- الإعلانات -

گلگت بلتستان

پاکستان کے تمام ٹیلی ویژن اپنے اپنے تجربات میں بار بار بیان کر رہے ہیں کہ کمشنر اورگلگت میں الیکشن حکومت ہی جیتی ;200; رہی ہے ۔ یعنی وفاقی حکومت نے ہمیشہ گلگت اورکشمیر میں حکومت بنائی ہے، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی بیگم مریم نواز صاحبہ گلگت بلتستان میں انتخابی مہم بڑے زور شور سے چلائے ہوئے ہیں ۔ روزانہ دونوں لیڈر مختلف حلقوں میں خطاب کرتے نظر ;200;رہے ہیں ،چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اپنے انتخابی جلسوں میں حکومت وقت پر کڑی تنقید کرتے ہوئےخاصے متحرک نظر ;200;رہے ہیں ۔ وہ مہنگائی کو ایشو بنا کر موجودہ حکمران جماعت پرسخت تنقید کر رہے ہیں ۔ انہوں نے تنخواہوں کا بھی ایشو اٹھایا ہے بیروزگاری اور کرپشنپر بھی بات کی ہے ۔ وفاقی حکومت کی انتخابات میں مداخلت کو بھی انھوں نے زیر بحثلایا ہے گلگت بلتستان سکردو خپلو نگر ہنزہ کے دوروں کے دوران اپنے باپ ;200;صفزرداری اور دادا کے کار ناموں کا بھی ذکر کیا اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھی کہیں نہ کہیں ذکر کیا،بلاول نے عمران خان وزیراعظم پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کے عبوری وزیر اعظم گلگت کو کیا صوبہ بنائیں گے ۔ صوبہ تو میرے والد ;200;صف علیزرداری نے اعلان کیا تھا ۔ یہ ضرور ہے کہ گلگت بلتستان میں اہل تشیع اچھی خاصی تعداد میں ہیں ۔ اور یہ فرقہ پیپلز پارٹی کی کھلی حمایت کرتا ہے ۔ اس لیے بلاول کو گلگت بلتستان میں خاصی پذیرائی مل رہی ہے ۔ حالانکہ بلاول اپنے ساتھ چوہدری بیرسٹر اعتزاز احسنکو ساتھ لے کر گلگت بلتستان کا دورہ کرتے ان سے تقاریر کراتے اور خود صرف عوام کاشکریہ ادا کرتے تو نتاءج بہتر نکل سکتے تھے،لیکن جس جلسے میں چودھری اعتزازاحسن بات کریں گے پھر ان کی تقریر کے بعد بلاول کی تقریر بونگی اور بھولے کی باتیں ہوں گی ۔ چوہدری اعتزاز احسن کے بعد بلاول کو کون سنتا ۔ بلاول کی تقریر مذاق قرارپاتی ۔ بلاول کو گلگت بلتستان دورہ پر بھی خالصتا صرف اور صرف اس لیئے کرایا جارہاہے کہ بلاول جلسوں میں گفتگو اور تقاریر کرے! عوام کو بیوقوف بنائے عوام میں گھل ملجائے ۔ لوگوں کی مشکلات اور مسائل سے ;200;گاہ ہو،کیوں کہ بلاول کے بڑوں اور محترمہبیگم صفدر اعوان صاحبہ کے بڑے اس حقیقت سے ;200;گاہ ہیں ! کے گلگت بلتستان کے الیکشن میں ہمیشہ حکمران یعنی وفاقی حکومت بھی کامیاب ہوتی ہے ۔ اس لیے موجودہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی ملنی یقینی ہے اور دونوں اپوزیشن جماعتوں کو سے دوچار ہونا ہے،اس شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے محترمہ مریم نواز صاحبہ بلاول بھٹو زرداری دھاندلی دھاندلی کا شور اور پراپیگنڈہ کر کے اپنی ساکھ بچانے کاروائی کرنے میں مصروف ہیں ۔ بقول بلاول اور مریم صفدر صاحبہ عمران خان کا بلتستان کو صوبہ بنانے والا اعلان جھوٹا اور فرضی ہے ۔ یہ عوام کے ساتھ دھوکہ و ہے ۔ ;200;ج وفاقی حکومت کے وزرا ہ میں دیکھ کر گلگت بلتستان کے دوروں پر ;200;گئے ہیں ۔ یقیناگلگت بلتستان میں جلسوں اور دوروں کی ابتدا مریم اور بلاول نے کی ہے ۔ عوامی انہی لیڈروں نے شروع کیے اور ان کو دیکھ کر حکومتی وزرا بھی گلگت بلتستان جلسے جلوس نکالنے پر مجبور ہوئے ہیں ،حکومتی وزرا نے عوامی مسائل کے حل کیلئے اعلانات کرنا شروع کر دیے ہیں ،وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جلسہ گلگت کو الگ صوبہ کی شناخت دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ بعض وزرا نے پارکوں اور ہوٹلوں کی چین بنانے کا اعلان کر کے علاقے سے بے روزگاری کے کی بھی نوید سنائی ہے ۔ اگر دکھایا جائے کہ گزشتہ نصف صدی میں اپوزیشن نے ہی بلتستان پر حکومت کی ہے ۔ کبھی نواز شریف حکمران رہا ہے تو کبھی بے نظیر بھٹو کبھی ;200;صف علی زرداری کا سکہ چلتا تھا ۔ ;200;ج اگر گلگت بلتستان بیروزگاری بجلی سکولوں اور ہسپتالوں جیسے مسائل کا شکار ہے ۔ تواس کے ذمہ دار موجودہ عمران خان نہیں بلکہ حکمرانی کے مزے لوٹ کر ملک سے فرار ہونے والے ہیں ۔ ابقہ حکمرانوں نے گلگت بلتستان کی خدمت کی ہوتی تو ;200;ج گلگت بلتستان کی عوام ان راہوں میں ;200;نکھیں بچھا کر استقبال کر رہی ہوتی ۔ یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت دور میں ;200;ٹے چینی کا بحران اور مہنگائی کی شرح بڑھی ہے مگر یہ بھی درست ہے ملک میں کرپشن اقربا پربری اور لوٹ مار کا رواج عام ہونے کی وجہ سے ملک کا درہم برہم ہوچکا ہے،کلرک سے لے کر سیکٹری تک سپاہی سے لے کر (ائی جی تک کونسلر سے لے کر سینیٹر تک اور غریب سے لے کر امیر تک ہر شہری کرپٹ چکا ہے اور اس ساری خرابی کرپشن اور لوٹ مار کے ذمہ دار پرانے افسر اور اور عوام ہیں ۔ گلگت کے الیکشن کے نتاءج کسی کے بھی حق میں ;200;ئیں جب تک جھوٹ اور فراڈ کرپشن لوٹ مار سے باز نہیں ;200;تے چور چور کے نعرے لگتے رہیں گے ۔