- الإعلانات -

اہل وطن اورکتنی قربانیاں چاہئیں

جماعت اسلامی کی قربانیوں پر بات کرنے سے پہلے جماعت اسلامی کے بانی اور امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی;231; کے ایک کتابچے، جماعت اسلامی کے ۹۲ سال میں اُن کی تحریر کردہ ایک سوچ کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ سید مودودی;231; اس کتابچے میں فرماتے ہیں ۔ میں ۲۲ سال بر عظیم اور دنیا کے حالات اور مسلمانوں کی پوزیشن کا مشاہدہ کرتا رہا ۔ برعظیم میں جاری خلافت موومنٹ میں مسلمانوں کی ترکی سے اسلام کے حوالے سے محبت دیکھی اور اس میں خود بھی شریک تھا ۔ مگر ترکوں نے عثمانی خلافت ختم کرکے سیکولرزم کی طرف پیش شروع کر دی ۔ مسلمان ترکی سے اسلام کی وجہ سے محبت کر رہے تھے ۔ ترک اسلام سے جان چھوڑا رہے تھے ۔ خود برعظیم میں مسلمان کو ہندو بنانے کی اسکی میں شروع ہوئیں ۔ مسلمان جو مشنری ہیں ،ان کوہند و بننے، یعنی گھر واپسی کی طرف مائل کیا جانے لگا ۔ مسلمانوں کو ہندوءوں کے بنیانیے ، قو میں اوطان سے بنتی ہیں کی طرف جانے کو بھی قریب سے مشاہدہ کیا ۔ عربوں کو پہلے ہی انگریزوں نے قومیت کے رنگ میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اسلامی دنیا میں ہر طرف مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔ ان حالات میں عام مسلمانوں میں اسلام کی اصل روح پیدا کرنے کی اشحد ضرورت تھی ۔ سید مودودی;231; نے دنیا میں حکومت الہیٰا کا پیغام دے کر ابتدا کی کہ مسلمان خود مشنری بنیں ۔ ایک ایسی حکومت تشکیل دیں جو مشنری ہو،جو اسلام کو دنیا میں پھیلائے ۔ سید مودودی;231; نے ا علان کیا کہ قرآن اور سنت کی دعوت لے کر اٹھو اور پوری دنیا پر چھا جاءو ۔ مسلمان قومیتوں کے سیلاب میں بہنے لگے ہیں ۔ سید ٰ مودودی;231; انہیں پھر سے اسلام کی طرف بلانے کے لیے خلافت و ملوکیت کتاب لکھی ۔ اس کتاب میں خلافت ملوکیت میں کیسے تبدیل ہوئی پر سیر حاصل بحث کی ۔ سید مودودی;231; نے اس میں ثابت کیا کہ دنیا میں پھر سے خلافت قائم کی جا سکتی ہے ۔ اسی میں انسانیت کی فلاح ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ قومیتں صرف پہچان کے لیے ہیں ۔ یہی بات سول ;248;اللہ نے خطبہ حجۃلوادع میں کہی ۔ آخرت میں تقویٰ کی بنیاد پر اچھے برے کو پرکھا جائے گا ۔ مسلمانوں کو پھر سے دنیا میں مدینہ کی اسلامی ریاست،اسلامی نظام حکومت،نظام ِمصطفی نو کچھ بھی ہو، جسے سید مودودی;231; حکومت الہٰیا کہتے ہیں کو اس دنیا میں قائم کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔ اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کےلئے پہلے ۲۳۹۱ء میں رسالہ ترجمان جاری کیا ۔ پھربرعظیم ۵۷;241; افراد لاہور میں جمع ہوئے ۔ ۴۷ روپے ۴۱;241; آنے کی مالیت کے ساتھ، سال ۱۴۹۱ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی ۔ یہ تاریخ کا دھارہ موڑنے کاکام سید مودودی;231; کا ایک بڑا کارنامہ ہے ۔ علامہ اقبال;231; مصورو مفکر پاکستان سید مودودی ;231;کا رسالہ ترجمان پڑھتے تھے ۔ انہیں معلوم تھا کہ سید مودودی;231; حکومتِ الہٰیا قائم کرنے کے لیے لوگوں کو بلا رہے ہیں ۔ مفکر اور مصور پاکستان علامہ شیخ محمد اقبال;231; کی خواہش پر اللہ کے لیے ہجرت کر کے اپنے آبائی شہر حیدر آباد کو چھوڑ کر پنجاب کے گاءوں پٹھان کوٹ جمال پور تشریف لائے ۔ علامہ اقبال;231; نے سید مودودی;231; سے وعدہ کہا تھا کہ وہ بھی سال میں چھ ماہ پٹھان کوٹ میں گزارہ کریں گے ۔ اللہ نے علامہ اقبال;231; کو اپنے پاس جلد بلا لیا ۔ بحر حال سید مودودی;231; ۸۳۹۱ء میں پٹھان کوٹ پہنچے تھے ۔ ۷۴۹۱ء تک وہاں ہی بیٹھ کر اسلامی نظام حکومت کے قیام کے ہر پہلے پر لٹریچر تیار کیا ۔ ہمارے نذدیک سید مودودی;231; نے برعظیم کے لوگوں کوحکومت الہیٰا قائم کرنے کی ترکیب دے کر ایک ایسا کام کیا جو کسی دوسرے عالم نے نہیں کیا ۔ بلکہ بعض علما نے الزام لگایا کہ یہ امام مہدی بنناچاہتا ہے ۔ سید مودودی;231; نے جواب دیا کہ تم ساری عمر اسی غم میں مبتلا رہنا ۔ میں کبھی بھی امام مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کروں گا ۔ ان شاء اللہ ۔ مسلمانوں میں خلافت کی جگہ جو ملوکیت قائم ہو گئی تھی اسے پھر سے اپنی اصلی پوزیشن، حکومت الہیٰا کی طرف موڑ کر فی لواقعہ تجدیدی کام کیا ۔ جو اب ساری اسلامی دنیا میں جاری و ساری ہے ۔ اس کام پر سید مودودی;231; مجدد مانے گئے ۔ قائد اعظم ;231; نے پاکستان بننے کے فوراً بعد ایک ادارہ’’ ری کنسٹرکشن آف اسلامک ٹھاٹ‘‘ بنایاتھا ۔ اس ادارے کے ذمے اسلامی آئین اور حکومت کے سارے محکموں کے قرآن اور حدیث کی روشنی میں تبدیل کرنے کا کام سونپا تھا ۔ اس ادارے کا ہیڈ نو مسلم علامہ اسد;231; کو بنایا ۔ اس کےلیے فنڈمختص کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے فائنس ڈیپارٹمنٹ کو خط لکھا ۔ سید مودودی;231; کو بھی کہا کہ آپ حکومت کی مدد کریں کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت کیسے قائم کیا جائے;238; سید مودودی;231; نے ریڈیو پاکستان سے ملک میں اسلامی نظامِ حکومت کے عملی نفاذ کے لیے کئی تقاریرکیں ۔ یہ تقاریر ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور کتابی شکل میں اب بھی موجود ہیں ۔ اللہ نے قائد اعظم;231; کو جلد ہی اپنے پاس بلا لیا ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے کچھ کھوٹے سکوں نے علامہ اسد;231; کو اس کام سے ہٹاکر بیرون ملک سفیر بنا کر بھیج دیا ۔ اس کے کیے گئے کام کو ایک بیوروکریٹ نے آگ لگا دی ۔ سیدمودودی;231; کو اسلامی دستور کے مطالبہ کرنے پر جیل میں بند کر دیا ۔ کہا کہ چودہ سو سالہ پرانا اسلامی نظام حکومت کیسے کام ہو سکتا ہے;238;سید مودودی;231; کے قید میں بند ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ممبر قومی اسمبلی سید شبیر احمد عثمانی;231; اور باہر جماعت اسلامی کے کارکنوں نے تحریک جاری رکھی ۔ شہید ملت لیاقت علی خان، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے راولپنڈی میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا آئندہ دستور قرآن مجید کے حکام پر مبنی ہوگا ۔ انہوں نے فرمایا کہ قائد اعظم;231; اور ان کے رفقا کی یہ دیرنہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کا نشوو نما ایک ایسی مضبوط اور مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ہو، جو اپنے باشندوں کو عدل وانصاف کی ضمات دے سکے ۔