- الإعلانات -

وزیراعظم کی تشویش بجا۔۔۔سب ذمہ داری کامظاہرہ کریں

وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حزب مخالف این ;200;ر او کے حصول کی مایوس کن کوششوں میں نہایت سفاکیت سے عوام کی زندگیاں اور روزگار تباہ کررہی ہے ۔ میں یہ واضح کر دوں چاہے لاکھوں جلسے کرلیں ، کوئی این ;200;ر او نہیں ملے گا ۔ پاکستان میں پی ڈی ایم اپنے جلسوں کے تسلسل پر اصرار کے ذریعے عوام اور ان کے معاش کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈال رہی ہے کیونکہ اگر اسی شرح سے کیسز بڑھتے رہے تو ہم مکمل لاک ڈاءون کی جانب بڑھنے پر مجبور ہوں گے اور ذمہ دار پی ڈی ایم ہوگی ۔ پاکستان میں وبا کی دوسری لہرکے اعداد و شمار تشویشناک ہیں ۔ گزشتہ 15روز میں وینٹی لیٹرز کے محتاج مریضوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ پشاور میں 200فیصد، ملتان میں 200فیصد، کراچی میں 148فیصد، لاہور میں 114فیصد اور اسلام ;200;باد میں 65فیصد ہے ۔ اسلام ;200;باد اور ملتان کے 70فیصد وینٹی لیٹرز زیر استعمال ہیں ۔ فی الوقت پوری دنیا دوسری لہر کی زد میں ہے اور بیشتر ممالک مکمل طور پر بندشیں عائدکرچکے ہیں ۔ میں قطعاً لاک ڈاءون جیسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ ہماری معیشت جس میں ٹھوس بحالی کے ;200;ثار فی الحال بالکل نمایاں اور واضح ہیں ، اسکی زد میں ;200;ئے گی ۔ بدقسمتی سے حزب مخالف این ;200;ر او جیسے ہدف کے تعاقب میں ہے چاہے عوام کی زندگیوں سے لیکر ملکی معیشت تک اسکی جو بھی قیمت ہو ۔ بلاشبہ وزیراعظم کی تشویش بجا ہے روزبروز کوروناوائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوتا جارہے جو تشویشناک ہے، پہلے بھی حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑرہے ہیں جس کابراہ راست اثرعوام پر پڑتا ہے اس لئے اب سب کو ذمہ داری کاثبوت دیناچاہیے ۔ پاکستان میں کوروناوائرس کی دوسری لہر کے دوران اموات بڑھ گئی ہیں ۔ ایک دن میں 59افراد کاجاں بحق ہونا تشویشناک ہے ۔ اس مرض کے مہلک ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کی کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں ۔ احتیاط کے سوا کرونا سے محفوظ رہنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ عوام کی احتیاط گریزی کے باعث کرونا کی لہر میں شدت ;200; رہی ہے ۔ حکومت کی طرف سے پھر پابندیاں لگائی جانے لگی ہیں ۔ خدانخواستہ پورے ملک کو بندکرنے کی نوبت نہ ;200;جائے ۔ ;200;ج واقعی ایسے ہی فیصلے اور اس پر عمل کی ضرورت ہے اور یہ پورے ملک میں ہونا چاہئے ۔ عوام حکومت سے تعاون کرے اس میں سب کی بھلائی ہے ۔ حکومت کی طرف سے کچھ پابندیاں لگانے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کرانے سے کورونا وائرس کو کافی حدتک پھیلنے سے روک دیا گیا تھا یا پابندیاں کچھ نرم ہوئیں اور ایس او پیز پر بھی لوگوں کی طرف سے عمل کرنے میں غفلت اور کوتاہی برتی گئی تو کورونا وائرس کے پھیلاءو میں تیزی آ گئی ۔ ایک موقع پر روزانہ اموات کی تعداد ایک دو پر محدود ہو گئی تھی جبکہ اب پچاس سے اوپر ہو چکی ہے اور متاثرین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ۔ اس حوالے سے حکومت نے بروقت اقدامات کئے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے جلسے جلوسوں پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ شادی تقریبات کو محدود کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پی ڈی ایم نے جلسوں کا شیڈول جاری کر رکھا ہے جس کے مطابق 30 نومبر کو پی پی پی کے یوم تاسیس پر ملتان میں جلسہ ہونا ہے ۔ 13 دسمبر کو مسلم لیگ(ن) کے زیر اہتمام لاہور میں ، دونوں پارٹیوں نے ہر صورت جلسوں کے انعقادکا اعلان کیا ہے ۔ سیاست اپنی جگہ مگر انسانی زندگی اور صحت اہم ترین ہے ۔ کورونا بڑھ رہا ہے جس کا اظہار روزانہ سامنے آنے والے کیسز اور اموات میں اضافے سے ہوتا ہے ۔ آج پھر ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ فوری طورپراپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کردے اور آگے ہونے والے جلسے بھی ختم کردے تاکہ کوروناوائرس سے بچاجاسکے کیونکہ جلسے اورسیاست بعد میں بھی ہوتی رہے گی ۔ اگر اپوزیشن عوام کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے کوئی مناسب اور محتاط راہ نکالے تو حالات بگڑنے سے بچ سکتے ہیں ۔ اس وقت لوگوں کو کورونا سے بچانا سب سے اہم ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ عوام کابھی فرض ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کے تحفظ کیلئے ذمہ داریاں پوری کریں ۔ سیاست کیلئے ساری زندگی پڑی ہے یہ بعد میں بھی ہوتی رہے گی ۔

شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن،چاردہشت گردہلاک

صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔ جبکہ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک سپاہی شہید ہوگیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر شمالی وزیرستان میں سپن وام کے شمال مغرب میں دریائے کیتو کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کی ۔ محاصرہ ہوتے ہی دہشت گردوں نے علاقے سے فرار ہونے کےلئے فائرنگ شروع کردی، تاہم اس دوران فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔ اس سے پہلے فائرنگ کے شدید تبادلے میں ایک سپاہی صدام شہید ہوگیا جبکہ دو جوان زخمی ہوگئے ۔ پاک فوج نے دہشت گردی کیخلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں جواب تک جاری ہیں ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی اور فرقہ واریت کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے ۔ گزشتہ دنوں میجر جنرل بابر افتخار نے بھارت کے دہشت گردوں سے رابطوں ، مالی معاونت، تربیت اور سرپرستی کو بے نقاب کیا ۔ پاکستانی ڈوزیئر میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت نے بلوچستان اور سی پیک کیخلاف دہشت گردی کیلئے بلوچ عسکریت پسندوں کی تربیت اور فنڈنگ کی ۔ بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کو براس کے بینر تلے اکٹھا کیا ۔ بھارت نے 700 افراد کی ملیشیا تشکیل دی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دنیا کے سامنے شواہد رکھے تھے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی راکے 10 ایجنٹس سمیت سی پیک کیخلاف 24 رکنی کمیشن بنایا گیا ۔ بھارت نے بنائی گئی ملیشیا کیلئے 60 ملین ڈالرز کے فنڈز مختص کئے ۔ اب جبکہ بھارت کا سفاک دہشتگرد چہرہ اقوام عالم میں مکمل بے نقاب ہو چکا ہے اس لئے بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی محفوظ کرنے کی خاطر عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کی جانب سے بھارت کیخلاف فوری اور سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔

لائن آف کنٹرول پربھارتی فائرنگ اورکشمیریوں کے حقوق

لائن آف کنٹرول کے کھوئی رٹہ سیکٹر پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے7 سالہ بچی شہید جبکہ 11 افراد زخمی ہوگئے ۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کی صورت دشمن کا منہ توڑ نے کی پوری صلاحیت سے بھی مالا مال ہے ۔ بھارت کی لائن ;200;ف کنٹرول پر شرانگیزی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ کشمیریوں کا خون اتنا ارزاں نہیں کہ لائن ;200;ف کنٹرول پر بہتا رہے ۔ خونی لکیر پر ;200;ئے روز معصوم کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے لیکن سیکورٹی کونسل اور اقوام متحدہ سمیت عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور تنظی میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ لائن ;200;ف کنٹرول پر 6 لاکھ افراد بستے ہیں ہندوستانی فوج کی خواہش ہے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں ایسا کسی صورت نہیں ہوگا ۔ بھارت کو کشمیریوں کے بے گناہ خون کا حساب دینا ہوگا ۔ پاک فوج نے بھارتی فورسز کو منہ توڑ جواب ضرور دیا لیکن اسکی طرف سے بھارتی فورسز کو ہی نشانہ بنایا گیا شہری ;200;بادیاں اور سویلنز کبھی پاک فوج کی زد میں نہیں ;200;ئے ۔ بھارت کا سویلینز کو ٹارگٹ کرنا جنگی جرائم میں ;200;تا ہے ۔ پاکستان کو اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف یا اقوام متحدہ کے فورم پر ضرور اٹھانا چاہیے ۔ قبل ازیں بھی خواتین اور بچوں سمیت نہتے افراد کو شہید اور زخمی کیا جاتا رہا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کی بری طرح پامالی کررہا ہے ۔ کشمیریوں کی ;200;واز کو جبرا دبایا گیا ہے ۔ ڈیڑھ سال ہونے کو ہے کشمیریوں کے حقوق معطل ہیں ۔ وہ بری طرح پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی بحران شدید ہو رہا ہے ۔ بھارت نے کشمیریوں کی ;200;واز باہر نہ جانے کا پورا اہتمام کیا ہے ۔ وادی میں کسی غیرجانبدار انسانی حقوق کی تنظیم اور ;200;زاد میڈیا کے داخلے پر پابندی ہے ۔ اسکے باوجود وہاں سے بھارتی بربریت کی جو خبریں دنیا کے سامنے ;200;تی ہیں وہ دل دہلا دیتی ہیں اور اب بھارت کے اندر جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی بھارتی دہشت گردی کا بین ثبوت ہے جو اس پر عالمی پابندیاں لگانے کیلئے کافی ہیں ۔