- الإعلانات -

ملکی وسائل کی لوٹ مارکرنے والوں کا احتساب ہوناچاہیے

وزیراعظم عمران خان سے ملک کے معروف صنعتکاروں پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ۔ وفد نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو میسر حکومتی سرپرستی کے مثبت نتاءج آنا شروع ہو چکے ہیں ۔ ملکی فارن ایکسچینج ریزرو کا بلند ترین سطح پر ہونا پاکستان کی معیشت میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے ۔ حکومتی معاشی ٹیم ہر وقت ان کی رہنمائی اور مسائل کے حل کیلئے دستیاب ہوتی ہے ۔ حکومتی کاوشوں سے پاکستان کا کرنٹ اکاءونٹ کا خسارے سے نکل کر سرپلس ہونا معیشت کیلئے انتہائی خوش آئند ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کا کام صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنا ہے ملکی ترقی و خوشحالی صنعتی شعبے اور کاروباری طبقے کی ترقی سے وابستہ ہے ۔ حکومتی فیصلہ سازی کے عمل میں صنعتکاروں کی تجاویز کو شامل کیا جا رہا ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے صنعتکاروں کو ایکسپورٹس میں پیش آنے والے مشکلات کو جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے صنعتکاروں سے زراعت کے شعبے میں جدت لانے اور مختلف فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے بڑے پیمانے پرکارپوریٹ فارمنگ شروع کرنے کیلئے تجاویز مانگ لیں ۔ یقیناپاکستانی معیشت خطے میں سب سے زیادہ تیزی سے ابھررہی ہے جس کاسہرامعاشی ٹیم کی مربوط حکمتِ عملی کو جاتا ہے ۔ کوروناکےخلاف اختیارکی گئی حکمت عملی کوعالمی سطح پرسراہاگیاہے اب جلدازجلد معیشت کی بہتری کے ثمرات عام ;200;دمی تک پہنچنے چاہئیں ۔ نیز عمران خان نے کہا کہ جتنے مرضی جلسے کر لیں این ;200;ر او نہیں ملے گا ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سابقہ اور موجودہ حکمران طبقات میں سے جس جس نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر لوٹ مار کی ہے اور وہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں یا رہے ہیں انکے خلاف قانون کے تقاضوں کے مطابق کارروائی عمل میں ;200;نی چاہیے ۔ احتساب کے بلا امتیاز اور بے لاگ عمل پر کسی کو اعتراض ہے نہ ہونا چاہیے تاہم اس حوالے سے قانون و انصاف کے فورموں پر ہی کارروائی ہونی چاہیے ۔ یقینادولت و وسائل کی لوٹ مار کرنیوالوں کا حساب کتاب ہونا چاہیے ۔ پی ٹی ;200;ئی حکومت کا تو ایجنڈا ہی کرپشن فری سوساءٹی کی تشکیل ہے اس لئے احساب کاعمل جاری رہناچاہیے تاکہ ;200;ئندہ کسی کو قومی دولت و وسائل کی اس طرح بے دریغ لوٹ مار کی جرات نہ ہوسکے ۔ ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں اور سیاسی کمیٹی کے بعض ارکان نے اپوزیشن کو جلسے جلوس کرنے پر لیڈروں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا مشورہ دیا تاہم وزیر اعظم نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے وہ اپنے سیاسی مخالفین کا مقابلہ سیاسی میدان میں کریگی ۔ تاہم وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے جلوس کر لے کسی کو این آر او نہیں ملے گا ۔ وزیراعظم نے کرونا کی دوسری لہر کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کرونا سے بچنے کےلئے ہ میں من حیث القوم کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اب تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی ضد ، انا اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر مکمل طور پر ایس او پیز پر عملدر;200;مد کرنا چاہئے ۔ اگر ہم نجی اور ذاتی تقریبات میں انتہائی احتیاط کر رہے ہیں تو پھر ہ میں اجتماعی معاملات میں بھی احتیاطی تدابیر پر مکمل طور پر عملدر;200;مد کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن پہلے تو پورا ملک لاک ڈاءون کرنے کی بات کرتی تھی اب وبائی صورتحال میں جلسے کرکے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے ۔ دنیا کرونا سے لڑ رہی ہے یہاں اپوزیشن کی طرف سے قوم کو تماشا بنایا جا رہا ہے ۔ پی ڈی ایم جلسے جلوس بند کرے ۔ اپوزیشن عوام دشمن ہے ۔ اپوزیشن کی تحریک سے معیشت کو نقصان ہو گا ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام اسلام ;200;باد کی پے منٹ ساءٹ کا دورہ کیا ۔ ثانیہ نشتر نے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفالت مستحقین کی تعداد 43 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ کر دی گئی ہے ۔ مزید بر;200;ں وزیراعظم عمران خان سے اسلام ;200;باد چڑیا گھر کے ہاتھی کاون کیلئے ;200;واز اٹھانے والی امریکی گلوکارہ نے ملاقات کی ۔ وزیراعظم نے کاون ہاتھی سے متعلق امریکی گلوکارہ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ کاون ہاتھی نے 35 سال تک عوام میں خوشیاں بانٹیں ۔ امریکی گلوکارہ نے صاف ستھرے سرسبز پاکستان کیلئے وزیراعظم کی کاوشوں کو سراہا ۔

آرمی چیف کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ جنگوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے دفاعی پیداوار کے شعبے میں خودانحصاری بے حد ضروری ہے اور اس کام کیلئے تکنیکی اپ گریڈیشن، جدید کاری اور داخلی وسائل سے ترقی بہت اہم ہے ۔ پی او ایف میں آمد پر چیف آف آرمی سٹاف کو ادارے کے مختلف پروڈکشن یونٹوں کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں ادارے کی جانب سے حاصل کئے گئے اہداف، آئندہ کے منصوبوں ، پائیدار پیداوار اور لاگت کو کم کرنے کیلئے جدید کاری کی منصوبہ بندی اور مسلح افواج کی موجودہ آپریشنل ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے درکار ٹیکنالوجی کے حصول کے پہلوءوں کو اجاگر کیا گیا ۔ آرمی چیف کو پی او ایف کی طرف سے قومی خزانے میں حصہ ڈالنے کیلئے برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ آرمی چیف نے ڈسپلے لاءونج کا دورہ کیا جہاں نئی تیار شدہ دفاعی مصنوعات رکھی گئی ہیں ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیداوار کو بہتر بنانے کےلئے پی او ایف کی انتظامیہ اور عملے کی تعریف کرتے ہوئے پی او ایف کو مسلح افواج کے پیچھے ایک ایسی قوت قرار دیا جو پاکستان کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے ۔ بے شک ہماری جری و بہادر عساکر پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہر محاذ پر دشمن کے دانت کھٹے کئے ہیں اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں تک نچھاور کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا ۔

بھارتی ظلم وستم،عالمی برادری مسئلہ کشمیرحل کرائے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ناءجر میں او آئی سی وزرا خارجہ کے سینتالیسویں اجلاس سے خطاب کہا ہے کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے محصور عوام مدد کےلئے او آئی سی اور امت مسلمہ کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ انہیں تکالیف سے نجات مل سکے ۔ او آئی سی ممالک سے اپیل ہے کہ وہ اپنا سیاسی ومعاشی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں مزید مظالم کرنے سے بھارت کو روکیں ۔ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہونے کے باوجود کرونا کے بدترین اثرات کی روک تھام میں کامیاب رہا ہے لیکن اس کے باوجود خطرہ ابھی ٹلا نہیں اور اس وبا کی دوسری شدید لہر ہم سب پر حملہ آور ہو چکی ہے ۔ کرونا عالمی وبا ان مشکلات میں سے محض ایک وجہ ہے جن سے امت آج برسر پیکار ہے ۔ اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے نفرت کی لہر مغرب اور دیگر جگہوں پر تیزی سے سر اٹھارہی ہے ۔ قرآن کریم کی بے حرمتی اور رسول کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس کے منافی خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے ۔ گستاخانہ خاکوں جیسی شرمناک حرکات کو آزادی اظہار کے نام پر جواز نہیں دینا چاہئے ۔ بہت سارے ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے اور ان کے برسرِ اقتدار آنے سے مسلمانوں کیلئے دشمنی اور عداوت کا ماحول بن چکا ہے ۔ اس نئے عفریت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے ۔ اس فورم سے گزارش کررہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف دانستہ اشتعال انگیزی اور نفرت پر اکسانے کو غیرقانونی قرار دینے کی عالمی مہم شروع کرنے کی ذمہ داری اس سیکرٹریٹ کو تفویض کی جائے ۔ 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے مقابلے کا عالمی دن قرار دیاجائے ۔ بھارت میں ;34;ہندوتوا;34; کی بڑھتی ہوئی لہر نے علاقائی سلامتی کو بھی خطرات سے دوچار کردیا ہے ۔