- الإعلانات -

شفاف انتخابات کی جانب حکومت کاکلیدی قدم

پاکستان تحریک انصا ف کی حکومت شفاف انتخابات کے حوالے سے تاریخی اقدام اٹھانے جارہی ہے لامحالہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سترسالوں میں اتنی حکومتیں آئیں مگر کسی نے انتخابات کی شفافیت کی جانب اس طرح قدم نہیں اٹھایاجس طرح پی ٹی آئی کی حکومت کام کرنے جارہی ہے ،الیکٹرانک ووٹنگ اورسینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈوہ اقدام ہیں جن سے کم ازکم ہارنے والا اپنی شکست تسلیم کرے گا اب دیکھنایہ ہے کہ اپوزیشن اس سلسلے میں حکومت سے کتنا تعاون کرتی ہے یہا ں یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ جو بھی اس انتخابی نظام کو تبدیل کرنے کے سلسلے میں تعاون نہیں کرتا تو پھراس کامطلب یہ کہ وہ دھاندلی شدہ انتخابات ہی چاہتاہے ، حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف ووٹ کی عزت بڑھے گی بلکہ جمہوریت کے استحکام کو بھی دوام ملے گا ۔ اس کے بعد کوئی چیزپوشیدہ نہیں رہے گی نہ ہارس ٹریڈنگ ہوگی نہ چھانگامانگاکی تاریخ دہرائی جائے گی،شکست خوردہ کو اپنی شکست بھی تسلیم کرناپڑے گی کیونکہ کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوگی ۔ یقینی طورپروزیراعظم کی جانب سے یہ اقدام انتہائی قابل تحسین ہے اسی جہ سے وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کا اعلان کیاہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور اب یہ دیگر جماعتوں پر منحصر ہے کہ وہ آئینی ترمیم کی حمایت کریں کیونکہ اس کےلئے ہ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے جو اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے ۔ انتخابی اصلاحات کیلئے ;200;ئینی ترمیم کیلئے دیگر جماعتیں تعاون کریں جو جماعتیں یہ کہتی ہیں کہ سینٹ میں پیسہ چلتا ہے وہ ہمارے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت سے انتخابی اصلاحات کا بل منظور کریں ۔ عموما ًحکمران جماعت کبھی ایسا نہیں کرتی کیونکہ اس کے پاس لوگوں کو خریدنے کے وسائل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی حکومت یہ ترمیم لے کر نہیں آئی لیکن ہم ترمیم لارہے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں صاف اور شفاف الیکشن ہوں ۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو ملک میں انتخابی اصلاحات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سینٹ انتخابات کےلئے ;39;شو آف ہینڈز;39; کی آئینی ترمیم لانے کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کےلئے الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کےلئے نیا انتخابی نظام لایا جائے گا ۔ ایک الیکشن 2013 میں ہوا تھا اور اس کے اختتام پر ساری سیاسی جماعتوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ۔ الیکشن جیتنے والی ن لیگ نے بھی کہا کہ سندھ میں دھاندلی ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کا الیکشن تھا اور سب جماعتوں نے الیکشن کو متنازع قرار دیا ۔ 2013 کے الیکشن میں 133 لوگوں نے کہا کہ الیکشن میں بے ضابطگیاں یا دھاندلی ہوئی اور ان میں سے تحریک انصاف نے کہا کہ 4 قومی اسمبلی کے حلقوں کو کھول دیں حالانکہ ان چار حلقوں سے حکومت تو نہیں بننے لگے تھی نہ ہی ہم اقتدار میں آنے لگے تھے، یہ ہم نے اس لئے کہا کہ ان چاروں حلقوں کے آڈٹ کے ذریعے پتہ چل جائے گا کہ خامیاں کہاں ہیں ۔ شفاف انتخابات کیلئے تحریک چلی لوگوں کی جانیں گئیں ۔ الیکشن میں کیا ہوا ہے اور جب یہ پتہ چل جائے گا تو 2018 کے انتخابات میں خامیاں دور کر کے اگلا الیکشن ٹھیک ہو سکے گا ۔ میں نے چار حلقے کھولنے کا اس لئے کہا تھا تاکہ 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو اور اس کےلئے ایک سال تک میں پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن میں گیا، ہم سپریم کورٹ میں گئے، جب ایک سال تک حکومت چار حلقے کھولنے کےلئے تیار نہ ہوئی تو ہم نے احتجاج شروع کیا اور 126دن اسلام آباد میں دھرنا دیا ۔ جب دھرنا ہوا تو ایک جوڈیشل کمیشن بیٹھا، اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج ناصر الملک نے کی ۔ کئی ہفتے معاملہ چلا، ہم نے ثبوت جمع کئے اور بے ضابطگیوں کے ثبوت سپریم کورٹ لے کر گئے جس پر جوڈیشل کمیشن نے کئی تجاویز دیں کہ ان چیزوں پر عمل کریں تاکہ اگلا الیکشن ٹھیک ہو ۔ صاف اور شفاف الیکشن کی مہم میں نے چلائی تھی ۔ ایسا انتخابی عمل چاہتے ہیں جسے ہارنے اور جیتنے والے قبول کریں ۔ 1970 کے الیکشن میں جو ہارے تھے انہوں نے اپنی شکست تسلیم کی تھی ۔ اس کے بعد پاکستان کے سارے الیکشنز میں جو ہارتا تھا وہ کہتا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ۔ الیکٹرانک ووٹنگ پر الیکشن کمیشن سے بات ہو رہی ہے اور نادرا کا ڈیٹا لے کر پاکستان میں بہترین الیکشن کرانے کا سسٹم آئے گا جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہو گا ۔ ہم اوورسیز پاکستانیوں کےلئے نظام لے کر آ رہے ہیں تاکہ وہ بھی ووٹ ڈال سکیں ۔ ہ میں پتہ ہے کہ پچھلے 30سال سے خصوصا چھوٹے صوبوں میں پیسہ چلتا ہے ۔ اراکین اسمبلی کو پیسہ دے کر ووٹ خریدا جاتا ہے اور وہ لوگ جو پارٹی میں بھی نہیں ہوتے وہ پیسے اور رشوت دے کر سینٹ میں آ جاتے ہیں ۔ تو ہم چاہتے ہیں کہ شو آف ہینڈز ہو تاکہ پتہ چلے کہ کونسی پارٹی کے لوگ کس کےلئے ووٹنگ کررہے ہیں اور سینٹ کے الیکشن میں کرپشن ختم ہو ۔ ہم نے 2018 کے سینٹ الیکشن کے بعد اپنے 20 اراکین اسمبلی کو پارٹی سے نکالا کیونکہ ہماری کمیٹی نے رپورٹ دی تھی کہ خیبر پی کے اسمبلی کے ان 20 اراکین اسمبلی نے پیسے لے کر ووٹ بیچے ہیں ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم کرونا ریلیف فنڈ کی نگرانی کیلئے قائم پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں فنڈ کے استعمال کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا ۔ یہ فنڈ کووڈ 19 متاثرین کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کیلئے مارچ 2020 کو قائم کیا گیا تھا کرونا ریلیف فنڈ میں ملک اور بیرون ملک نے مخیر حضرات کی جانب سے 4;46;8 ارب روپے عطیہ کئے گئے ہیں جن میں سے 1;46;08 ارب روپے بیرون ملک جبکہ 3;46;8 ارب روپے اندرون ملک سے عطیہ کئے گئے ۔ پاکستانی سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم ہے میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم تمام مخیر حضرات کی جانب سے دیئے گئے یہ فنڈ شفاف طریقہ سے استعمال کر رہے ہیں ۔

آرمی چیف کاکوءٹہ کادورہ

کسی بھی ملک کی ترقی اوراستحکام میں جمہوریت کا انتہائی کلیدی کردارہوتاہے جہاں پر جمہوریت اور جمہور کاخیال رکھاجائے ان کو حقوق دیئے جائیں تو وہ ملک ترقی کرتے ہیں دنیا میں بھی ان کی عزت ہوتی ہے اسی وجہ سے آرمی چیف نے کوءٹہ کے دورے کے موقع پر یہ انتہائی اہمیت کی حامل بات کہی ہے کہ پاکستان کا امن اور خوشحالی جمہوریت کیلئے لگن اور اس کی اقدار کے ساتھ منسلک ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف نے گزشتہ روز کوءٹہ کا دورہ کیا ۔ جہاں انہوں نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات کی اور خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کا مقصد قومی سلامتی کے اہم ایشوز، بروقت فیصلہ سازی کے عمل، نیشنل سکیورٹی مینجمنٹ سسٹم، اور قومی طاقت کے عناصر کے بارے میں شرکا ء کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانا ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی و استحکام پاکستان کی خوشحالی کیلئے بے حد اہم ہے ۔ آرمی سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی کیلئے اپنی کوششوں کو مربوط بنایا ہے ۔ سلامتی کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاک افغان اور پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کے عمل، صوبہ میں موجود سکیورٹی آپریٹس کو موثر طریقہ سے روبہ عمل لانے اور کوءٹہ سیف سٹی سمیت متعدد منصوبوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان منصوبوں کی بدولت صوبہ میں سلامتی کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمن قوتوں کو رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ میں دہشت گردی اور انتشار پھیلانے کے مذموم عزائم کامیاب بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ پاکستان کا امن اور خوشحالی جمہوریت کیلئے لگن اور اس کی اقدار کے ساتھ منسلک ہے ۔ آرمی چیف نے بعد ازاں سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا دورہ کیا ۔ انہیں سکول میں نئے تربیتی منصوبوں اور آن لائن امتحانی نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ انہیں تربیت کے شعبے میں نئی اختراعات پر مبنی نظام کے بارے میں بھی بتایا گیا ۔ اس موقع پر سکول کے اساتذہ اور طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہین جدید ترین جنگی طریقوں سے آگاہ رہنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے نوجوان افسروں اور جوانوں کی صلاحیتیں نکھارنے کیلئے ادارے کے اساتذہ اور عملہ کی سخت محنت کی تعریف کی ۔ کوءٹہ آمد پر سدرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف نے ان کا خیر مقدم کیا ۔