- الإعلانات -

اہل وطن اور کتنی قربانیاں چاہئیں ۔ ۵

یورپ کے دل میں مسلم ملک بوسنیا ہرزیگوینا ہے ۔ بوسنیا کے صدر علی جاہ عزت بیگ ہیں ۔ یہ علاقہ عثمانی ترکوں نے اپنی دورو حکمرانی میں فتح کیے تھے ۔ بوسینیا کے برابر عیسائی سرب ری پبلک ملک ہے ۔ صرف مسلمانوں ہونے کی وجہ سے پڑوسی سربوں نے مسلم بوسنیا پر حملے کیے ۔ جنگ چار سال جاری رہی ۔ مغرب نے اس جنگ میں سربوں کی کھل کر مدد کی ۔ مسلمانوں کی زمینیں چھین لی گئیں ۔ دو ملین لوگ ہجرت کر گئے ۔ دو لاکھ مسلمان شہید ہوئے ۔ کئی گھروں سے بے گھر کر دیے گئے ۔ بوسنیا کے مشرقی قصبے زورنک میں مسلمانوں کی اجتماعی قبر دریافت ہوئیں ، جس سے ۵۱۱;241; لاشیں نکالی گئیں ۔ کہا گیا کہ ۰۰۳ لاشیں دبائی گئی تھیں ۔ شمال مغربی بوسنیا میں ۲۶ مسلمانوں کی اجتماعی قبریں ملیں ۔ بوسنیا کے شمال مغربی ’’پریجودور‘‘ قصبے میں مسلمانوں کی ۰۱۱;241; لاشیں ملیں ۔ ریڈ کراس کے اندازوں کے مطابق سربرنیسا قتل عام کے بعد ۰۰۳۷ ;241;افرا لاپتہ ہوئے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ۲۱;241; اکتوبر ۱۰۰۲ء مسلمانوں کے خون ناحق کے تماشائی اقوام متحدہ کے سیکرٹیری جرنل کوفی عنان کو صدی کا نوبل انعام دیا گیا ۔ نیدر لینڈ نے ۶۹۹۱ء میں ایک ادارے ڈچ انسٹیٹیوٹ فار وار ڈاکومیٹیشن (این آئی او ڈی) کی ایک رپورٹ جو سات ہزار صفحات پر مشتمل ہے، کے مطابق ڈچ فوجی بھی بوسنیا کی نسلی صفایا میں شریک جرم ہیں ۔ سرب فوجوں نے بوسینیا پر مسلسل گولہ باری کر کے بوسینیا کی’’ نیشنل اینڈ یونیورسٹی لائبر یری‘‘ مکمل طور پر تباہ کر دی ۔ ۵ا;241;لاکھ کتابیں ، نادر مخبو طات اور قیمتی دستاویزات راکھ ہوگئیں ۔ تیرہویں صدی میں ہلاکونے بغدار میں بھی اتنی کتابیں نہیں جلائی تھیں ۔ اس مہذب دور کا یہ المیہ ہے کہ بوسنیا کی ہزاروں خواتین کو کیمپوں میں بند کر کے سرب عیسائی فوجی غنڈوں نے اجتماہی آبرو ریزی کی تھی ۔ یہ خواتین ایک عرصے تک قید رہیں ۔ جب ان کے بچے پیدا ہوئے تو ان کو مغربی ملکوں میں تقسیم کیا گیا ۔ (حوالہ کتاب ’’مسلم دنیا‘‘ مصنف فیض احمد شہابی) ان مظالم کے دوران جماعت اسلامی پاکستان نے بوسنیا کی خاتون سفیر، ساجدہ ساجک کو پاکستان کے کونے کونے میں بوسنیا کا مقدمہ پیش کرنے کےلئے دورے کرائے تھے ۔ ساجدہ سلاجک کو پاکستان کے مسلمانوں باری رقم جمع کر دی ۔ کراچی میں رقم الحروف بھی ایسے دوروں کے ایک پروگرام میں شریک ہوا ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد، جنگ کے دوران ایک بڑی امدادی رقم لے کر بوسنیا کے مسلمان بھائیوں کی امداد کو بوسنیا پہنچے تھے ۔ کیا پھر کوئی مسلمان گلہ کر سکتا ہے کہ جماعت اسلامی مسلمانوں کی پشتی بان نہیں ;238; وسط ایشیا میں قفقاز کے پہاڑی علاقے میں چیچنیا روس کی ایک مسلم ریاست ہے ۔ چیچنیا کے عوام روس کے زاروں ، کیمونسٹ سویٹ یونین اور رشین فیڈریشن سے چار سو سال سے آزادی کےلئے جنگ کرتے رہے ۔ لاکھوں چیچن عوام کے ساتھ ان کے مشہور و معروف کمانڈر، محمد خسو،زیلم خرا چوئے،امام شامل،زیلم خان ، جنرل جوہر دوداءف ، رمضان احمدوف، محمد سگراءف اور عربی براءف جنگ آزادی میں شہید ہوئے ۔ (حوالہ کتاب ’’ مسلم چیچنیا ‘‘ مصنف کرم اے خان )کیمونسٹ روس نے چیچنیا کی پوری آبادی کو سزا کے طور پر سائیبریا بھیج دیا ۔ سرد موسم میں کئے مر گئے اور کچھ بعد میں واپس بلالیے گئے ۔ روس نے چیچنیا میں ویکوم بم بھی استعمال کیا ۔ ویکوم بم ایٹم بم کی ایک چھوٹی قسم ہے ۔ اس کے استعمال سے ہوا میں آکسیجن ختم ہوجاتی ہے اور ہر جاندار مر جاتا ہے ۔ ریڈ کراس نے اس کی مذمت کی تھی ۔ چیچینا کے پہلے صدر جنرل جوہر دوداءف تھے ۔ یہ روسی فوج کے پہلے چیچن مسلم جنرل جوہر ددواءف ،جو امام شامل کے پوتے ہیں ۔ اس نے چیچنیا کی آزادی کےلئے روس سے جنگ لڑی ۔ جنرل جوہر دوداءف کو روس نے ایک سازش کے تحت سیٹ لائیٹ پریس کانفرنس پر بلایا گیا ۔ پریس کانفرنس کے دوران ریڈیو فریکئنسی کے ذریعے میزائل داغ کر روس نے شہید کیا تھا ۔ اس کے بعد نائب صدر زیلم خان یندربی چیچنیاکے صدر منتخب ہوئے ۔ زیلم خان نے چیچنیا میں ۶۹۹۱ء میں پرانے قوانین ختم کر کے باقاعدہ طور پر شریعت نفاذ کر دی ۔ زیلم خان برسوں روسیوں سے لڑتے رہے ۔ بلا آخر زیلم خان کو روس نے جلا وطن کر دیا ۔ زیلم خان کوکویت میں جلاوطنی کے دوران روسی خفیہ ایجنسی نے شہید کر دیا ۔ چیچنیا کے صدر زیلم خان پاکستان تشریف لائے تھے ۔ جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ مل کر روس کے مظالم کی داستان پاکستانی عوام کے سامنے پیش کی ۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں یہ صرف جماعت اسلامی تھی کہ جس نے پاکستانی عوام کو اپنے چیچن مسلمان بھائیوں سے آگاہ کرنے کے جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کیں ۔ چیچنیا کے صدر زیلم خان کوپورے پاکستان کے دورے کرائے ۔ کراچی کے ایک دورے کے پروگرام میں راقم الحروف بھی شریک ہوئے ۔ جماعت اسلامی نے پاکستانی عوام سے چیچنیا کے مظلوم کی امداد کی اپیل کی ۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ کی طرح اپنے مسلمان بھائیوں کی دل کھول مددکی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی جماعت اسلامی ہی پشتیبان بنی ۔ یہ جماعت اسلامی کی قربانیاں جس پر اسلامی دنیابجا طور پر دنیا فخر کر سکتی ہے ۔ ایران ہمارا پڑوسی مسلمان ملک ہے ۔ اگر ایران کے انقلاب کی بات کی جائے توخمینی;231; یکم فروری ۹۷۹۱ء کو فرانس سے تہران پہنچے ۔ خمینی ;231;کے ایران آنے پرپورا ایران لا شرقیا لا غربیا ۔ ۔ اسلامی اسلامیا اسلامی کے فلک شگاف نعروں سے گونجنے لگا ۔ شاعرِ اسلام حضرت علامہ شیخ محمد اقبال;231; نے کیا صحیح فرمایا ہے کہ: ۔

سلطان جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

ایران میں اُس وقت ڈاکٹر شاہ پور بختیار وزیر اعظم تھے ۔ اس نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا ۔ خمینی;231; نے۵;241; فروری کو ڈاکٹر مہدی بارزگان کو اپنی طرف سے وزیر اعظم مقرر کر دیا ۔ فوج نے شاہ پور بختیار کو یقین دلایا تھا کہ وہ خمینی;231; کے ساتھ سمجھو نہیں کریگی ۔ ایئر فورس نے بغاوت بھی کی ۔ پاسدان انقلاب نے ان کو جواب دےدیا ۔ فوج کے جنرنوں نے محسوس کیا کہ عافیت اسی میں ہے کہ فوج کوواپس بارکوں میں بلا لیا جائے ۔ شاہ پور بختیار کی حکومت کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے ۔ پھر شاہ پور بختیار ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر چل دیے ۔ (حوالہ کتاب ’’انقلاب ایران‘‘ مصنف سبط حسن) بہر حال ایران کے اسلامی انقلاب کو مستحکم کرنے کے بعد اپنے اسلامی انقلاب کی حمایت حاصل کرنے کےلئے اپنے دو نمائیدے پاکستان میں اپنے شیعہ فرقے کے لوگوں کے بجائے سید ابو الاعلیٰ مودودی;231; کی جماعت اسلامی کے پاس بھیجے تھے ۔ جماعت اسلامی نے پاکستان کے مختلف شہروں میں پروگرام ترتیب دیکر پاکستانی عوام میں انقلاب ایران کی مدد کی تھی ۔ کراچی کے ایک ایسے ہی پروگرام میں راقم الحروف کو شرکت کا موقع ملا تھا ۔ گوکہ ایران ایک اہل تشیع حکومت ہے ۔ مگرخمینی;231; نے اتحاد بین المسلمین کےلئے ایک کوشش کی تھی ۔ ایران کے انقلاب کو شیعہ انقلاب کے بجائے اسلامی انقلاب کہا ۔ اسی بنیادپر دوسرے اسلامی ملکوں سے حمایت چاہی تھی ۔ مگرخمینی;231; کے بعد اس کے جانشینوں نے اسلامی انقلاب کو شعیہ انقلاب میں بدل دیا ۔ بعد میں اپنے شعیہ اثرات پھیلانے کےلئے دیگر مسلم ملکوں میں شعیہ اقلیتوں کو اسلحہ تک فراہم بھی کیا ۔ جو آج یمن، شام اور عراق میں اور دوسرے مسلم اکثریتی ملکوں میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ جماعت اسلامی نے تو خمینی;231; کے اسلامی انقلاب کی حمایت کرکے اپنی اتحاد بین ا لمسلمین پالیسی کی توثیق کی تھی ۔ کچھ بھی ہو تاریخ اسلام میں یہ جماعت اسلامی کی اتحاد بین المسلمین کےلئے قربانی ہی تسلیم کی جائےگی ۔ باقی آئندہ ان شاء اللہ ۔