- الإعلانات -

بھارت پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھوانے کےلئے سرگرم

23 اکتوبر کو زوم پر ہونے والی ورچوئل پریس بریفنگ میں ادارے کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے پاکستان سے متعلق کہا کہ 27 میں سے بچ جانے والی چھ سفارشات ’بہت سنگین طرز‘ کی ہیں اور پاکستان کو ان رہ جانے والی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے فروری 2021 تک کا وقت دیا گیا ہے ۔ پاکستان ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا ۔ پاکستان دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق ہائی رسک والے ممالک میں شامل ہے تاہم اسے بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اسے کارکردگی کا موقع نہ دینا غیرمنصفانہ ہوگا ۔ ادارے نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے اب تک سفارشات کی تکمیل کے لیے پیشرفت کی گئی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی چھ رہ جانے والی سفارشات میں سے ایک پاکستان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف قائم مقدمات میں سزاؤں پر پیشرفت سے متعلق ہے ۔ اگرماضی قریب کے حالات پر تھوڑی سی نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کےلئے بہت سے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ اسی سلسلے میں اپریل 2019 میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ سے منسلک تنظیموں اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا اور سزائیں بھی سنائی گئیں جبکہ جولائی 2019 میں نہ صرف جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا بلکہ گرفتاری کے فوری بعد ان پر فردِ جرم بھی عائد کر دی گئی ۔ یہ مسئلہ بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف ملک کے اندر مختلف اپریشنز میں ہماری سکیورٹی فورسز کے ارکان بھی دہشت گردوں کے ہدف پر ہوتے ہیں اور عام شہریوں کے علاوہ ہماری سیاسی اور دینی شخصیات بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں جبکہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرقیادت ہماری عسکری فورس نے آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی ٹھان رکھا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کی ممکنہ فنڈنگ روکنے کے بھی سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور متعلقہ تنظیموں کے اکاءونٹس منجمد اور اثاثے ضبط کئے جا چکے ہیں مگر پاکستان کی نیت پر پھر بھی شبہ ہے ۔ اگر دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے سدباب کیلئے پاکستان کی پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے مسودات قانون کی منظوری سے بھی ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے عملی کردار کا یقین نہیں آیا تو پھر ملکی سلامتی کے تقاضوں اور امنگوں کے برعکس اٹھایا گیا کوئی اقدام بھی پاکستان مخالف بھارتی مذموم پراپیگنڈہ کے باعث ایف اے ٹی ایف کو مطمئن نہیں کر پائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف میں بطور ممبر ملک بھارتی موجودگی پاکستان کےلئے ایک درد سر ہے ۔ ہر محاذ پر بھارت نے پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ۔ شروع دن سے بھارت کی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں چلا جائے ۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس کے دوران پاکستان کے حکام کی طرف سے دہشتگردی میں ملوث گروہوں کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائی اور انھیں معاشی مدد فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ایف اے ٹی ایف میں بھارتی میڈیا پاکستان مخالف جھوٹے پراپیگنڈے کا آلہ کار بن چکا ہے تاہم اس محاذ پر بھی اسے منہ کی کھانی پڑ ی ۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پلانری کے دوران پاکستان کے اقدامات کی تعریف سے بھارت کے چھکے چھوٹ گئے ۔ بھارتی میڈیا کی کوشش تھی کہ پاکستان کو دباوَ میں لایا جائے لیکن فیٹف کے صدر نے اسے ناکام بنا دیا ۔ پاکستان کے ایکشن پلان پر عمل کی تعریف بھارت کے سوا تمام ممالک نے کی ۔ پلانری کے دوران بھارتی میڈیا نے پراپیگنڈا کیا کہ پاکستان کو آن ساءٹ وزٹ نہیں ملا ۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ آن ساءٹ وزٹ کےلئے سعودی عرب، ملائیشیا اور چین نے حمایت نہیں کی تھی ۔ تاہم ذراءع کے مطابق سعودی عرب اور ملائیشیا کو پلانری کے دوران وقت کی کمی کے باعث فلور ہی نہیں ملا، جب فلور نہیں ملا تو حمایت یا مخالفت کیسی;238;اب پاکستان کو فروری 2021 تک ان تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے جن پر تاحال کام نہیں ہو سکا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یقیناً اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے لیکن اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ رک نہیں سکتا ۔ پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ اس وقت تک نہیں ٹل سکتا جب تک وہ ان چھ اہم سفارشات پر عملدرآمد نہیں کر لیتا جن پر کام ہونا ابھی باقی ہے ۔ اگر پاکستان بقیہ سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کرتا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام سفارشات پر عمل ہو رہا ہے اور اگر ایسا پایا گیا تو پاکستان کے گرے لسٹ سے اخراج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے اس کےلئے بہت سے مثبت اقدامات بھی کئے ۔ جبکہ بھارتی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے کیونکہ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے ۔ بھارت کے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے جو عزائم تھے اس میں وہ ناکام ہو گا ۔ دنیا آج پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات پر قائل ہو چکی ہے ۔