- الإعلانات -

کوروناکی دوسری لہراورحکومت کی بہترین حکمت عملی

کوروناوائرس کی دوسری لہر کے آنے پرحکومت نے اپنی سٹریٹجی واضح کرتے ہوئے بتادیا ہے کہ نہ تو مکمل لاک ڈاءون ہوگا اورنہ ہی ذراءع روزگاربندکئے جائیں گے ،پوری دنیا نے اس حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی کو سراہاہے بلکہ یہاں تک کہاکہ اگر ہم پاکستان کے طریقہ کار کو اپنالیتے تو ہمارے اربوں ڈالربچ جاتے ۔ حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں تاہم اس نے بتایا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے کسی طرح کاتعاون نہیں ہورہا اور وہ انسانی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ،سیاسی جلسوں کی قطعی طورپراجازت نہیں دی جاسکتی چونکہ دنیابھر میں اس وباء نے سراٹھاناشروع کردیاہے ایسے میں سیاسی رہنماءوں کوعوام کی زندگیوں سے پیارکرناچاہیے نہ کہ اپنی سیاست چمکاتے رہیں ،عوام کو بھی چاہیے کہ وہ شعورکامظاہرہ کرتے ہوئے جلسوں میں جانے سے گریزکریں جب پنڈال خالی پڑاہوگاتو یقینی طورپر ان سیاسیوں کوشرمندگی کامظاہرہ کرناپڑے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایون وزیراعلیٰ پنجاب میں لاہور میں میڈیا سے گفتگو، عالمی اقتصادی فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب اور وزیراعلی عثمان بزدار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے نہیں مارسکتے لہٰذا فیکٹریاں اور کاروبار نہیں بند کرینگے، کورونا کیسز بڑھنے سے اسپتال کے عملے پر دباءو بڑھ سکتا ہے،کورونا کا مقابلہ نہ کیا تو معاشی حالات بگڑ جائینگے، یورپ جیسا لاک ڈاءون نہیں ہوگا، عوام ماسک پہنیں ، کورونا جلسے جلوسوں سے زیادہ پھیل رہا ہے، اپوزیشن لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے، جلسے جلوسوں سے کوئی فائدہ نہیں ہونا، کسی کو این آر او نہیں ملے گا، طالبان امریکا مذاکرات کیلئے مثبت کام کیا، اب قبضہ مافیا گرفتار ہوگا، سیاستدانوں سمیت بڑے لوگوں نے کھربوں کی سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، انکی چیخیں نکلنے کا وقت آگیا، اسرائیل تسلیم کرنے کیلئے کوئی دباءو نہیں ، ہندوستان میں مناسب قیادت کے اقتدار میں آنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آ جائینگے ۔ وزیراعظم نے عثمان بزدار سے ملاقات میں ناجائز منافع خوروں کیخلاف بھر پور اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ریلیف کے منصوبوں میں تیزی لانا ہے ۔ پنجاب میں قبضہ گروپ کے خاتمے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں ۔ شوگر مافیانے گٹھ جوڑ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا،راوی ریور منصوبے کے تحت60لاکھ درخت لگائے جائینگے، کامیاب خارجہ پالیسی سے دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج ابھرا ہے، ہم نے کشمیر کے معاملہ میں بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا،ڈومور کا مطالبہ کرنیوالا امریکا آج ہماری تعریف کر رہا ہے، ترکی، ایران، افغانستان، سعودی عرب اوریو اے ای سے بہت اچھے تعلقات ہیں ،جب تک اسرائیل فلسطین کو آزادی نہیں دیتا، اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے جہاں ان سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبے کے انتظامی، سیاسی امور اور عوامی ریلیف کے اقدامات، صوبہ بھر میں سہولت بازاروں میں سستے داموں اشیا کی فراہمی کے بارے میں وزیراعظم کو بریف کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بڑی مشکلوں سے ایسے معاشی حالات سے نکلے ہیں باقی ممالک اس معاملے میں اتنے خوش قسمت نہیں تھے، دنیا بھر کے معاشی حالات بہت متاثر ہوئے، خاص طور پر ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بہت زیادہ اموات ہوئیں اور معاشی حالات بھی ابتر رہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے مثبت پالیسوں سے نہ صرف کورونا کا دفاع کیا بلکہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا جس کی پوری دنیا معترف ہے ۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں کورونا وبا کے دوران برآمدات کم ہوئیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہماری برآمدات بڑھیں ۔ تمام اداروں اور عوام کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے، گزشتہ ادوار میں دنیا میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک کے طور جا نا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسیوں سے دنیا میں پاکستان کا ایک مثبت امیج ابھرا ہے،دنیا بھر میں پاکستان کو اب عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔

کوروناویکسین،ڈبلیو ایچ او کی پاکستان کو تعاون کی یقین دہانی

عالمی ادارہ صحت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے متوقع کورونا ویکسین کی فراہمی میں تعاون کی یقین دہانی کرا دی ۔ عالمی ادارہ صحت نے حکومت پاکستان کے نام مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ پاکستان سے کورونا کےخلاف بھرپور تعاون جاری رہے گا، موثر و محفوظ کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے کوششیں جاری ہیں ، 2021کے ;200;غاز پر بعض کورونا ویکسین محدود پیمانے پر دستیاب ہوں گی ۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ;200;غاز میں عالمی سطح پرویکسین کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہوگی اور کورونا ویکسین کے درست اہداف کی بروقت نشاندہی ضروری ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو متوقع کوروناویکسین کے بارے میں تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کورونا ویکسین کے استعمال میں پاکستان کی معاونت کرینگے ۔ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کو متوقع ویکسین کےاستعمال کیلئے تجاویز سے ;200;گاہ کرتے ہوئے کہا پاکستان کو متوقع ویکسین کے امور پر توجہ دینا ہو گی اور متوقع کورونا ویکسین کیلئے پیشگی مثر پلاننگ کرنی ہوگی ۔ مراسلے میں کہا گیا کہ پاکستان کورونا ویکسین کے استعمال کا مساوی، موثر عمل ترتیب دے اور کورونا ویکسینیشن کے مخصوص اہداف کی بروقت نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ویکسین کی ملک گیر ترسیل کی اسٹریٹجی وضع کرے ۔ پاکستان متوقع کورونا ویکسین پر قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دے ، رابطہ کمیٹی کورونا ویکسین پر پلاننگ و رابطوں کی ذمہ دار ہو گی ۔ پاکستان کورونا ویکسین پر قومی تکنیکی ورکنگ گروپ تشکیل دے اور ترسیل کیلئے لاجسٹک، کولڈچین سسٹم قائم کرے جبکہ ویکسین کی محفوظ ترسیل کیلئے سروس ڈیلیوری نظام تشکیل دے ۔ پاکستان ویکسین کی محفوظ ترسیل کیلئے سروس ڈیلیوری نظام اور کورونا ویکسینیشن مہم کیلئے سرویلنس، مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ ویکسین کے مضر اثرات جانچنے کیلئے سیفٹی سرویلنس سسٹم اور ڈیمانڈ جنریشن، کمیونیکشن پلان تیار کرے ۔ پاکستان کورونا ویکسین نیشن بارے عوامی ;200;گاہی کیلئے پیشگی مہم چلائے ۔

بھارت ایشیاکابدعنوان ترین ملک قرار

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کا انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت ایشیاکابدعنوان ترین ملک ہے ،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی بھارت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی میں بھارت کا ایشیا میں پہلانمبر ہے ،بھارت میں رشوت ستانی کی شرح 39 فیصد ہے ، 46 فیصد بھارتی عوامی خدمات کیلئے ذاتی تعلقات استعمال کرتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق یہ شرح ایشیاکے دیگرممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔ جنوری 2020 میں ہونیوالے سے سروے میں کے مطابق بدعنوانی میں بھارت کا 80واں نمبرتھا ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز کوپیش کئے جانے والے پاکستانی ڈوزیئر کے بارے میں بھارت بہت برہم ہے اوراس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کےخلاف بھارت کی دہشت گردی، پاکستانی سرزمین پردہشت گردوں اور تخریب کاروں کی سرپرستی فنڈنگ اور تیسرے ملک میں بھارتی سفارتی مشنوں کے ذریعے پاکستان کیخلاف دہشت گردوں سے رابطے اور منصوبہ بندی کے بارے جو شواہد پیش کئے ہیں وہ بھارت کےلئے حیرانی پریشانی اور ایک نئے چیلنج کا باعث ہیں ۔ پاکستانی ڈوزیئر اصولوں ، ثبوت اورحقائق کی بنیاد پر خاصاٹھوس اور بھارت کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرنے کیلئے اور پاکستان کے خلاف ازلی دشمنی ثابت کیلئے ایک موثر ڈوزیئر ہے لیکن جنوبی ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور خلیجی ممالک کےابھرتے ہوئے اتحاد، امریکہ میں انتقال اقتدار، بھارت، امریکہ، فوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دیگر معاہدے، چین ،امریکہ کشیدگی اور پولرازیشن اورافغان صورتحال جیسے عالمی اور علاقائی زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر تجزیہ کیاجائے تو بھارتی دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ثبوتوں پر مبنی ڈوزیئر کے اثرات یہ تو ضرور ہوں گے کہ بھارتی دہشت گردی اوربھارتی امن دشمن عزائم بے نقاب ہوں گے ۔