- الإعلانات -

بیرونی محاذ پر ہماری کامیابیاں

بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات وزیراعظم عمران خان کےلئے سب سے بڑا چیلنج تھے ۔ وزیراعظم بنتے ہی انہوں نے پڑوسی ملک کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر تنازعے کو حل اور آپس میں تجارت شروع کرنی چاہیے ۔ پھر حالات روز بروز تبدیل ہوتے گئے ۔ مودی نے بھارت کو ایک فاشٹ ملک بنا دیا ۔ آج عمران خان کی بہترین خارجہ پالیسی کے باعث بھارت دنیا بھر میں تنہا کھڑا ہے حالانکہ بھارت نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر مظلوم کشمیریوں کا سفیر بن کر دنیا بھر میں آواز بلند کی اور بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں کیخلاف مودی کا فاسشٹ نظریہ عالمی سطح پر بے نقاب کیا ۔ جس کی وجہ سے کئی ممالک کے رہنماؤں نے نہ صرف پاکستان کا دورہ کیا بلکہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ۔ پاکستان کے لیے 2 معاملات نہایت اہمیت کے حامل ہیں ، ایک تو یہ کہ پاکستان کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی پیش رفت کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونی چاہیے اور دوسرا یہ کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بدترین صورتحال میں بہتری لائے جائے ۔ جبکہ بھارت کہتا ہے کہ وہاں ہونے والی ‘دہشتگردی‘ کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔ معنی خیز مذاکرات کےلئے ان اہم مسائل کا ایسا حل ڈھونڈنا ہوگا جس پر دونوں مطمئن ہوں ۔ پائیدار مذاکراتی مرحلے کے لیے مشترکہ جواز کو ڈھونڈنا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ پاکستان ایک جغرافیائی سیاسی لحاظ سے اہم مقام رکھتا ہے ۔ افغانستان ،چین، بھارت اور ایران ہمسائے میں ہیں ۔ دنیا کی سمندری تیل کی سپلائی لائنوں کی راہداری پر ہے ۔ گیس اور تیل سے مالا مال مشرق وسطی اور دنیا کے آبادی کے مراکز کے درمیان واقع ہے ۔ پاکستان ہمسایہ جمہوریہ ہند کے ساتھ تعلقات اور عوامی جمہوریہ چین اور عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ایک رکن ہے ۔ جسے امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم غیر نیٹو اتحادی اور آئی ایم سی ٹی سی کے بانی ممبروں میں شامل کیا ہے ۔ اگست 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد ایران پہلا ملک تھا جس نے اس کی خود مختارحیثیت کو تسلیم کیا ۔ امریکا پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا غیر مسلم ملک تھا اور فرانس پہلا ملک تھا جہاں پاکستان کا جھنڈا بلند ہوا تھا ۔ سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مثالی بنایا گیا جب کہ افغان امن عمل اور سعودی ایران تنازع میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ۔ پاک افغانستان تعلقات کے معاملہ میں افغانستان کے اندرونی امن معاہدے اور پاک افغانستان بارڈر کو تجارت کےلئے کھولنے کی طرف حالیہ پیشرفت سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلقات میں ممکنہ بہتری آرہی ہے ۔ مثال کے طور پر، افغانستان تک کھاد منتقل کرنے والے جہاز اب گوادر پورٹ پر رک سکتے ہیں ۔ تاہم، امن معاہدے کے بعد بھی، افغانستان کے بارے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، مثلاً، اگر افغانستان 1990 کی دہائی کی نوعیت کی وحشیانہ خانہ جنگی میں گر جاتا ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مفادات کےلئے ایک پرامن افغانستان کو فروغ دینے اور اسلامی عسکریت پسندی سے نمٹنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو مزید نقصان نہ ہو ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی روز نت نئی کامیابیاں حاصل کررہی ہیں ۔ اس کا سہرا وزیراعظم کے سر جاتا ہے ۔ انہیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہے پھر ان کی نیک نامی سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان جہاں بدعنوانیوں کا جال پھیلا ہوا ہے ۔ دنیا ہ میں شک کی نظروں سے دیکھتی تھی ۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آتے ہی دنیا ہی بدل گئی ۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مثالی بنایا گیا جب کہ افغان امن عمل اور سعودی ایران تنازع میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا کے بعد دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے ۔ ایک ایٹمی قوت ہونے کے باعث بھی اسے اقوام عالم میں مسلمان ممالک میں اونچا مقام حاصل ہے ۔ پاکستان ہر معاملے میں ایک آزاد خارجہ پالیسی رکھتا ہے خاص طور پر نیوکلیائی ہتھیاروں کا معاملہ ہو یا اسلحے کی خرید و فروخت کا ۔ پاکستان کی معیشت یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اور متعدد ایشیائی ممالک کے ساتھ معاشی اتحاد اور معاہدوں کے ساتھ دنیا میں مربوط ہے ۔ اگر وزیراعظم نے خود سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے لیڈروں کو اپنا ہمنوا بنایا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ کابل، تہران، بیجنگ اور ماسکو کے دوروں میں کامیابی حاصل کی ۔ چین نے تو پاکستان کی افغان پالیسی کی کھل کر حمایت کردی ۔ روس میں بھی وزیر خارجہ کی ملاقاتیں بہت مثبت ثابت ہوئیں اور وہاں سے بھی ہ میں بہترین نتاءج کی توقع ہے ۔ اسی خارجہ پالیسی کا نتیجہ حال ہی میں پاک روس مشترکہ جنگی مشقیں ہیں ۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت ایک حقیقت ہے ۔ تاہم بلوچستان ‘مسئلہ‘ ہندوستان کا پیدا کردہ نہیں ۔ بلکہ اس کی وجہ دہائیوں پر مبنی بْری اداریاتی گورنس اور استحصال ہے ۔ پاکستان کو سفری، رابطہ کاری، اعتماد اور سیکیورٹی بلڈنگ (جس میں ریگولر جوہری اور پانی کی مینجمنٹ ہے) جیسے معاملات کے حوالے سے بات چیت اور تجاویز کی پیش کش کرنی چاہیے ۔ جواب کےلئے انڈیا کو وقت لینے دیں ۔ پاکستان اپنی مستقل مزاجی اور معقول پسندی کا دامن تھامے رکھنے سے کبھی ہار نہیں سکتا ۔ یہ بہترین خارجہ پالیسی کا ہی ثمر تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کھیلوں کی واپسی ہوئی ۔ پاکستان کو سیاحت کے لحاظ سے بہترین ملک قرار دیا گیا اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے پاکستان کےلئے ٹریول ایڈوائزری بہتر بنائی ۔