- الإعلانات -

گرے لسٹ سے نکلنے کےلئے قابل ستائش اقدامات

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کیخلاف کام کرنےوالے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے فروری 2021 تک 27 نکاتی ایکشن پلان کے چھ بقیہ نکات پر عمل درآمد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ساتھ ہی پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 2018 کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے معاملے پر خاصی پیش رفت کی ہے اور اب تک اکیس نکات پر عمل درآمد کردیا تاہم پاکستان کی تمام ڈیڈ لائنز ختم ہو چکی ہیں اسے بقیہ چھ نکات پر آئندہ سال فروری تک عمل درآمد کرنا ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان چھ نکات پر عمل درآمد کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آئے گا جس سے ملک کی بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی ۔ باقی رہ جانےوالے چھ نکات میں ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنےوالے ادارے دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑی سطح پر چھان بین کریں اور اس کی تفتیش یقینی بنائیں ۔ اس حوالے سے خاص طور پر اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گردی گردی کی فہرست میں شامل کئے گئے افراد کی تفتیش کریں اور ان کیخلاف مقدمے چلائے جائیں ۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کے خلاف بھی مقدمے چلائے جائیں کو فہرست میں میں نامزد افراد کے ماتحت انہیں کاروائیوں میں ملوث ہوں ۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے مقدمہ بازی کے نتیجے میں موثر اور کارآمد پابندیاں لگائی جائیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایسے اقدامات کر کے دکھانے ہیں کہ مالی پابندیاں موثر طور پر ایسے افراد پر لگیں جو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1267 اور 1373 کے تحت دہشت گرد قرار پائے ہیں اسی طرح ایسے افراد جو انکے ماتحت ایسی کارروائیوں میں ملوث ہوں ان پر بھی سخت مالی پابندیاں لگائی جائیں ۔ ایسے افراد کے اوپر پابندی ہو کہ نہ وہ فنڈز اکھٹے کر سکیں نہ ٹرانسفر کر سکیں اور نہ ہی وہ کوئی بینک سروس استعمال کر سکیں ۔ اسی طرح ان کے تمام اثاثے بھی ضبط کیے جائیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کرنےوالے اداروں جیسے بینکس وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں ۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کےلئے جن شرائط پر عمل کرنا ہے ان میں سے ایک سیونگ اکانٹس کا خاتمہ بھی ہے ۔ لہٰذا حکومت نے ایف اے ٹی ایف کا ایک اور مطالبہ پورا کرتے ہوئے پاکستان پوسٹ میں نئے سیونگ اکانٹس کھولنے پر16 نومبر سے پابندی لگا دی ہے ۔ تاہم پرانے اکاونٹس چلتے رہیں گے ۔ اس کے علاوہ نئے سیونگ سرٹیفیکیٹس کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی گئی ۔ دونوں پابندیوں کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔ ملک بھر کے جی پی اوز اور ڈاک خانوں کی اسٹیٹ بینک سے آن لائن کمپیوٹرائزیشن بھی شروع کر دی گئی ہے، اس اقدام کا مقصد ملک بھر کے ڈاک خانوں سے ترسیل زر کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا رکھنا ہے ۔ سیونگ اکانٹس سے متعلق پابندی بھی سیونگ اکاونٹس کی مکمل کمپیوٹرائزیشن تک برقرار رہے گی ۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کےلئے پاکستان نے 21 نکات پر عمل کرلیا ہے جو قابل ستائش ہے ۔ خاص طورپر پاکستان نے غیرقانونی طور پر رقم کی منتقلی کو روکنے کےلئے موثر اقدامات کیے ہیں ۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے کرنسی کی آمدورفت پر کنڑول بہتر کیا گیا ہے ۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بین الاقوامی تعاون بہتر بنایا گیا ہے ۔ انسداد دہشت گردی کے قانون میں مطلوبہ ترمیم کی گئی ہے ۔ مالیاتی ادارواں کی طرف سے ٹارگٹڈ پابندیاں لگائی گئی ہیں ۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالء معاونت کے قانون کی خلاف ورزی پر سزائیں دی گئی ہیں اسی طرح اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل افراد کی جانب سے چلائے جانےوالے اداروں پر حکومتی کنڑول حاصل کر لیا گیا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان سے تو دہشت گردی کے خلاف تمام اقدامات پورے کروارہا ہے مگراسے سرکاری سرپرستی میں ہونیوالی بھارتی دہشت گردی کا بھی جائزہ لینا چاہیے ۔ پاکستان اپنے مخلص دوستوں کا شکر گزار ہے کہ وہ بھارت کی ’’دکھتی رگ‘‘ کو بخوبی پہچانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کا کسی دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں درحقیقت سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے ۔ بھارت اور اسکے حواری ہمیشہ کی طرح عالمی اداروں میں پاکستان کو زچ اور رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینگے ۔ پاکستان کے گرے لسٹ سے باہر آنے پر صرف بھارت معترض ہے ۔ اسی مخالفت کے پیش نظر چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ریاستوں کوایف اے ٹی ایف کے فورم کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کےلئے سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے ۔ یہاں کچھ ممالک پاکستان کو بلیک لسٹ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے کچھ سیاسی مفادات ہیں ، ہم ان کے خلاف ہیں ۔ چین کی لابنگ اور نجی کنسلٹنٹ کی مدد سے 75 فیصد امکان ہے کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے ۔ اسی سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس طرح پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا، اصولی طور پر پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر آنا چاہیے ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سامنے ہم نے اپنے اقدامات رکھے ۔ سب نے ہماری تعریف کی لیکن بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر آئے ۔