- الإعلانات -

بھارتی جنگی جرائم ، فیٹف میں بلیک لسٹ کیا جائے

بھارت پاکستان کی سلامتی کے تو شروع دن سے اس لئے درپے ہے کہ اسکی تشکیل سے ’’مہابھارت‘‘ کے خواب چکناچور ہوئے تھے چنانچہ بھارتی لیڈر شپ نے پاکستان کو جغرافیائی اور اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی سازشوں کا قیام پاکستان کے وقت سے ہی آغاز کر دیا تھا ۔ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دینا بھی اسی سازش کا حصہ تھا جس پر تسلط جما کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس بھارت نے اس پر اپنا اٹوٹ انگ ہونے کی ہٹ دھرمی اختیار کی ۔ افغان جنگ میں پاکستان کے امریکی فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کے دوران بھارت نے کابل انتظامیہ کو ساتھ ملا کر پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی جہاں دہشت گردوں کی تربیت اور فنڈنگ کرکے انہیں افغان سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل کیا جاتا جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرکے بھارتی سرپرستی میں افغان سرحد کے ذریعے واپس چلے جاتے ۔ یہ دہشت گرد باقاعدہ جتھہ بند ہو کر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور سول آبادیوں پر حملہ آور بھی ہوتے رہے ہیں جبکہ پاکستان چین مشترکہ اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھی بھارتی ’’را‘‘ نے اپنے حاضر سروس جاسوس دہشتگرد کلبھوشن کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلایا جسے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کی بھی سرپرستی حاصل تھی ۔ اس نیٹ ورک کی تخریب کاریوں کے ثبوت بھی پاکستان نے حاصل کئے جن پر مبنی ایک مربوط ڈوزیئر تیار کرکے اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ اور امریکی دفتر خارجہ میں پیش کیا ۔ بھارت نے پاکستان کو سیاسی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے فرقہ واریت کو مزید ہوا دینے اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کےلئے ٹی ایس ڈی (ٹیکنیکل سپورٹ ڈویژن ) کی طرز پر نیا ڈیتھ سکواڈ تشکیل دیا ہے ۔ ٹی ایس ڈی اس کے حکام میں چپقلش کی وجہ سے یہ سکواڈ پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد آپریشن کے بعد غیر فعال ہو گیا تھا ۔ را کے اندر تشکیل پانے والے اس ڈیتھ سکواڈ کی نگرانی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کریں گے ۔ دونوں پاکستان دشمنی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر شہرت رکھتے ہیں ۔ بھارت کو جس طرح پاک فوج حکومت اور قوم کے تعاون سے ایل او سی پر بھرپور جواب دے رہی، اس کی پاکستان میں دہشتگردی کی سازشوں کو ناکام بنا رہی وہ ڈیتھ سکواڈ کے منصوبے خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ۔ دنیا کو بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کرنے کے بارے میں ٹھوس ثبوت دئیے گئے ۔ بھارت کی دہشت گردی کے حوالے سے ناقابل تردید ثبوت آمنے آنے پر ایف اے ٹی ایف پر بھارت کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے لئے زور دیا گیا ہے ۔ مذہبی حلقوں نے بھارت کو بے نقاب کرنے پر پاک فوج کے ساتھ اٹوٹ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے ترنوالہ نہیں ۔ پاک فوج اور قوم ایک صفحے پر ہے ۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کےلئے بھارت بلاشبہ افغان سرزمین استعمال کرتا ہے ۔ اسے پاکستان کے اندر سے بھی اپنے خیرخواہ اور وطن عزیز کے بدخواہ مل جاتے ہیں جو دہشت گردوں کی سہولت کاری اور بھارت کے لئے جاسوسی کرتے ہیں ۔ ایسے بھی ہیں جو کسی اور طریقے سے دشمن کے مفادات کی بجا آوری کرتے ہیں ۔ آج پاکستان کی سیاست میں ہلچل سی ہے ۔ سیاسی مخالفت کو کچھ لوگ ذاتیات اور دشمنی تک لے جانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ اس حد تک حالات نہیں جانے چاہئیں جس سے باہمی نفرتیں جنم لیتی ہیں ۔ سیاسی مخالفت میں ایک دوسرے کےلئے ناقابلِ برداشت رویے ریاست کے مفادات پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں ۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ خواتین اور بچوں تک کو شہیدکیا جا رہا ہے ۔ یہ سب جنگی جرائم میں آتا ہے ۔ دوسری جنگ عظیم میں جنگی جرائم کے تحت کئی ممالک کے جرنیلوں کو موت کی سزائیں دی گئی تھیں ۔ جنگ کے دوران سول آبادیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ بھارت ایسا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے مابین جنگ بھی نہیں ہو رہی ۔ ایسے میں خواتین اور بچوں کو شہیدکرنا مزید شدید جنگی جرم ہے ۔ پاکستان نے جس طرح بھارت کیخلاف ثبوت اقوام متحد ہ اور امریکہ کے سامنے رکھے ہیں اور یہ ثبوت تیسری بار پیش کئے گئے ہیں ۔ ایسے ثبوتوں کی تردید ہی نہیں ہو سکتی ۔ اقلیتوں کے خلاف بھارت جو کچھ کر رہا ہے اور اس نے جس طرح اقلیتوں کو نشانہ ستم بنانے کےلئے منی لانڈرنگ کی وہ بھارت کو ایف اے ٹی ایف میں شامل کرنے کےلئے کافی ہے ۔ اس منی لانڈرنگ کو بے نقاب امریکی اداروں نے کیا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حدوں سے بڑھتی ہوئی بربریت بھی بھارت کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی متقاضی ہے ۔ بھارت کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرانے اور اس کے متعلقہ سول و فوجی حکام کیخلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلانے کےلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہئے ۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے لیکن اس کی یہ کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں جبکہ بھارت کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے کیونکہ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک چیز بڑی واضح دکھائی دے رہی ہے کہ بھارت کے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے جو عزائم تھے اس میں وہ ناکام ہو گیا ۔ دنیا آج پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات پر قائل ہو چکی ہے ۔