- الإعلانات -

وزیراعظم کادورہ افغانستان،خطے میں امن کیلئے کلیدی اقدام

بلاشبہ خطے کا امن و استحکام، افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے ۔ افغانستان میں دیرپا اور مستقل قیام امن کیلئے، بین الافغان مذاکرات کا کامیابی سے ہمکنار ہونا ناگزیر ہے ۔ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنی مخلصانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں ۔ گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان نے ایک روزہ کابل کادور ہ کیا جس میں دونوں ممالک نے افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ۔ دونوں رہنماءوں نے کابل کے صدارتی محل میں ملاقات اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ ملاقات میں پاک افغان دو طرفہ تعلقات اور افغان امن عمل پر گفتگو کی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ، دوحہ مذاکرات کے بعد تشدد میں اضافہ باعث تشویش ہے پاکستان افغانستان میں امن کے قیام اور تشدد کے خاتمہ کےلئے افغانستان کی توقع سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے گا، امن اور روابط کے فروغ سے اقتصادی ترقی ہو گی ۔ معاشی سرگرمیاں پھلنے پھولنے سے سرحد کے دونوں اطراف کے عوام کی زندگیاں تبدیل ہوں گی جبکہ افغان صدر اشرف غنی کا کہناتھا کہ مثبت سیاسی عمل کے ذریعے تشددکا خاتمہ اور باہمی علاقائی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تشدد نہیں بلکہ سیاسی بات چیت مسئلہ کا حل ہے ۔ عمران خان کے دورے سے اعتماد کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ہم پائیدارامن کےلئے سفر جاری رکھیں گے ۔ ملاقات میں دونوں اطراف میں اس امر پر اتفاق کیا کہ حضور نبی کریمﷺ کی ناموس ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور دنیا کو آزادی اظہار رائے کے نام پر منفی بیانات سے گریز کرنا ہو گا ۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی روابط اور برادرانہ تعلقات ہیں ۔ سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تشدد نہیں بلکہ سیاسی بات چیت مسئلہ کا حل ہے ۔ پاکستان اور افغانستان میں تعاون علاقائی ترقی کیلئے ناگزیر ہے ۔ بہتر مستقبل کیلئے دو طرفہ تعاون اور امن ضروری ہے ۔ دونوں حکومتیں متفق ہیں اپنی زمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے ۔ دونوں حکومتیں اسی جذبے کو لے کر آگے چلیں گی ۔ افغانستان کے وزیر خارجہ حنیف اتمر نے امن عمل کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے تشکر کے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری جانب بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور بشمول علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خصوصی طور پر افغان امن عمل میں پاکستان کے کردارپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ معزز مہمان نے خطے میں تنازعات کی روک تھام اور افغان امن عمل کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ۔ افغان امن کیلئے جاری ہماری کوششوں میں پاکستان ہمیشہ مددگار ثابت ہوا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں خوب خوب نبھائی ہیں لیکن اس حوالے سے بعض امن دشمن طاقتیں اپنی گھناءونی سازشوں میں مصروف ہیں اور وہ افغانستان میں امن قائم نہیں ہونے دیتیں ۔ جونہی امن کی راہ ہموار ہونے لگتی ہے نادیدہ قوتیں متحرک ہو جاتی ہیں ۔ ایسی صورتحال اور امن دشمن کارروائیوں کے پیش نظر افغان حکومت اور طالبان سب کو انتہائی محتاط رہنے اور پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو ۔ یقینا خطے کا امن افغانستان کے استحکام سے مشروط ہے ۔ یہ پاکستان ہی ہے جس نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا بٹھایا ۔ یوں امن کی بحالی زیادہ دور نہیں لگتی ۔ اب افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کے لیے اپناکرداراداکرے ۔ وزیر اعظم کا دورہ افغانستان دوطرفہ تعلقات اور رابطوں کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے ۔ دونوں ملکوں کے عوام بھائی چارے کے رشتے میں بندھے ہیں ۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیاں دی ہیں ۔ امن، ترقی اور خوشحالی افغان عوام کاحق ہے ۔ عمران خان خطے میں امن کے داعی ہیں ۔

جنوبی وزیرستان میں دہشت گردانہ حملہ

جنوبی وزیرستان کے علاقہ پش زیارت میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید اور ایک زخمی ہو گیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے فوجی چوکی پر حملہ کیا ۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے حملہ کا سرعت سے جواب دیا ۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو جوان حوالدار مطلوب عالم اور سپاہی سلیمان شوکت شہید ہوگئے ۔ علاقے کا کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں شرپسند عناصر کی ملک دشمن کارروائیاں اور افغانستان سے بلوچ لبریشن آرمی کو اسلحہ و بارود کی سپلائی کے تانے بانے افغانستان سے بھارت میں جا کر ملتے ہیں ۔ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں سے گرفتار ہونےوالے دہشت گردوں میں زیادہ تعداد افغان باشندوں کی ہے ۔ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں دہشت گردوں کے بڑے بڑے مراکز کی تباہی کے بعد اب یہ بچے کھچے دہشت گرد پھر سر اٹھانے لگے ہیں ۔ خاص طور پر افغان بارڈر کے ساتھ کے علاقوں میں یہ بزدل چھپ کر کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ ان چھپے دہشت گردوں اور ان کے سہولتوں کار کو کیفر کردار کو پہنچانا ضروری ہے تاکہ یہ فتنہ مکمل طور پر ختم ہو ۔ افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن قائم ہو گا ۔ پاکستان کی تو یقینا پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن ہو پاکستان کی بدولت ہی امن مذاکرات کامیاب ہو رہے ہیں ۔ افغان حکمران اگر مخلص ہیں تو وہ افغانستان میں پاکستان دشمن مراکز اور اڈے ختم کرائیں جہاں سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں ۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کے حوالے سے حالات افغانستان میں امریکی افواج کے آنے کے بعد خراب ہوئے ۔ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان کے ذریعے داخل ہوئی ۔ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف بھارت اور پاکستان سے مفرور دہشتگرد استعمال کر رہے ہیں ۔ بھارت کےلئے پاکستان ناقابلِ برداشت اور وہ اسے نقصان پہنچانے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔

آہ ;224224;علامہ خادم رضوی چل بسے

تحریک لبیک کے سربراہ 55 سالہ ممتاز عالم دین علامہ خادم حسین رضوی جمعرات کی شام انتقال کر گئے ۔ خاندانی ذراءع نے بتایا وہ گزشتہ چند روز سے بخار میں مبتلا تھے ، تیز بخار اور سانس اکھڑنے کی وجہ سے انھیں شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا ۔ وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر نے ان کے انتقال پر اظہار تعزیت کی ہے ۔ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف فیض آباد انٹرچینچ پر احتجاج کے بعد دو روز قبل ہی خادم رضوی کی قیادت میں ٹی ایل پی نے حکومت سے مذاکرات کئے تھے ۔ اسی دھرنے میں انہوں نے کارکنوں سے کہا تھا کہ میری طبیعت 5 روز سے ناساز ہے لیکن اس کے باوجود دھرنے میں شرکت کے لیے آیا ہوں ۔ علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا ۔ وہ 22 جون 1966 کو نکہ توت ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے ۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعدلاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی ۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے ۔ خادم حسین رضوی ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں ۔ خادم حسین رضوی نے گزشتہ کچھ سالوں کے دوران پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ناموس رسالتﷺ کے معاملے پر کیے جانے والے شدید احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو ملکی سطح پر پذیرائی ملی تھی، جبکہ عام انتخابات 2018 میں ٹی ایل پی ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی ۔ انکے پسماندگان میں ایک بیوہ ، دو بیٹے،چار بیٹیاں شامل ہیں ۔ پاکستان ایک بڑے عالم دین سے محروم ہوگیا، دین اسلام کےلئے ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا ۔