی ۔ بھارتی جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن سے متعلق دیئے گئے متنازع بیان میں تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے بعض سیاسی قائدین کے بیانات کے جواب میں کہا کہ فوج کی صفوں میں رخنہ نہیں ڈالا جا سکتا ۔ پلوامہ واقعہ کے بعد 26فروری2019 کو ہندوستان نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کی جس میں اسے منہ کی کھانا پڑی اور پوری دنیا میں ہزیمت اٹھانا پڑی ۔ افواج پاکستان کے چوکنا اور بروقت رسپانس نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا ۔ دشمن کے جہاز جو بارود پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے ہمارے شاہینوں کو دیکھتے ہی بد حواسی میں خالی پہاڑوں پر پھینک کر بھاگ گئے ۔ اس کے جوا ب میں افواج پاکستان نے قوم کے عزم و حمیت کے عین مطابق دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے میں پاکستان کی تمام سول ملٹری قیادت یکجا تھی ۔ پاکستان نے اعلانیہ ہندوستان کو دن کی روشنی میں منہ توڑ جواب دیا ۔ ہم نے نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دشمن کے دو جنگی جہاز بھی مار گرائے ۔ ونگ کمانڈر ابھی انندن کو گرفتار کر لیا ۔ دشمن اتنا خوفزدہ ہوا کہ بد حواسی میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا ۔ اللہ کی نصرت سے ہ میں ہندوستان کے خلاف واضح فتح نصیب ہوئی ۔ اس کامیابی سے نہ صرف ہندوستان کی کھوکھلی قوت کی قلعی دنیا کے سامنے کھلی بلکہ پوری پاکستان قوم کا سر فخر سے بلند ہوا اور مسلح افواج سرخرو ہوئیں ۔ پاکستان کی فتح کو نہ صرف کو دنیا میں تسلیم کیا گیا بلکہ خود ہندوستان کی قیادت نے اس شکست کا جواز رافیل جہازوں کی عدم دستیابی پر ڈال دیا ۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقع دیتے ہوئے بھارتی جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پاکستان کے اس ذمہ دارانہ فیصلے کو جو کہ جنیوا کنونشن کے تحت تھا، پوری دنیا نے سراہا ۔ ان حالات میں جب دشمن قوتیں پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر چکی ہیں ۔ ہم سب کو ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا ۔ افواج پاکستان خطے کی سکیورٹی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے اور اندرونی و بیرونی خطرات سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے پوری طرح تیار ہیں ۔ قوم کی مدد سے پاکستان کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے اور کسی بھی جارحیت کا انشا اللہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ملکی دفاع کیلئے جانوں کی قربانی دینے والے پاک فوج، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں کیخلاف پوری قوم متحد ہے ۔ ادھرترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کی رہائی میں کسی دباءو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن اور جذبہ خیر سگالی کے تحت ابھی نندن کو رہا کیا تھا ۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے ۔ تاہم پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے کسی قسم کی مہم جوئی کو موثر اور بروقت جواب دینے کےلئے پوری طرح تیار ہے ۔ بھارتی طیاروں کو گرانے کے بارے میں پاکستان کا ردعمل، ملک کے خلاف کسی بھی بیرونی خطرے کے خلاف ملکی مسلح افواج کی تیاریوں کی سطح کا مظہر ہے ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے تیسری بار قونصلر رسائی کے لئے پیش کش کی تھی ، تاہم بھارت کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں ;200;یا ۔ کسی بھارتی وکیل کو اجازت دینے کیلئے پاکستان اپنے عدالتی قوانین میں ترمیم نہیں کرے گا ۔

حرمت رسولﷺ پرکوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی

یورپ اورامریکہ میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے بات کرنا انتہائی جرم سمجھاجاتاہے جوکہ ناقابل معافی ہے لیکن وہ لوگ دوسرے مذاہب اورخصوصی طورپراسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے گریزنہیں کرتے انہیں شاید اس بات کاعلم نہیں کہ آقادوجہان سرکاردوعالمﷺ سے امت امسلمہ کاکتناگہرالگاءو ہے کہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پریاناموس پرذرا سی بھی آنچ آئے تومسلمان اس پرکٹ مرتے ہیں لہٰذامغرب کویہ دوہرامعیارترک کرناہوگا ۔ فرانس کے اقدام کی وجہ سے پوری امت مسلمہ شدیداضطراب کاشکارہے پوری دنیابھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں ۔ عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پرپاکستان سمیت دنیابھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ پاکستان نے ریاستی سطح پرفرانسیسی صدرکے بیان کی مذمت کی ۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہاکہ وہ اس سلسلے میں لیڈلے گا اورپوری دنیا کے سربراہوں سے رابط کئے جائیں گے ۔ نیزپاکستان بھر سمیت دنیا کے مختلف میں ممالک خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کا یوم ولادت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔ رحمت اللعالمین ﷺ کی ولادت کے دن کی خوشی میں ملک کا قریہ قریہ، گلی گلی اور شہر شہر سبز پرچموں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا ۔ عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام ;200;باد میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں لاہور، پشاور، کراچی اور کوءٹہ میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا ۔ نماز فجر کے بعد مساجد میں امت مسلمہ میں باہمی اتحاد و اتفاق اور ملک کی خوشحالی و ترقی کےلئے خصوصی دعائیں کی گئیں اور ملک بھر میں جلسے، جلوسوں اور محافل میلاد کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ مختلف عرب ممالک میں بھی عید میلادالنبیﷺ روایتی انداز میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی ۔ بلاشبہ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا تھا کہ ہمارا دستور خدا وند کریم کی نازل کردہ الہامی کتاب قرآن مجید کی شکل میں پہلے سے موجود ہے جو مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اسی بنیاد پر پاکستان کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار پایا ختم نبوت;248; پر ایمان شریعت کا بنیادی تقاضا ہے ۔ ہ میں بہرصورت اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا ہے اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آنے دینا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ خدا ہ میں اپنے دینِ کامل پر کاربند رہنے اور اپنے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و تقدس پر کوئی ہلکی سی بھی آنچ نہ آنے دینے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے رکھے ۔ آج مسلم امہ کے اتحاد کا عملی مظاہرہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے کیا جا سکتا ہے جس کی ترک صدر نے پہلے ہی بنیاد رکھ دی ہے اس لئے مسلم دنیا کا آج ایک ہی ماٹو ہونا چاہیے ۔ ’’فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ‘‘اس کے ساتھ ساتھ اپنا نظامِ زندگی درہم برہم کرنے کے بجائے بین الاقوامی اداروں ، تنظیموں اور حکومتوں پر اثرانداز ہونے اور اِنہیں اِس بات پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ اِس طرح کی اشتعال انگیز حرکات کی مستقل روک تھام کےلئے قانون سازی کریں اور مذہبی پیشواءوں کے احترام کی فضا پروان چڑھائیں ۔ اِس وقت او آئی سی کو ایک زبردست قائدانہ کردار اَدا کرنا ہو گا ۔ یہ رحمتوں کا مہینہ ہے ۔ ہ میں اِس میں اپنے دلوں کو محبوبِ خدا حضرت محمد ﷺ کی محبت سے منور کرنے کے ساتھ ساتھ خارجی اور دَاخلی محاذوں پر معاملات کی درستی کیلئے جراَت و فراست کے ساتھ قدم آگے بڑھانا ہو گا ۔