- الإعلانات -

افراط زر ۔ ۔ ۔ !

اللہ رب العزت کا عظےم احسان ہے کہ ہ میں پاکستان جےسا خوبصورت اور قدرتی دولت سے مالامال ملک عطا کیا ۔ ہم اللہ رب العزت کا جتنا بھی شکر ادا کرےں ،وہ کم ہے ۔ الحمد اللہ پاکستان کے لوگ بھی محنتی اور جفاکش ہیں ۔ وطن عزےز پاکستان میں چار موسم اور بارہ مہےنے ہیں ۔ ہر مہینے کا اپنا اثر اور مزاج ہے جوکہ بہت اہمےت کا حامل ہے ۔ وطن عزےز پاکستان میں تقرےباً ہر قسم کی پھل ، سبزےاں اور فصلیں پیدا ہوتی ہیں ۔ ہمارے ملک میں معدنےات کے وسےع ذخائر موجود ہیں ۔ پاکستان میں سمندر، درےا، پہاڑ اور میدان سب موجود ہیں ۔ ہمارے لوگوں میں اپنے ملک کی چاہت، اپنے وطن سے پیار اور دھرتی سے محبت کا جذبہ موجود ہے ۔ سب چےزےں موجود ہونے کے باوجود ہمارا ملک پسماندہ ہے اور ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری زےادہ ہے لیکن پسماندگی ، مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کا حل موجود ہے ۔ اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوق پیدا کیا ہے ۔ حضرت انسان ہر چےز کو ممکن بنا سکتا ہے لیکن اس کے لئے دو جذبات ناگزےر ہیں ، (الف )محنت ،(ب ) اخلاص ۔ اگر آپ کے پاس محنت اور اخلاص جےسے جذبات موجود ہیں تو آپ ہر منزل کو پاسکتے ہیں اورہر ٹارگٹ کو حاصل کرسکتے ہیں ۔ آپ کامےاب اور کامران ہوسکتے ہیں ۔ وطن عزےز پاکستان میں افراط زر سے حکومت اور عوام دونوں پرےشان ہیں ۔ چےزوں کی قےمتیں بڑھتی ہےں تو اسے افراط زر ےا مہنگائی کہتے ہیں ۔ مجموعی اشےاء کی اوسط قےمت بڑھ جانے سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ افراط زر میں اضافے کی دو وجوہات ہوتی ہیں ۔ (الف ) کاسٹ پش انفلیشن ، (ب)ڈےمانڈ پش انفلیشن ۔ خام مال کی قےمت ےا اجرت زےادہ لگے تو اس کا خرچہ زےادہ ہونے کی وجہ سے قےمت میں اضافہ ہوجاتا ہے،اس کو کاسٹ پش انفلیشن کہتے ہیں ۔ مارکیٹ میں مال کم ہو لیکن خرےدار زےادہ ہوں ۔ بعض گاہک زےادہ رقم دےنے کو تےار ہوں ،اس کو ڈےمانڈ پش انفلیشن کہتے ہیں ۔ ہمارے ملک کی برآمدات اوردرآمدت میں بہت تفاوت پاےا جاتا ہے،اس سے بھی افراط زر میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ کرےں اور درآمدات میں کمی کرےں ،اےسا حکومت اور عوام کر سکتی ہے ۔ اس کےلئے سب سے پہلے کاسٹ پش انفلیشن پر توجہ دینی چاہیے ۔ حکومت نے صنعتوں پر ٹےکسوں کا بوجھ لاددےا ہے ۔ لاتعداد مسائل اور اخراجات کی وجہ سے پےداواری لاگت بڑھ جانے سے تےار مصنوعات مہنگی ہوجاتی ہیں جبکہ عالمی لیول پر مقابلہ کرنے کےلئے مصنوعات کا سستا ہونا ضروری ہے ۔ سعی کرنی چاہیے کہ مصنوعات کی تےاری پر کم لاگت آئے ۔ اس کےلئے ہمارے پاس پڑوسی دوست ملک چےن کی مثال موجود ہے اور ان کے فارمولے پر عمل کےا جاسکتا ہے ۔ آپ صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کرےں ۔ صنعت کاروں کو بجلی و دےگر توانائی کے ذراءع کی قےمتوں اور ٹےکس میں رےلےف دےں ۔ اگر آپ صنعتوں کو کم قےمت پر بجلی دےں گے تو مصنوعات پر لاگت کم آئے گی ۔ ہر نئی فےکٹری پر پہلے پانچ سال کےلئے ٹےکس معاف کرےں ۔ اس سے صنعت کاروں کے حوصلے میں اضافہ ہوجائے گا اور وہ وطن عزےز میں مزےد فےکٹرےاں لگائےں گے ۔ فےکٹرےاں اور کارخانے لگانے کے متعدد فائدے ہیں ،ان میں نماےاں درج ذےل ہیں ۔ (الف )بے روزگاری کم ہوجائے گی ۔ ( ب) ملک میں مصنوعات زےادہ تےار ہوں گی ۔ (ج)درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا ۔ (د)زر مبادلہ بچا سکیں گے ۔ (ر) پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا ۔ (ز)لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا ۔ (س)مہنگائی پر کنٹرول ہوجائے گا ۔ (ش) لوگ خوشحال ہوجائےں گے ۔ (ص)ڈےمانڈ پش انفلیشن کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوگا کیونکہ ہر چےز وافر مقدار میں موجود ہوگی ۔ علاوہ ازےں پاکستان بنےادی طور پر زرعی ملک ہے،اس لئے صنعتوں کے ساتھ ساتھ زراعت پر توجہ دےنی چاہیے ۔ وطن عزےز پاکستان میں ذرخےز زرعی زمینوں کو ہاءوسنگ اسکیموں کے نذر نہیں کرنا چاہیے ۔ گذشتہ بےس سالوں سے لاکھوں اےکٹر زرخےز زمین ہاءوسنگ اسےکموں کے نذر ہوچکی ہے اور اس میں مزےد اضافہ ہورہا ہے ۔ ہاءوسنگ اسکیموں کی وجہ سے وطن عزےز پاکستان میں ذرخیز زرعی زمین سکڑرہی ہے ۔ اس سے پاکستان اور نئی نسل کےلئے گمبھےر مسئلہ بنے گا اور اس سے پاکستان کا مستقبل تارےک ہوسکتا ہے ۔ اس مسئلے کا حل ےہ ہے کہ (الف) ہاءوسنگ اسکی میں اور صنعتےں زرخےز زرعی زمینوں کی بجائے بنجر زمینوں پر قائم کرنی چاہیےں ۔ (ب)جو لوگ ہاءوسنگ اسکیموں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ےا ان سے روزگار وابستہ ہے، وہ اپنا سرماےہ صنعتوں میں لگائےں اور اس سے متعلقہ دےگر افراد صنعتوں سے وابستہ ہوجائےں ۔ (ج)حکومت زرعی زمےنوں پرہاءوسنگ اسکیموں پر قدغن لگائے ۔ (د)حکومت ہاءوسنگ اسکیموں اور پلاٹوں ےا زمینوں کی خرےد و فروخت آن لائن کرائے ۔ (ر)ہاءوسنگ اسکیموں کےلئے حکومت کی اجازت مشروط کی جائے کیونکہ وطن عزےز میں بڑی تعدا د میں غےر قانونی ہاءوسنگ اسکی میں ہیں جوکہ حکومت اور عوام کےلئے وبال جان ہیں اور ان میں سہولےات کا فقدان ہے اور لوگوں کو کافی مسائل درپیش ہیں لہذا حکومت قانونی ہاءوسنگ اسکیموں کے چےک اےنڈ بےلنس کےلئے سسٹم بنائے ۔ جن قوموں کے افراد اپنی ذاتی مفادات تک محدود رہتے ہیں ، وہ قو میں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں لہذا ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو ترجیج دینی چاہیے ۔ صنعتوں اور زراعت کے ساتھ عوام کومحب الوطنی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے میڈان پاکستان کی اشےاء خرےدنی چاہئیں ۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ عوام ہر صورت میں اپنی ملکی مصنوعات استعمال کرےں ۔ اس سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا ۔ جب عوام اپنے ملک میں بنی اشےاء خرےدےں گے تو پیداوار میں اضافہ ہوگا ۔ جب پیداوار میں اضافہ ہوگا تو صنعت کار مزےد سرمایہ کاری کرےں گے ۔ نئے کارخانوں کے قےام سے روزگار میں اضافہ ہوگا ۔ اس سے بےروزگاری اور غربت میں کمی ہوگی ۔ غربت اور بے روزگاری سے لوگ پرےشان اور نالاں ہیں ۔ زےادہ تر بے روزگار نوجوان جرائم کی طرف راغب ہوجاتے ہیں ۔ جرائم کے اضافے سے معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے ۔ جب معاشرہ تباہی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے تو امےر اور غرےب سب اس کی لپےٹ میں آجاتے ہیں ۔ آخر میں ےہ سونامی کی شکل اختےار کرلےتا ہے اور پھر بچنا محال ہوجاتا ہے ۔ موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف صدا بلند کررہی ہے لیکن گذشتہ دوسالوں میں وطن عزےز پاکستان میں کرپشن میں مزےداضافہ ہوچکا ہے ۔ ہر شخص دوسرے کا احتساب اور اصلاح چاہتا ہے لیکن اپنی گرےبان میں نہیں جھانکتا ہے ۔ اگر ہرشخص اپنی گرےبان میں جھانکے اور اپنی اصلاح کرے تو ہمارا معاشرہ کرپشن اور جرائم سے پاک ہوسکتا ہے ۔ علاوہ ازےں خاکسار اس کالم کے توسط سے پاکستانی افسر شاہی سے اپیل کرتا ہے کہ آپ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کےلئے کلیدی رول ادا کرےں ۔ آپ مہنگائی ، بے روزگاری اورپسماندگی کا قلع قمع کرسکتے ہیں ۔ آپ اپنی رواےتی انداز اورطور طرےقے کو ترک کریں ۔ آپ ذاتی مفادات کی بجائے وطن عزےز کی مفادات کو مد نظر رکھےں ۔ اگر آپ محنت اوراخلاص سے کام کرےں تو پاکستان اور ان کی باسےوں کی تقدےر بدل سکتی ہے ۔ اسی طرح ہر ملازم اور ہر شہری کا فرض ہے کہ ملک و ملت کےلئے مثبت رول ادا کرےں ۔ اپنے ملک میں بنی اشےاء کی خرےد وفروخت کرےں اور اپنے صنعتوں کا پہیہ تےز کرےں ۔ پاکستانی روپیہ کی قدر میں اضافے کےلئے کوشش کرےں اور افراط زر پر کنٹرول کےلئے سعی کرےں ۔ آپ کی کاوشوں سے وطن عزیز پاکستان میں سبھی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ جےسے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال;231; نے فرماےا کہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدےر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ