- الإعلانات -

دہلی کی سازشیں اورہٹ دھرمی جاری

یہ بات تو ساری دنیا پر روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ بی جے پی ہر صورت 2024 تک ہندوتوا کارڈ استعمال کر کے بھارت کے اکثر صوبوں اور مرکز میں برسر اقتدار آنا چاہتی ہے تا کہ آر ایس ایس کے قیام کا سو سالہ جشن بھرپور طریقے سے منا سکے اور اس حوالے سے موہن بھاگوت اور آر ایس ایس کے سب سے بڑے قائد ’’ بھیا جی‘‘ کے خواب کو پورا کر سکے بھلے ہی اس کےلئے اسے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ ۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور متنازعہ شہریت ترمیمی بل کے نفاذ کے بعد اب بی جے پی کا ہدف ’’ ون نیشن، ون الیکشن‘‘ کے تحت اکثر صوبائی اسمبلیوں کو وقت سے پہلے تحلیل کر کے پورے بھارت میں ایک ساتھ الیکشن کرانا ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 356 بھارتی صدر کو یہ اختیار فراہم کرتا ہے ۔ تبھی تو مارچ 1977 میں مرار جی ڈیسائی کے بر سر اقتدار آنے کے فوراً بعد جب نئے بھارتی صدر ’’ نیلم سنجیو ریڈی‘‘ نے عنان اقتدار سنبھالی تو انھوں نے اقتدار میں آنے کے محض 3 ماہ کے اندر صوبائی حکومتوں کو برخاست کر کے تمام صوبوں میں انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا اور تب اکثر بھارتی صوبوں میں ایک ساتھ انتخابات کرائے گئے تھے ۔ بی جے پی بھی اسی فارمولے پر چلنے کی خواہشمند ہے اگرچہ چین بھارت کشیدگی نے بی جے پی کے اس ایجنڈے کو خاصی زک بھی پہنچائی ہے ۔ اسی تناظر میں بھارت سرکار پاکستان کیخلاف اس وقت تمام تر اشتعال انگیزی جاری رکھے ہوئے ہے ، نام نہاد سٹرائیکس کی گردان بھی جاری ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی ’’ پاکستان ;66;ashing پالیسی‘‘ اپنا کر ہندوستان میں آئندہ سال پانچ صوبائی اسمبلیوں پر ہونیوالے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش ہے ۔ اسی حوالے سے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں ، وویکا نند انٹرنیشنل فاءونڈیشن اور آر ایس ایس نے پاکستان کیخلاف نفرت کی فضا پیدا کر کے ان پانچ ریاستوں میں انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی تجویز دی ہے کیونکہ پاکستان اورمسلمان دشمنی کے علاوہ کوئی کریڈٹ مودی کے کھاتے میں نہیں ۔ بی جے پی بنگال، کیرالہ، تامل ناڈو اور پانڈی چری پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے ۔ بہار اسمبلی میں دھاندلی کے باعث بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے ہی مشکل میں ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ مغربی بنگال میں ممتا بینر جی نے 2016 میں 211 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور اس بار اس ریاست میں بی جے پی کی نظریں گڑی ہوئی ہیں ، ۔ آسام کے انتخابات اپریل تا مئی 2021 کو ہوں گے، یوں تو اس ریاست میں بی جے پی اتحاد پہلے ہی اقتدار میں ہے لیکن علیحدگی پسند تحاریک میں شدت کے بعد بی جے پی کے پاءوں اس صوبے سے اکھڑ چکے ہیں ۔ یاد رہے کہ بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں صوبہ کی 126 نشستوں میں سے 60 پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ بات کی جائے کیرالہ کی تو یہاں بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) برسراقتدار ہے اور بی جے پی یہاں پچھلی بار ایک بھی سیٹ نہیں لے سکی تھی ۔ دوسری جانب پانڈی چری اگرچہ کوئی بڑی ریاست نہیں لیکن اپنی جغرافیائی اور سٹریٹجک اہمیت کی بنا پر کانگرس اور بی جے پی دونوں کی نظر اس ریاست پر ہے ۔ ہندوستان کے کئی سیاسی راہنماءوں اور عسکری ماہرین نے کہا ہے کہ بی جے پی کے تمام تر بلند و بانگ دعوءوں کے باوجود بھارت کوسفارتی اور سیاسی محاذ پر مسلسل پسپائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ سفارتی مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اگر بھارت نے پاکستان کو خلوص دل کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار پڑوسی ملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیا ہوتا تو پاکستان بھارت کشیدگی کی کبھی نوبت ہی نہ آتی اور دونوں ملک باہمی تعاون سے ہر شعبے میں ترقی کی منازل طے کرکے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکے ہوتے مگر پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارت کی شروع دن کی بدنیتی کے باعث ان دونوں پڑوسی ممالک میں کبھی دوستانہ مراسم استوار ہوسکے نہ باہمی تعاون کی خوشگوار صورتحال پیدا ہوسکی ۔ پاکستان کی تمام حکومتوں نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی اور اس ضمن میں کبھی جنوبی ایشیاء کو ’’ نیو کلیئر فری زون‘‘ قرار دینے تو کبھی ’’ نو وار پیکٹ‘‘ تک کی پیشکش کی گئی ۔ اس کے برعکس بھارت نے پاکستان کی سلامتی کو تاراج کرنے کی منصوبہ بندی کو اپنی حکومتی اور ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا جس کے تحت کشمیر پر تسلط جما کر پاکستان کے ساتھ بار بار جنگ کی نوبت لائی گئی اور اسے آبی دہشت گردی کا شکار کیا گیا ۔ بھارت نے اپنی شروع دن کی بدنیتی کی بنیاد پر ہی پاکستان پر 65ء اور 71ء کی جنگیں مسلط کیں ‘ اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا اور پھر باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے مزید درپے ہوگیا جس کیلئے ہندوستان نے خود کو ایٹمی طاقت بنایا اور سازشوں اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ ایسے سازشی اور عیار دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں نے اپنے ادوار میں ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور سرخروئی کا یہ سفر 28 مئی 1998ء کو جوابی ایٹمی دھماکوں کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔ بھارت نے موذی سانپ کی طرح بے شک پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی زہر ناکیوں کا سلسلہ جاری رکھا مگر ایٹمی قوت سے ہمکنار ہونے کے بعد اسے پاکستان پر دوبارہ باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی جرات نہ ہوسکی البتہ اس وقت ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بھارت کی مودی سرکار نے اپنی جنونیت اور توسیع پسندانہ عزائم کے باعث دونوں ایٹمی ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل ضرورلا کھڑا کیا ہے جبکہ خطے میں دوسرے ممالک بالخصوص چین کے ساتھ جاری اسکی شر انگیزیوں نے پورے خطے اور تمام اقوام عالم کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ حرف آخر کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات بہتر ہونا ناممکن حد تک محال ہے کیونکہ ہندوستان میں سال کے بارہ مہینے کسی نہ کسی صوبے میں انتخابات کا عمل جاری رہتا ہے اور مودی نے تو پاکستان کیخلاف اشتعال انگیزی سے چناءو جیتنے کا آسان نسخہ بھی ڈھونڈ نکالا ہے ۔ اس لئے ہ میں اس خوش فہمی کو ترک کرنا ہو گا کہ ہم محض اپنے اچھے رویے کے بل پر بھارت کیساتھ تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں ، اس کے برعکس پاکستان کو اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر ساری توانائیاں معاشی خوشحالی اور باہمی رواداری کے فروغ کی جانب مبذول کرنی چاہئیں ۔