- الإعلانات -

الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔ چند سوالات

Asif-Mehmood

تو کیا اب جج حضرات فیصلہ سنانے کے بعد کسی ٹاک شو میں بیٹھ کر اس کی شرح بھی بیان کیا کریں گے؟
ن لیگ کا ردعمل ،اس میں کیا کلام ہے کہ،ناتراشیدہ تھا۔اداروں کے احترام کا درس دینے والے اپنے خلاف ایک خلاف فیصلہ برداشت نہ کرپائے۔ملک الشعراء، جن کے شہد لہجے میں آتش فشاں چھپے ہوتے ہیں، فرمانے لگے: کاظم ملک پہلے ڈوگر جج تھا اور اب تحریک انصاف کا جج ہے۔قبلہ رانا ثناء اللہ، جو جیسا قانون ویسا وزیر قانون کا استعارہ بن چکے ہیں،گل فشانی کرتے پائے گئے:’’کاظم ملک اپنے بیٹے کے لیے ن لیگ سے ٹکٹ لینا چاہتا تھا ،اب وہ ہمارے خلاف ہے،فیصلہ تو ہمارے خلاف ہی آ نا تھا‘‘۔اور جناب سپیکرکا جلالِ شاہی کچھ یوں گویا ہوا:’’ جج کے خلاف کارروائی کریں گے‘‘۔جو عمران خان کو تہذیب نفس اور شائستگی کے درس دیا کرتے تھے، وقت آنے پر اتنے کمزور نکلے کہ ایک فیصلے کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور ٹریبیونل جج کو سینگوں پر لے کر ان زمانوں کی یاد تازہ کر گئے جب’ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں‘ نے شرافت کی سیاست کوسپریم کورٹ پر حملہ کرتے دیکھااور نعرے لگاتے سناتھا۔ن لیگ نے جو کیا ہمیشہ کی طرح برا کیا۔ایک عرصہ بادشاہ سلامت کی میزبانی سے لطف اندوز ہونے کے بعد اب مزاج مبارک اتنا نازک ہو گیا ہے کہ کسی عدالت کا ایک فیصلہ بھی اسے اپنے خلاف گوارا نہیں۔ان کی سماعتیں صرف باادب ، باملاحظہ ہوشیار کی صدائیں پسند کرتی ہیں۔اختلاف گوارا نہیں، نہ جماعت کے اندر، نہ سیاست میں ، نہ سماج میں۔حتی کہ ایک عدد فیصلہ اگر عدالت ان کے خلاف کر ہی دے تو ان کی خوش اخلاقیاں اور قانون پسندیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور شہد لہجے زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن اس سب کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جج صاحب جواب میں ٹاک شو میں اپنے فیصلوں کا دفاع کرنا شروع کر دیں۔یہ ایک جج کے منصب سے فروتر بات ہے کہ وہ کسی ناتراشیدہ رویے کا جواب دینے کے لیے ٹاک شوز کی زینت بن جائے۔جج نہیں بولتا، اس کا فیصلہ بولتا ہے۔اس سلسلے کو یہیں روکا جانا چاہیے۔یہ بربادی کا راستہ ہے۔گاہے حیرت ہوتی ہے ہم کس راستے پر چل نکلے ہیں۔

بعض احباب کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے کاظم ملک صاحب پر اتنی شدید تنقید کی کہ انہوں نے مجبور ہو کر ٹاک شو پر اپنا موقف دیا۔یہ ایک انتہائی کمزورعذر ہے۔عدالتی فیصلوں پر ہمارے ہاں ماضی میں بھی بہت لے دے ہوتی رہی ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے خلاف ہونے والے فیصلوں کو ’ چمک‘ کا شاخسانہ قرار دیا کرتی تھیں۔کیا کسی جج نے جواب میں کوئی پریس کانفرنس کی؟خود عمران خان نے افتخار چودھری کی کردار کشی میں کوئی کسر چھوڑی، کنٹینر پر کھڑے ہو کر روز ان پر کیچڑ اچھالا گیا ،کیا رد عمل میں افتخار چودھری کسی ٹاک شو میں موقف دینے آ ئے؟آصف زرداری نے کہا یہ آراوز کا الیکشن تھا ،تو کیا جواب میں کسی سیشنز جج نے کسی اینکر سے کہا کہ بھائی جان آج ذرا مجھے بھی فون پر لے لینا میں نے وضاحت پیش کرنی ہے اور کہنا ہے ’’ مجھے دیوار سے لگایا گیا تو میں بھی چپ نہیں رہوں گا‘‘۔۔۔۔۔ن لیگ نے رد عمل میں بہت برا کیا،لیکن یہ برائی کسی جج کے ٹاک شو میں آ کر بات کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تعصب کی عینک پہن کر معاملات کو دیکھتے ہیں۔اس وقت جو ن لیگ کا مخالف ہے اس کے نزدیک کاظم ملک صاحب سے بڑا ولی اللہ اور ہیرو کوئی نہیں اور جو ن لیگ کا حامی ہے وہ کاظم ملک کو تحریک انصاف کا جج ثابت کرنا چواب دارین سمجھتا ہے۔ہمیں ان تعصبات سے بالاتر ہو کر چیزوں کو میرٹ پر دیکھنا ہو گا۔

جب ایک فیصلہ آ جائے تو اس پر بحث اور اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے البتہ جج کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ایک بیمار رویہ ہے اور ن لیگ نے اسی رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔لیکن کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جو قانون کے طالب علموں کو پریشاں کیے ہوئے ہیں۔ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ان سوالات پر سنجیدگی کے ساتھ بات ہونی چاہیے اور ہیجان یا کسی کی کردار کشی سے اجتناب کرنا چاہیے۔مثال کے طور پر پہلا سوال آج کل یہ اٹھ رہا ہے کہ فیصلوں میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے۔پہلے پتا چلتا ہے فیصلہ دس بجے ہوگا، پھر خبر آتی ہے فیصلہ دو بجے ہوگا، اس کے بعد پتا چلتا ہے فیصلہ چار بجے ہو گا،لیکن فیصلہ سات بج کر دس منٹ پر آتا ہے۔اس دوران سارا دن میڈیا اسی موضوع پر بات کرتا رہتا ہے، سماج ہیجان میں مبتلا کر دیا جاتا ہے،فیصلہ اگر عدالتی تائم میں نہیں سنایا جا تا تو اگلے دن سنا دیا جائے یا جس دن سنایا جانا ہو اسی دن معمول کی کارروائی کے تحت سنا دیا جائے۔لیکن اس سارے عمل کو اتنا ہیجان خیز بنا دیا گیا ہے کہ لوگ اس رویے کی مختلف تشریحات کرنا شروع ہو گئے ہیں۔حکومتی وزراء بھی دبے دبے لفظوں میں سوال اٹھا رہے ہیں کہ کہ اتنی زیادہ ’ میڈیا ہائپ‘ کیوں پیدا کی جاتی ہے۔افتخار چودھری صاحب کے دور سے پہلے شاید ایسا نہیں تھا۔ان کے دور میں فیصلوں میں اتنی تاخیر ہونا شروع ہوئی کہ سارا دن میڈیا کا رخ عدالت کی جانب رہنے لگا، ابھی فیصلہ آنے والا ہے، ابھی آنے والا ہے، ۔۔۔سارا سارا دن لائیو نشریات ہوتی تھیں کہ فیصلہ کیا ہو گا۔اس عمل سے ہیجان میں اضافہ ہوتا ہے۔عدالتوں کا کام ہی فیصلے دینا ہے ۔یہ ایک معمول کی کارروائی ہونی چاہیے نہ کہ ایک ہیجان خیز عمل بنا دیا جائے۔میڈیا کو تھوڑا غور فرمانا ہو گا۔آزاد میڈیا کچھ زیادہ ہی آزاد ہو گیا ہے۔حکمران بھی نوٹس لے لے کر اسی میڈیا میں زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں حتی کہ صدر پاکستان کو بھی میڈیا کو متوجہ کرنے کے لیے ایک آدھ نوٹس لینا پڑا ۔۔۔۔۔یہ کوئی صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔فیصلے لکھتے وقت ایک جج کے پیش نظر صرف قانون کا بر محل اطلاق ہونا چاہیے۔اگر کوئی معزز جج اس دوران یہ سوچتا رہے کہ کیا وہ صرف ایک جانور کی طرح ہے یا ایک درندے کی مانند ہے یا وہ صرف کھانا کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو یہ اس کے من کا جوار بھاٹا ہو سکتا ہے ، اس کے ضمیر کے زندہ ہونے کی علامت بھی ہو سکتا ہے ،لیکن یہ ایک انفرادی واردات ہے اور یہ انفرادی واردات اگر فیصلوں میں ظہور کرنا شروع کر دے تو پھر اس پر بات تو ہو گی۔چنانچہ اب احسن اقبال کاظم ملک صاحب کے فیصلے کے اس حصے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جس میں انہوں نے کچھ ایسے ہی سوالات اٹھائے ہیں تو میرے لیے رائے قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں یا نہیں۔