- الإعلانات -

نو منتخب امریکی صدر مثبت تبدیلی کے خواہاں

صدر ٹرمپ حالیہ امریکی انتخابات کے نتاءج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر رہا ہے بلکہ انتخابی نتاءج کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھی سرگرم ہوچکا ہے چونکہ اس قسم کی حرکتیں برصغیر پاک وہند (زیادہ ترپاکستان کے سیاستدان کرتے آئے ہیں اور ماضی میں ان کا یہی وتیرہ رہا ہے اس لئے ظاہر ہے یہ سبق ڈونلڈ ٹرمپ نے ہماری سیاسی روایات سے ہی سیکھا ہوگا ۔ البتہ ہمارے ہاں نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ بعض اداروں پر الزامات دھرنے کی روایت رہی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اس ضمن میں اتنی رعایت ضرور کی ہے کہ صرف الیکشن کمیشن ہی کو رگڑنے کی کوشش کی ہے، تاہم امریکی الیکشن کمیشن کے حکام نے ٹرمپ کی جانب سے دھاندلی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹوں کی تبدیلی ڈیلیٹ ہونے یا کھو جانے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور2020ء کے امریکی انتخابات کو ملکی تاریخ کے سب سے محفوظ ترین انتخابات قرار دیا ہے ۔ یاد رہے کہ صدرٹرمپ نے الزام عاید کیا تھا کہ انتخابی سامان مہیا کرنے والی ایک کمپنی نے ان کے دو اعشاریہ سات ملین ووٹ ڈیلیٹ کر دیئے اور پنسلوانیا سمیت کئی ریاستوں کے سینکڑوں ووٹوں کو بائیڈن کے حق میں منتقل کردیا گیا ۔ تاہم امریکی الیکشن حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر قانونی طور پر ووٹوں کی گنتی ہو تو وہ آسانی سے جیت جائیں گے جبکہ صدر ٹرمپ کے ان دعوءوں کو گزشتہ روز ریاست جارجیا کے نتاءج نے بھی ہوا میں تحلیل کرتے ہوئے زک پہنچائی جہاں سے موصول ہونے والے نتاءج بھی بائیڈن کے حق میں آئے ہیں اور ان کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے صدر ٹرمپ کو ان کے داماد بھی بعض اطلاعات کے مطابق یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ صدارتی انتخابات کے نتاءج کے سامنے سرتسلیم خم کرلیں اور مزید کوئی پھڈے بازی میں نہ پڑیں لیکن اس کے بعض مشیر اس کی مٹی پلید کروانے کے چکر میں ہیں اور صدارتی انتخابات کو عدالتی جنگ میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں ، لیکن یہ ایک خطرناک راستہ ہی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ابھی پہلا جھٹکا تو صدر ٹرمپ کو یہ لگا ہے کہ صدارتی منصب سے اُترتے ہوئے ان کی اہلیہ کی اس سے علیحدگی اختیار کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور امریکی قوانین میں یہ اتنی آسان یا سادہ سی بات نہیں ہے دوسری طرف نومنتخب صدر جوبائیڈن نے زور دیا ہے کہ قیادت کو منتقل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے غیرمصدقہ دعویٰ کیا کہ اختتام میں وہ جیت جائیں گے جبکہ ڈیموکریٹ اُمیدوار جوبائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شکست تسلیم نہ کرنے کو باعث شرمندگی قرار دیا ۔ اس ساری صورتحال کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جیسے لوگ امریکی معاشرے میں آگ لگانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں یہ کہہ کر کہ20جنوری کو پرامن طریقے سے اقتدار منتقل ہوگا لیکن جوبائیڈن کو نہیں بلکہ صدر ٹرمپ دوبارہ اقتدار سنبھالیں گے پوری دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے ۔ اس ضمن میں ستر ہزار سے زائد سویلین اور فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ لیکن امر یکا کے سابق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ پاکستان کی تمام تر قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکا کا بھارت کی طرف جھکاءو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلوں کا سبب بنا تھا ۔ اور پھر پا کستان ہی نہیں ، دنیا کے بیشتر مما لک ٹر مپ کی یکطر فہ پا لیسیوں سے تنگ آ چکے تھے ۔ چنا نچہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدارتی انتخابات پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی تھیں ۔ کیونکہ آنے والا عالمی سیاسی منظرنامہ اور اس میں تبدیلیوں کا انحصار امریکی صدر کی پالیسیوں سے جڑا ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نو منتخب امریکی صدر مسٹر جو با ئیڈن کو بلاشبہ دنیا کا طاقتور ترین انسان بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا اس وقت مسائلستان بنی ہوئی ہے، سب سے اہم ترین مسئلہ قیام امن ہے ۔ متعدد ممالک کے درمیان جاری جنگوں کا خاتمہ ہے ۔ لامحالہ کسی نہ کسی طور پر ان میں امریکا کہیں درپردہ یا پھر واضح طور پر شریک ہے ۔ انسانیت سسک رہی ہے، پہلے امن قائم ہوگا تو پھر دیگر مسائل حل ہوں گے ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ امریکی پالیسیاں دنیا میں امن کی بحالی کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہیں ۔ تنازعات حل ہوتے ہیں تو یقینا امن کی بحالی کی طرف یہ پہلا قدم ہوگا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے سے پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات بہتر ہوں گے ۔ پاکستان امریکا کا اتحادی اور دوست ملک ہے ۔ اپنے پہلے خطاب میں جو بائیڈن نے ایک ایسا لیڈر بننے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو عالمی وبا، معاشی اور معاشرتی انتشار کی لپیٹ میں آئی ہوئی قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا چاہتا ہے ۔ اس خطاب کے دوان ان کے ہمراہ کمالہ ہیرس بھی موجود تھیں جو امریکہ کی پہلی خاتون او رسیاہ فام نائب صدر منتخب ہوئی ہیں ۔ جوبائیڈن نے اس موقع پر مزید کہا کہ وہ بہت شکرگزار ہیں کہ ان پر بھروسہ اور اعتماد کیا گیا جس کی مدد سے وہ امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ میں 7 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدر بن گئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس عہدے کےلئے اس لیے مقابلہ کیا تاکہ میں امریکہ کی روح کو دوبارہ بحال کرسکوں ، تاکہ اس ملک کو دوبارہ تعمیر کرسکوں ۔ اس کے متوسط طبقے اور پورے امریکہ کے وقار کو دنیا بھر میں بحال کرسکوں اور اپنے ملک میں ہم سب کو یکجا کر سکو ں ۔ جوبائیڈن کے خیالات سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مدد ملی کہ وہ امریکا کا تشخص بحال کرنا چاہتے ہیں ۔ دنیا بھر کے ملکوں میں مداخلت سے جس رد عمل نے جنم لیا ہے وہ بھی انتہائی خطرناک ہے ۔ نومنتخب امریکی صدر کے خیالات صائب ہیں ، وہ دنیا کے نظام میں ایک مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔ ان کی جیت سے امید کے چراغ یقینا روشن ہوئے ہیں ۔ ہم اس حقیقت سے بھی سرموانحراف نہیں کرسکتے کہ سابق صدر ٹرمپ کی نسبت جوبائیڈن پاکستان کو بخوبی جانتے ہیں اور پاکستان کے کئی دورے کرچکے ہیں ۔ گزشتہ تین عشروں کے دوران ان کے پاکستانی اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست رابطے رہے ہیں ۔ 2008ء میں انہوں ریپبلکن قیادت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کا غیر عسکری امدادی پیکیج تیار کیا جس کا نام ’’بائیڈن لوگر بل‘‘ تھا ۔ تاہم ان کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اس بل کا نام وزیرخارجہ جان کیری سے منسوب ہوا اور 2009ء میں صدر اوباما نے کیری لوگر بل کی منظوری دی ۔ 2008ء میں پاکستان نے جوبائیڈن کو دوسرے بڑے سویلین اعزاز ;39;ہلال پاکستان ;39;سے نوازا تھا ۔ لوگر کو بھی ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا ۔ جوبائیڈن سمیت امریکی قیادت کی خواہش تھی کہ اس امداد کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کے تسلسل، آزاد عدلیہ اور دہشت گرد تنظیموں کیخلاف ایکشن کی ترغیب دی جائے ۔ جوبائیڈن نے کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی اور کشمیری مسلمانوں کی حالت زار کو بنگلہ دیش میں روہنگیا اور چین میں ایغور مسلمانوں جیسا قرار د یا ۔ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے دس ماہ بعد جوبائیڈن نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حقوق بحال کرے ۔