- الإعلانات -

سرزمین فلسطین تو میرے دل کی محبت ہے

اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن بھی اسی روز اچانک سعودی عرب پہنچ گئے جہاں انکی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ۔ جب یہ خبر عام ہوئی تو سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے نیتن یاہو کے دورہ کی تردید کی لیکن اسرائیلی میڈیا اپنی خبر پر قائم رہا ۔ نیتن یاہو نے اس خبرپر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جسکا مطلب ہے کہ وہ نہ تو انکار کررہے ہیں اورنہ اقرار ۔ ان خبروں کو اس بات سے بھی تقویت ملی کہ دنیا میں ہوائی جہازوں کی پرواز کو مانیٹر کرنے والی ایجنسیوں کے ڈیٹا نے بھی تصدیق کی کہ ایک نجی طیارہ اتوار کو اسرائیل سے سعودی عرب پہنچا تھا ۔ ویب ساءٹ فلاءٹ ریڈار 24 ڈاٹ کام کے ڈیٹا کے مطابق تل ابیب کے قریب بین گوریئن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ سے گلف اسٹریم نجی جیٹ طیارے نے 5 بجکر 40 منٹ پرجی ایم ٹی پرواز بھری ۔ ڈیٹا کے مطابق یہ پرواز جزیرہ نما سینا کے مشرقی کنارے سے ہوتے ہوئے جنوب کی طرف نیوم میں 6 بجکر 30 منٹ پر اتری، طیارے نے 9 بجکر 50 منٹ پر نیوم سے واپس اڑان بھری اور اسی راستے کو اپناتے ہوئے تل ابیب پہنچگی اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس بارے میں رائے طلب کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا ۔ مائیک پومپیو نے مشرق وسطیٰ کے سفر کے دوران ایک امریکی پریس کے وفد کے ساتھ سفر کیا تاہم جب وہ ولی عہد سے ملاقات کےلئے گئے تو وفد کو نیوم ایئر پورٹ پر ہی چھوڑ دیا تھا ۔ جہاں بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کےلئے معاہدے کیے ہیں وہیں سعودی عرب نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا تھا سعودی فرمانروا شاہ سلمان طویل عرصے سے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے حصول کی کوششوں میں ان کی حمایت کرتے آئے ہیں تاہم تجزیہ کاروں اور اندرونی ذراءع کا ماننا ہے کہ ان کا 35 سالہ بیٹا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ممکنہ طور پر امن عمل میں کسی بڑی پیشرفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کے بارے میں زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں ۔ ریاست نے متحدہ عرب امارات جانے کےلئے اسرائیلی پروازوں کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی منظوری دی تھی ۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے بعد پومپیو نے کہا تھا کہ ہمارا مشترکہ مقصد خطے میں امن و سلامتی ہےدوسری جانب اسرائیلی وزیر تعلیم یوآف گلانٹ نے اسرائیلی وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تصدیق کی ہے ۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیرتعلیم کا فوجی ریڈیو سے گفتگو میں کہنا تھا کہ دونوں کی ملاقات سعودی شہر نیوم میں ہوئی ہے اور یہ ناقابل یقین کامیابی ہے جس پر نیتن یاہو کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات حقیقت میں ہوئی ہے لیکن اب عام ہوگئی، یہ بہت اہم ہے ۔ اُدھر اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی خبر لیک ہونے کی شدید مذمت کی ہے ۔ چند ماہ پہلے تک وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف تھا کہ اسرائیل سے اس وقت تک تعلقات قائم نہیں ہوسکتے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ کردی جائے ۔ لیکن شایدشدید سفارتی دباو کا اثر ہے کہ اب انکے موقف میں بتدریج قدرے نرمی آرہی ہے ۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات اس وقت قائم کیے جا سکتے ہیں جب اسرائیل کا فلسطینیوں کے ساتھ ایک منصفانہ تصفیہ ہوجائے ۔ سفارتی زبان میں آزاد ریاست اور منصفانہ تصفیہ دو الگ الگ باتیں ہیں ۔ ایک اور انٹرویو میں عمران خان نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کےلئے’سمجھوتہ‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے ۔ تاہم مجموعی طور پر عمران خان اب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مطالبہ کی مزاحمت کررہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے بحرین اورمتحدہ عرب امارات نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرکے اس سے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں پاکستان پر بھی امریکہ اور ایک عرب ملک کا دباو بڑھ رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرے ۔ ملک میں ایک بڑی لابی ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلاناشروع کردی ہے ۔ ٹیلی ویژن کے بعض اینکرپرسن اورصحافی ذاتی حیثیت میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کےلئے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کا کام شروع کرچکے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے حق میں مہم چلانےوالے وہ صحافی ہیں جن کے ریاستی اداروں سے قریبی تعلقات ہیں ۔ دانشوارانہ حلقوں میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اسرائیل کے حق میں لابنگ کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کا نہ کوئی اصول ہے نہ نظریہ ۔ گو پاکستانی عوام کی اکثریت واضح طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کےخلاف ہے اورایک آزاد‘ خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام چاہتی ہے ۔ لیکن حکمران طبقہ اور اشرافیہ میں ایسے لوگوں کا ایک بڑا گرو پ موجود ہے جو اسرائیل سے قریبی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے ۔ اسرائیل نواز لوگوں کا موقف ہے کہ پاکستان کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے معاشی اور سفارتی فوائد ہونگے ۔ ہماری اسرائیل کو برآمدات بڑھیں گی ۔ ہم اسرائیل سے جدید زرعی‘ آبپاشی ٹیکنالوجی حاصل کر سکیں گے ۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بہت قریبی تعلقات ہیں ۔ کشمیر میں اسرائیل کے فوجی افسر بھارتی فوج کی معاونت کررہے ہیں ۔ وہ بھارتی فوجیوں کو تربیت دیتے ہیں اور کئی آپریشن میں بنفسِ نفیس شریک ہوتے ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو حکمت عملی اور طریق کار اختیار کیا ہے وہ اسرائیل سے مستعار ہے ۔ بھارت اسرائیل سے بڑے پیمانے پر میزائیل ٹیکنالوجی اور دیگرفوجی سازوسامان خرید رہاہے ۔ اسرائیل نواز لابی کا خیال ہے کہ پاکستان سے تعلقات قائم ہونے کے بعد کشمیر پر اسرائیل کی پوزیشن یکطرفہ طور پر بھارت کے حق میں نہیں رہے گی بلکہ اسے پاکستان کے موقف کو بھی اہمیت دینا ہوگی ۔ سب سے اہم‘ امریکہ میں انتہائی با اثر صیہونی اور یہودی لابیاں پاکستان کے بارے میں دوستانہ موقف اختیار کریں گی جس سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے تاریخی اصولی موقف کی نفی ہوگی ۔ انیس سو اڑتالیس میں جب اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی تو اسکے صدر نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو ایک خط لکھا جس میں ان سے کہا کہ اسرائیل پاکستان سے تعلقات کا خواہش مند ہے لیکن قائداعظم نے اسکا جواب بھی نہیں دیا کیونکہ وہ اور علامہ اقبال شروع دن سے اسرائیلی ریاست کے تصور کے خلاف تھے ۔ اس وقت سے پاکستان اسرائیل کے خلاف عربوں اور فلسطینیوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ حالانکہ فلسطینی لیڈروں نے کبھی کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت نہیں کی کیونکہ وہ بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ اگر پاکستان فلسطین پر اصولی موقف ترک کرتا ہے تو اس سے ہمارا کشمیر پر موقف بھی اخلاقی طور پر کمزور ہو جائےگا ۔ اگر ہم فلسطین پر یہودیوں ‘ صیہونیوں کے ناجائز طبقہ کو جائز تسلیم کرلیتے ہیں تو کس بنیاد پر مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کی مخالفت کریں گے ۔ یوں بھی پاکستان میں عوام کی اکثریت میں اسلامی وحدت اور اسلامی اُمت کا تصور راسخ ہے ۔ عوام کی اسلامی ممالک سے جذباتی وابستگی ہے ۔ یروشلم میں قبلہ اوّل اور مسجد اقصیٰ سے بھی پاکستانیوں کی جذباتی وابستگی ہے ۔ حکمران اشرافیہ کچھ بھی کہے عوام اس فیصلہ کو اسلام اور مسلمانوں سے غداری تصور کریں گے ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک بہت نامقبول فیصلہ ہوگا ۔ جو بھی حکومت یہ کام کرے گی اسے عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہ حکمران عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا اور نہ حکومت میں رہ سکے گا ۔ اسے سیاست کو خیر باد کہہ کر رُوپوش ہوناپڑے گا ۔ بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اثر کتنے معہادات پر اسرائیل قائم رہا ہے نقصان تو ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کا ہوتا ہے کاش ہم ان فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے دکھ کو سمجھ سکیں تاہم فلسطینیوں کے جذبات کلیجے چیر دیتے ہیں ، دل کی دھڑکنیں بے قابو و بے ترتیب ہو جاتی ہیں ۔ ایسا کیوں نہ ہو ۔ ان کا وطن چھوٹا، 1919ء میں غزہ میں آنکھیں کھولنے والے، فلسطینی شاعر، علی ہاشم رشید (جن کو عرب دنیا مزاحمتی شاعر کا خطاب دیتی ہے) نے وطن سے محبت اور جذبات کا یوں اظہار کیا ہے کہ ’’اے میرے بھائی میرا بھی تمہاری طرح ایک پیارا سا وطن تھا، جس میں باغات، مرغزار اور بلندوبالاپہاڑ تھے، میں پرآسائش اور خوشحال زندگی گزارتا تھا، ہماری میٹھی آرزوئیں تھیں ، ہماری عزت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، ہم ہر طرح خوشحال تھے، پھر سامراجیوں نے ہماری زمین پر قبضہ کر لیا، یہودی قتل و غارت اور آبروریزی کرنے لگے، پھر ہماری سرزمین پر مصائب بھڑک اٹھے، جنہیں صدیوں تک بیان کیا جاتا رہے گا ۔ ہمارے دکھوں کی تاریخ خون کے آنسوءوں سے لکھی جائے گی ۔ فلسطین! تو میرے دل کی محبت سے بھرپور ہے ۔ ہائے میرے بیٹے، آباءوواجدادکہاں چلے گئے، ہ میں زمانے نے بکھیر دیا اور دن بہت زیادہ بدلنے والے ہیں ۔ ‘‘ لیکن فلسطینی مایوس نہیں ، وہ اس امید پر زندہ ہیں کہ دن بدلنے والے ہیں ۔