- الإعلانات -

وزیراعظم کی ملاقاتیں ۔۔۔اہم فیصلے اورہدایات

کورونا ایس او پیزکے حوالے سے اس وقت حکومتی صفوں سے بھی آوازیں آناشروع ہوگئی ہیں ،فیصل واوڈانے بھی اسدعمر کی کراچی میں ہونیوالی تقریب پراعتراض کیا، ظاہر ہے کہ قانون سب کےلئے برابر ہوناچاہیے اگراپوزیشن کو پابندکیاجارہاہے تو حکومتی ایوانوں میں بھی اس پابندی کا اطلاق ہوناچاہیے ۔ ملتان کاجلسہ ہوگیاحکومت روکتی رہی لیکن اپوزیشن ڈٹی رہی، وزیرخارجہ نے بھی کہاکہ اس جلسے کو مس ہینڈل کیاگیا اگریہ کہنہ قلعہ قاسم باغ میں پہنچ جاتے تو ان کی اصلیت سامنے آجاتی ۔ نیزانہوں نے گرفتاریوں پربھی کہاکہ ان کاکوئی جواز نہیں بنتا ۔ اب حکومت کےلئے وقت ہے کہ وہ کم ازکم اپنے ہی بندو ں سے مشورے کے بعد فیصلے کرے یہ باتیں اس چیز کی غماز ہیں کہ معاملات مشاورت کے بغیرچل رہے ہیں گوکہ وزیراعظم نے کہاہے کہ معیشت سے متعلق تازہ اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں ، کورونا سے زندگیاں بچانا پہلی اور معیشت کو اوپر اٹھانا دوسری ترجیح ہے، مکمل لاک ڈاءون کے نعرے مارنے والے کورونا ایس او پیز کو بلڈوز کر رہے ہیں ۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں درست سمت میں ;200;گے بڑھ رہی ہیں ، سرمایہ کاروں اور بزنس کمیونٹی نے بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے، معاشی بہتری اور کورونا سے بچاو کیلئے حکومتی کوششوں کو ریورس نہیں ہونے دیں گے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،غریب ممالک سے پیسوں کی غیرقانونی منتقلی پسماندگی اور غربت کی بنیادی وجہ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان سے ڈاکٹر شاہد کاردار نے بھی ملاقات کی ۔ ملاقات میں منی لانڈرنگ کی روک تھام، لوٹی ہوئی رقم کے واپسی کیلئے اقدامات اور مجموعی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک سے پیسوں کی غیرقانونی منتقلی پسماندگی اور غربت کی بنیادی وجہ ہے، لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو پورٹس کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ;200;گاہ کیا ۔ ملاقات میں وزیراعظم کامیاب جوان پروگرام کے اشتراک سے ماہی گیروں کو ;200;سان ترین شرائط پر قرضے دینے اور کراچی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، وزیر اعظم نے ماہی گیروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خوشحالی کیلئے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی ۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیرات سے روزگار کے مواقع ملیں گے اور معیشت مستحکم ہوگی ۔ وزیر اعظم نے کہا کے تعمیرات سے روزگار کے مواقع ملیں گے اور معیشت مستحکم ہوگی ۔ وزیر اعظم نے تعمیرات کے عمل میں ماحولیاتی تحفظ کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہر منصوبے کا ماحولیاتی تجزیہ قانون کے مطابق ضروری ہے اور اس ضمن میں حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت موجودہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو مزید فعال اور بہتر بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس ہو ا ۔ وزیراعظم نے وزارتِ داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کی سرپرستی میں بارڈر مینجمنٹ سسٹم کیلئے ایک خصوصی ڈویژن بنانے اور تمام متعلقہ اداروں کو بروقت انفارمیشن;47; ڈیٹا شیئرنگ کی بھی ہدایت کردی ۔ حکومت ;200;زاد لیکن محفوظ بارڈرز پر یقین رکھتی ہے ، بارڈرز کو محفوظ بنانے کیساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ نیزوزیر اعظم سے مشیر تجارت عبدالرزاق داءود نے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے بر;200;مدات کے فروغ کےلئے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ قائم کرنے کی اصولی منظوری دی ۔ قبل ازیں وزیراعظم سے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ملاقات کی، ملاقات میں سیاسی، معاشی اور پارلیمانی امور سمیت قانونی و ;200;ئینی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

پاک چین تعاون بے مثال

پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند،شہدسے میٹھی اورسمندرسے گہری ہے ،ہرمشکل وقت میں دونوں ممالک ا یک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھاملاکرکھڑے رہے، آج سی پیک کامنصوبہ بھی اسی دوستی کاواضح ثبوت ہے ۔ یہ منصوبہ خطے کے لئے گیم چینجرثابت ہوگا ۔ اس وقت دیگردنیاکی بھی خواہش ہے کہ وہ اس منصوبے میں شریک ہو ۔ خطے کی بدلتی صورتحال اوردنیا کی معیشت کے پیش نظر پاکستان اورچین انتہائی کلیدی حیثیت کرگئے ہیں ۔ گزشتہ روزآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے دورے پر آئے چینی وزیر دفاع وائی فنگ سے ملاقات کی ۔ دونوں رہنماءوں کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور دفاعی تعاون بڑھانے کیلئے ایم او یو پر دستخط بھی کئے گئے ۔ ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی ۔ معزز مہمان نے علاقائی امن اور استحکام کے قیام میں پاک فوج کے پرخلوص کردار کو سراہا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز پر پاکستان کی غیر متزلزل سپورٹ کرنے پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا ۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج چین کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے ۔ ہم ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مستقبل کے چیلنجز کے باوجود ہمارے تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی وزیر دفاع وائی فنگ کی جی ایچ کیو آمد پر انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ چینی وزیر دفاع نے یادگار شہدا پھولوں کی چادر بھی چڑھائی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعد ازاں پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے کیلئے ایم او یو پر دستخط کیے گئے ۔

اوآئی سی میں قرارداد کی منظوری کے بعدبھارت بوکھلا گیا

اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے بھی بھارت ذلیل وخوارہورہاہے اس کامکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے اب وہ بوکھلاہٹ کی وجہ سے ٹامک ٹوئیاں ماررہاہے لیکن دنیا اس کے ظلم وستم کو جان چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اب وہ زیادہ دیرتک قابض نہیں رہ سکے گا وہ وقت دورنہیں جب کشمیری انشاء اللہ آزادی کی نویدسنیں گے ۔ اسلامی تعاون تنظیم کے مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں غیرآئینی اقدامات کی مذمت اور انھیں واپس لینے کیلئے قرارداد پر بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کاشکار ہوگئی،بھارت نے دعویٰ کیا کہ قرارداد میں غلط حقائق ،بے بنیاد اورغیر ضروری حوالہ جات دیئے گئے بھارتی وزارت خارجہ نے اپنی خفت مٹانے کیلئے بیان جاری کیا ہے ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیان سے کشمیر کے بارے میں او آئی سی کے سخت اعلامیے پر مودی حکومت کی بوکھلاہٹ اور مایوسی کا اظہار ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ اوآئی سی اجلاس میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کےلئے بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کے بعد کئے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو قطعی طور پر مسترد کیا گیاہے اور بھارت سے مطالبہ کیاگیاہے کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات کو واپس لے ۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم وزرائے خارجہ کونسل کے افتتاحی سیشن میں جموں و کشمیر کا تنازعہ اجاگر کرنے پر وزرا ئے خارجہ کونسل کے نئے چیئرمین نائیجر، سعودی عرب اور ایشین گروپ میں ترکی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں ، پاکستان اعلامیہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پرامن تصفیہ کیلئے جموں و کشمیر تنازعہ پر او آئی سی کے اصولی موقف کے واضح اعادہ پر بھی شکرگزار ہے ۔ پاکستان امت مسلمہ میں اتحاد ، امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے او آئی سی کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تعمیری رابطوں اور کام کیلئے تیار ہے ۔